بریکنگ نیوز
Home / کالم / عالمگیر آفریدی / مہمند ایجنسی کا اندوہناک واقعہ

مہمند ایجنسی کا اندوہناک واقعہ


کوئٹہ اورمردان کی کچہریوں میں ہونے والے مبینہ خودکش بم دھماکے ہونے تک رواں سال کو پچھلے سالوں کی نسبت قدرے پرامن قرارد یا جارہاتھا اورحکمرانوں سمیت تمام سٹیک ہولڈرز امن کی بحالی کاکریڈٹ لینے کاکوئی موقع بھی ہاتھ سے جانے نہیں دے رہے تھے لیکن جب سے دہشت گردی کانیا سلسلہ شروع ہوا ہے اورپچھلے چند ہفتوں کے دوران خیبرپختونخوا اورملحقہ قبائلی علاقوں میں ٹارگٹ کلنگ کے بعض واقعات کے علاوہ پولیس گاڑیوں پرحملے شروع ہوئے ہیں تب سے پورے صوبے میں امن وامان کے حوالے سے بے چینی کی ایک نئی لہر دیکھنے میں آرہی ہے۔ گزشتہ جمعۃ المبارک کو جب سے مہمند ایجنسی کی تحصیل امبار کے گاؤں پائی خان میں واقع ایک جامع مسجد کو تخریب کاری کانشانہ بنایاگیاہے تب سے عوامی حلقوں میں یہ بحث ایک بارپھر چھڑ گئی ہے کہ ملک کی عام آبادی دہشت گردوں کے حملوں سے کتنی محفوظ ہے اور یہ کہ آخر اس بڑھتی ہوئی بدامنی کانتیجہ کیانکلے گا۔ مہمند ایجنسی میں ہونے والے دہشت گردی کے تازہ واقعے میں 36بے گناہ نمازیوں کی شہادت اوردودرجن سے زائد کے زخمی ہونے کاواقعہ کوئی معمولی واقعہ نہیں ہے۔ اس سانحے نے پلک جھپکتے میں درجنوں گھروں کو اجاڑ دیاہے جن میں وہ بدقسمت چارگھرانے بھی شامل ہیں جن کے تمام مرد اس حادثے کی نذر ہوچکے ہیں اوراب ان گھروں میں کمانے والاکوئی بالغ فرد موجود نہیں ہے۔ رواں سال کے دوران کسی عبادت خانے پرکیاجانے والادہشت گردی کایہ پہلا حملہ ہے جس میں عام بے گناہ لوگوں کو نشانہ بنایاگیاہے۔

تحریک طالبان پاکستان سے وابستہ جماعت الاحرار نامی کالعدم شدت پسند تنظیم کے ترجمان احسان اللہ احسان نے میڈیاکو جاری کئے گئے ایک برقی بیان میں مہمند ایجنسی خودکش دھماکے کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے کہاہے کہ جماعت الاحرار کے ملک بھرمیں جاری الرعد آپریشن کے تحت سکیورٹی فورسز، حکومتی حکام اور امن کمیٹیوں کونشانہ بنانے کاسلسلہ نہ صرف جاری رہے گا بلکہ آنے والے دنوں میں اس سلسلے کومزید وسعت دی جائیگی۔ احسان اللہ احسان کی جانب سے جاری کئے گئے مذکورہ بیان میں کہاگیاہے کہ مہمند خود کش حملہ جماعت الاحرار کے ایک فدائی نے کیاہے جس کانشانہ پائی خان نامی ا س گاؤں کی امن کمیٹی کے بعض ممبران تھے ۔طالبان کے مہمند ایجنسی کے اس تازہ حملے کی ذمہ داری قبول کرنے اوراسی طرح کے مزید حملے جاری رکھنے کے اعلان نے عام شہریوں کی امن وامان کے حوالے سے تشویش میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔ دہشت گردی دراصل ایک مائنڈ سیٹ کانام ہے۔ ہمیں ٹھنڈے دل ودماغ سے ان اسباب کاجائزہ لینا ہوگا جو دہشت گرد اور دہشت گردی پیدا کرنے کاباعث بنتے ہیں۔ دہشت گردی سے ہمارے معاشرے کو پہنچنے والے نقصانات کی گہرائی اور اثرات کومدنظر رکھتے ہوئے پاکستان کے متعلق ا سکے دشمن ممالک کے پاکستان دشمن عزائم اور ایجنڈے کو بھی ہر گز نظر انداز نہیں کرنا چاہیے۔

بلوچستان اورکراچی کے بدامنی کے واقعات میں بھارتی خفیہ ایجنسی را کے ملوث ہونے کے ناقابل تردید ثبوت سامنے آنے نیز پاک فوج کے سربراہ جنرل راحیل شریف کے پچھلے چند دنوں کے دوران ایک سے زائد بار بھارت کو ا سکے پاکستان مخالف اقدامات اور عزائم پر شٹ اپ کال دینے کے تناظر میں انتہا پسند بھارتی حکمرانوں سے یہ توقع رکھنا کہ وہ پاکستان کو زک پہنچانے کاکوئی بھی موقع ہاتھ سے جانے دیں گے خودکو دھوکہ دینے کے مترادف ہوگا۔ مقبوضہ کشمیر کی بگڑتی ہوئی صورتحال اوروہاں شرو ع ہونے والی آزادی کی تازہ تحریک نے بھارتی سورماؤں کو جس پریشانی میں مبتلاکررکھا ہے بھارت اس پریشر کو ریلیز کرنے اور ا س جدوجہد کو کاؤنٹر کرنے کے لئے بھی پاکستان میں تخریب کاری اور دہشت گردی کاکوئی موقع یقیناًہاتھ سے جانے نہیں دے گا۔