بریکنگ نیوز
Home / پاکستان / میٹروبس پر اربوں کی سبسڈی اور عوام بھوک سے مررہے ہیں، خورشید شاہ

میٹروبس پر اربوں کی سبسڈی اور عوام بھوک سے مررہے ہیں، خورشید شاہ


اسلام آباد۔قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف سید خورشید شاہ نے کہا ہے کہ وزیراعظم پارلیمنٹ میں آنے کو تیار نہیں ہیں،پتہ نہیں کہ وہ پارلیمنٹ سے بے زار کیوں ہیں جبکہ پاکستان پیپلزپارٹی کے وزیراعظم ایوان میں موجود ہوتے تھے،اگر پارلیمنٹ میں وزیراعظم اور وزراء نہ آئیں تو حکومتی اراکین کیوں آئیں،موجودہ حکومت جب اپوزیشن میں تھی تو انہوں نے اربوں روپے سستے تندوروں پر خرچ کردئیے تھے،پنجاب میں انڈسٹری کیلئے لوڈشیڈنگ نہیں ہوتی لیکن سندھ،بلوچستان اور خیبرپختونخوا میں لوڈشیڈنگ موجود ہے،لاہور میں اورنج لائن ٹرین کیلئے12سے13ارب روپے اور میٹرو کیلئے ایک ارب روپے کی سبسڈی دی جارہی ہے لیکن عوام بھوک سے مر رہے ہیں،وزیرتجارت نے 60غیر ملکی دورے کئے ہیں جبکہ سرتاج عزیز کبھی کبھی اسمبلی میں تشریف لاتے ہیں۔

پنجاب کو پانی مل رہا ہے لیکن سندھ پانی سے محروم کیوں ہے،سندھ کو1.27اور پنجاب کو40.68 کیوبک فٹ پانی ملتا ہے۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے بدھ کے روز قومی اسمبلی کے اجلاس کے دوران کیا۔قومی اسمبلی میں اپوزیشن کا وزیراعظم نوازشریف کا ایوان کو نظرانداز کرنے اور وفاقی وزراء کی عدم حاضری،وفاق کی جانب سے صوبوں کو پانی کی برابری کی سطح پر تقسیم نہ کرنے پر احتجاجاً ایوان سے علامتی واک آؤٹ۔

خورشید شاہ نے کہا ہے کہ پیپلزپارٹی کے دور میں فصلوں کے ریٹ اب سے بہتر تھے،لیکن موجودہ حکومت قرضے لینے کے چیمپئن ہیں،8000ارب روپے قرضہ لیا گیا ہے پاکستان کے بنکوں سے ریکارڈ قرضہ لیا گیا ہے،جب آپ اپوزیشن میں تھے تو اربوں روپے سستے تندوروں پر خرچ کردیتے اور دانش سکول ویران پڑے ہیں،پنجاب میں انڈسٹری کیلئے لوڈشیڈنگ ختم لیکن سندھ ،بلوچستان اور خیبرپختونخوا میں لوڈشیڈنگ موجود ہے۔میٹرو،اورنج ٹرین پر لاکھوں روپے خرچ کئے جارہے ہیں لیکن عوام بھوک سے مر رہی ہے،لوگ فٹ پاتھ پر سو رہے ہیں اور کہتے ہیں کہ لاہور ترقی کرگیا ہے،اورنج ٹرین پر12سے13ارب روپے لگائیں گے اور میٹرو پر ایک ارب روپے سبسڈی دے رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ 60غیر ملکی دورے وزیر تجارت نے کئے ہیں،سرتاج عزیز کبھی کبھی اسمبلی میں آتے ہیں،پاکستان چار صوبوں کی اکائی ہے جس کے چار صوبے ہیں،خیبرپختونخوا کو ہم نے شناخت دی ہے،جن کو پنجاب حکومت گرفتار کر رہی ہے لیکن بلوچ پنجاب میں نہیں جاتا۔

انہوں نے کہا کہ پنجاب بھی میرا صوبہ ہے لیکن فیڈریشن کو کمزور کیا جارہا ہے،روز منصوبوں کے افتتاح کر رہے ہیں لیکن ان لوگوں کو دیکھیں جن کو روٹی نہیں مل رہی،کسانوں کو دیکھیں جن کو پانی نہیں مل رہا۔انہوں نے کہا کہ وزیراعظم گزشتہ روز ایوان میں آئے لیکن پھر چلے گئے ان کو ایوان سے بیزاری کیوں ہے اور وزیراعظم پارلیمنٹ میں آنے کو تیار نہیں ہے،آپ نے اعلان کیا کہ سستی روٹی اور روزگار دیں گے اور ہر گھر میں تعلیم دیں گے،ملک سے اندھیرے ختم کریں گے،آج پانامہ پر بات ہورہی ہے،20کروڑ عوام کی نظریں پانامہ پر لگی ہوئی ہیں،دعا کرو کہ آئل کی قیمتیں گر گئیں جس کا فائدہ عوام کو نہیں دیا گیا،سندھیوں نے پاکستان بنایا اور سندھ ہی رو رہا ہے اور آج سندھ میں پانی نہیں ہے،بھارت کو مجبور کیا جائے کہ وہ ہمارا پانی دے،چھوٹے صوبوں کے پاس کیا لیکر جائیں گے،ٹیوب ویل سے 2.8 بلین ہیکٹر کو پانی ملتا ہے،سمندر سے ہم پاکستان کو چلاتے ہیں،کڑوا پانی ہم پیتے ہیں لیکن پاکستان کو چلاتے ہیں،سندھ0.36اور بلوچستان.03بلین ہیکٹر ہے،1.27 سندھ کو جبکہ پنجاب کو 40.68 کیوبک فٹ پانی ملتا ہے،جس پارلیمنٹ میں وزیراعظم اور وزراء نہ آئیں تو وہاں میں حکومتی اراکین کیوں آئیں جبکہ پیپلزپارٹی کا وزیراعظم موجود ہوتا تھا،اب الیکشن آرہا ہے اب عوام کے پاس جائیں گے اور کہیں گے کہ ہمیں ووٹ دے دو پھر آپ کو روٹی اور پانی اور تعلیم دوں گا،آج کا غریب سمجھدار ہے وہ جو فیصلہ کرے گا وہ پاکستان کیلئے کرے ۔