بریکنگ نیوز
Home / پاکستان / غیر قانونی تقرریاں اور ترقیاں کیس:سپریم کورٹ نے چیئرمین نیب کو طلب کرلیا

غیر قانونی تقرریاں اور ترقیاں کیس:سپریم کورٹ نے چیئرمین نیب کو طلب کرلیا


اسلام آباد۔ سپریم کورٹ نے نیب میں غیر قانونی تقرریوں اور ترقیوں سے متعلق از خود نوٹس کیس میں چیئرمین نیب کوآئندہ پیر کو ذاتی حیثیت میں طلب کرتے ہوئے تعلیمی قابلیت پر پورا نہ اترنے والے نو افسران سے متعلق تفصیلی رپورٹ طلب کرلی ہے ۔ دوران سماعت جسٹس امیر ہانی مسلم نے ریمارکس دیئے کہ نیب میں غیر قانونی طریقے سے بھرتی ہونے والے افسران کو گھر بھیجیں گے ۔ بدھ کو کیس کی سماعت جسٹس امیر ہانی مسلم کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے کی ، دوران سماعت سیکریٹری اسٹیبلشمنٹ ڈویژن طاہر شہباز نے نیب افسران کی تعیناتی اور ترقیوں کی رپورٹ پیش کرتے ہوئے کہا کہ عدالت کے اعتماد پر پورا اترنے کی کوشش کی ہے 2000 سے اب تک نیب میں ہونے والی تعیناتیوں کا جاہزہ لیا ہے ،نیب کے ریکارڈ سے 1700 کیسز کو جانچاہے ،نیب کے اپنے ریکارڈ سے ہی بے ضابطگیاں ثابت ہوئیں ہیں ، ذاتی رائے کے بجائے حقائق سامنے لائے ہیں جس پر جسٹس امیر ہانی مسلم نے ریمارکس دیے کہ سیکرٹری اسٹیبلشمنٹ نے رپورٹ میں افسران کیلئے بہت نرم الفاظ استعمال کیے جبکہ انکا یہ بھی کہنا تھا کہ غیر قانونی کو غیر قانونی ہی کہا جانا چاہیے تھا ، اگر ایسے لوگ نیب چلائیں گے تو پھر ملک تباہ ہو جائیگا،کیا ایسے افسران کو عہدوں پر برقرار رہنا چاہیے؟انکا مزید کہنا تھا نیب کی جانب سے غلط رپورٹ جاری کیے جانے ہر اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کو جائزہ لینے کا کہا ،ان افسران کے حوالے سے انفرادی فیصلہ نہیں دیں گے ۔

جو افسران اہلیت نہیں رکھتے گھر جائیں گے ، سٹرکچر تباہ ہونے کے باعث نیب کے معاملات نہیں چل رہے ،اس پر نیب کے وکیل کا کہنا تھا کہ اگر عدالت نے فیصلہ دیا تو نیب افسران کے پاس فورم نہیں ہو گا ،نیب خود اپنے افسران کے تقرر کا جائزہ لے سکتا ہے، اس پر جسٹس امیر ہانی مسلم کا کہنا تھا کہ جس شخص کی تعلیمی قابلیت ہی پوری نہیں اسے ترقی کیسے دی گئی، ایسے افراد کی بھرتی ہی غلط تھی توان کی ترقیاں بھی غلط ہوئیں ہیں ، اسٹیبلشمنٹ ڈویژن وفاق کے سٹرکچر کی شہ رگ ہے ،چیئرمین نیب کیسے اسٹیبلشمنٹ ڈویژن ڈکٹیٹ کرکے کمیٹی بنا سکتا ہے،نیب میں لوگ میرٹ پر بھرتی ہوتے وہ یہ نہ کہتے ہمارے دائرہ اختیار میں نہیں ہے،یہی وجہ ہے کہ نیب کا سارا ڈھانچہ تباہ ہوچکا ہے ،عدالت کے حکم کے باوجود نیب نے کوئی کام نہیں کیا ،نیب کے کام نہ کرنے کی وجہ سے معاملہ اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کو بھجوایا جبکہ دوران سماعت دوران سماعت جسٹس قاضی فائز عیسی نے ریمارکس دیے کہ فوج کا ریٹائرڈ میجر یا کرنل نیب کو کون سے تجربے کا فائدہ دے گا، نیب رپورٹ نہیں بنا سکتا تو تفتیش کیسے کر گا ،چیئرمین نیب عدالت میں پیش ہو کر کہتے ہیں ادارہ درست کام کررہا۔

، اس پرنیب کے وکیل خواجہ حارث نے عدالت کو بتایا کہ کمیٹی بنادی ہے جو جائزے لیکر کاروائی کرے گی،ہم نے عدالتی حکم کی وجہ سے فیصلہ نہیں کیا کیونکہ عدالت نے خود فیصلہ کرنے کا کہا تھا ، اس پر جسٹس امیر ہانی مسلم نے ریمارکس کہا کہ نیب کمیٹی میں بھی وہی لوگ ہیں جو خود نااہل ہیں، نااہل بھرتیوں کو ہٹائیں یا چیئرمین نیب وضاحت کرے، ہم چیئرمین کو براہ راست ہدایت دیں گے، نیب نااہل لوگوں کو بھرتی کرے گا تو عدالت حکم دینے کی پابند ہے، عدالت عظمیٰ نے آئندہ سماعت پر چیئرمین نیب کو ذاتی حیثیت میں طلب کرتے ہوئے نیب کو ہدایت کی ہے کہ سیکرٹری اسٹیبلشمنٹ کی رپورٹ کا جائزہ لے کر تعلیمی قابلیت پر پورا نہ اترنے والے نو افسران سے متعلق رپورٹ جمعہ تک جمع کرائیں ، عدالت نے کیس کی سماعت 27 مارچ تک ملتوی کر دی