بریکنگ نیوز
Home / کالم / جہاں کوئی چہرہ نہیں ہوتا

جہاں کوئی چہرہ نہیں ہوتا


کہتے ہیں کہ بڑھاپے کے سو دکھ ہوتے ہیں اور ہزار آزار…لیکن جیسے اس طویل حیات میں خوش بختی اور خوش بھاگی اور یہ وہ بھاگی نہیں جو گھر سے بھاگ جاتی ہے بلکہ یہ بھاگ بھری والے بھاگ والی بھاگی ہے جس نے اللہ کے کرم سے اور کملی والے کی جوتیوں کے صدقے ہمیشہ میرا ساتھ دیا… اگرچہ تنگی ترشی اور ناداری کے بھی کچھ زمانے آئے لیکن وہ شتابی سے گزر گئے‘ میں ان کی یاد میں دل کو جلاتا نہیں اگر جلاتا ہوں تو شکرانے کے گھی کے چراغ جلاتا ہوں چنانچہ فی الحال بڑھاپے کے صرف دوچار دکھ ہیں جن کو سہا جاسکتا ہے اور آزار بھی چند ایک ہیں جن کی شکایت ناشکری ہوگی‘ بس یہ ہے کہ سکت ذرا کم ہوگئی ہے‘ محفلوں میں شرکت کرنے سے گریز کرتا ہوں‘ ہجوم سے ہراساں رہتا ہوں‘ اگر کوئی خاتون مہربان ہونے کے آثار ظاہر کرے تو دل خوش نہیں ہوتا‘ …اخباروں میں مشاہیر اور ادیبوں کی موت کے بارے میں پڑھ کر رنجیدہ تو ہوتا ہوں پر…خاص طورپر دیکھتا ہوں کہ مرحوم کی عمر کیا تھی…اکثر وہ مجھ سے کم عمر ہوتے ہیں تو رب کا شکر گزار ہوتا ہوں کہ جو مجھے یہاں تک لے آیا اور اگر ان کی عمر مجھ سے زیادہ ہو تو کچھ ڈھارس بندھتی ہے کہ شاید ابھی برس دو برس کے قیام کا ویزا مجھے مل جائے… ہم میلان کُندیرا کے ناول’’ امارٹیلٹی‘‘ کو زیر بحث لاتے ہوئے موت کی جانب راغب ہوگئے ہیں…

چنانچہ یہ موت کا بیان ہے جو دائمی کلاسیک ادب کو جنم دیتا ہے اور اس سلسلے میں میں نے گوئٹے کی ایک نظم کا حوالہ دیا تھا کہ…ذرا انتظار کرو…تم بھی چپ ہو جاؤ گے…میں پہلے تذکرہ کرچکا ہوں کہ ڈاکٹر سلمیٰ کشمیری جس نے پشاور یونیورسٹی سے مجھ پر پی ایچ ڈی کی ہے اس نے میری تحریروں میں تین عناصر کی نشاندہی کی ہے…یعنی پانی‘ پرندے اور موت…اور یہ حقیقت ہے کہ موت نے ہمیشہ مجھے مسحور کیا ہے کہ یہ ایک ایسا تجربہ ہے جس میں سے گزرنے کے بعد اسے بیان نہیں کیا جا سکتا…میرے ناول’’ قربت مرگ میں محبت‘‘ کی ڈاکٹر سلطانہ شاہ بھی جب اس ناول کے مرکزی کردار کو فون کرکے اس سے ملاقات کی خواہش کرتی ہے تو وہ پوچھتا ہے کہ آپ کس سلسلے میں مجھ سے ملنا چاہتی ہیں تو وہ کہتی ہے…موت کے سلسلے میں…یہ موت ہے جو مجھے تمہارے قریب لاتی ہے…
ایک نامعلوم نثری نظم نگار نے قربت مرگ کو کچھ یوں بیان کیا ہے۔

’’سفید اوورکوٹوں میں کفنائے ہوئے ہسپتال کے اہلکار…سٹریچر پر دھکیلتے مجھے آپریشن تھیٹر کی جانب لئے جاتے ہیں…نور جہاں کا ایک گیت گنگناتے… کی بھروسا دم دا‘ دم آوے نہ آوے‘ گنگناتے…اسی سٹریچر پر وہ مجھے واپس لائیں گے… کسی بھی حالت میں…زندہ یا مردہ… میرے سرپر چھت میں نصب تیز روشنیاں… میری آنکھوں پر سے گزرتی جاتی ہیں…میں جانتا ہوں…میں نہیں جانتا…میری واپسی ہوگی تو کس صورت ہوگی… چھت میں نصب یہی روشنیاں میری آنکھوں پر سے گزریں گی…یا سب روشنیاں فیوز ہوچکی ہوں گی… میں وہاں ہوں گا جہاں کوئی چہرہ نہیں ہوتا…میں جانتا ہوں‘ میں نہیں جانتا… تب ایک ویرانہ ان آنکھوں میں ویران ہوتا ہے…کوئی ویرانہ سا ویرانہ ہے…کوئی خلاء ہے‘ کیا ہے… میری ماں اس ویرانے کے خلاء میں کھڑی ہے… وہ نہ خوش ہے نہ ناخوش…بہت چپ‘ بہت خاموش کھڑی ہے…اس کے دوپٹے میں سے وہی مہک چلی آرہی ہے…جب وہ مجھے گلے سے لگاتی تھی تو آتی تھی…میں اس نیم مدہوشی میں پوچھتا ہوں…امی‘ آپ یہاں کیا کر رہی ہیں… وہ اسی خوشی اور ناخوشی میں لپٹی اپنے ترشے ہوئے لب کھولتی ہیں… میں تمہیں دیکھنے آئی ہوں‘ بس اتنا کہا…میں آپریشن تھیٹر سے زندہ لوٹ آؤنگا‘ مجھے یقین ہوگیا‘ امی نے یہ نہیں کہا تھا کہ میں تمہیں لینے آئی ہوں…اگر مائیں لینے آجائیں تو کون انکار کر سکتا ہے‘ پر وہ مجھے دیکھنے آئی تھیں…
ہم کندیرا کی جادوئی نثر کی جانب پھر سے رخ کرتے ہیں…

’’ محبت اپنے آپ کو سچی ثابت کرنے کیلئے جواز سے فرار ہونا چاہتی ہے‘ میانہ روی کو مسترد کرتی ہے…ممکن نہیں ہوناچاہتی…مختصراً پاگل ہو جانا چاہتے ہیں‘ وہ اپنے آپ پر جھکی نرس کا چہرہ نہ دیکھ سکی اور پھر کسی نے کہا…تم وہاں جارہی ہو جہاں چہرے نہیں ہوتے‘ڈرپوک لوگ ہمیشہ موت سے ڈرتے ہیں‘ اسی لئے وہ بے جگری سے لڑتے ہیں‘ نیند کا سب سے خوبصورت وہ لمحہ ہوتا ہے جب آپ بیداری اور نیم غنودگی کے درمیان جھولتے ہیں اور آپ کو اپنی پیدائش پر افسوس نہیں ہوتا‘ جیسے ہر کار کا ایک سیریل نمبر ہوتا ہے ورنہ سب کاریں ایک جیسی ہوتی ہیں‘ ایسے ہر انسان کا چہرہ اس کی سیریل نمبر ہوتا ہے‘ ورنہ سب انسان کاروں کی مانند ایک جیسے ہوتے ہیں‘ عوام‘ محب الوطنی سے بھرپور موسیقی اور گیتوں کے سحرمیں مبتلا ہو کر اپنی جان گنوا بیٹھتے ہیں‘ مجھے کسر نفسی سے نفرت ہے…یہ منافقت کی اعلیٰ مثال ہے‘ تخلیق کار نے کمپیوٹر میں اپنا پروگرام لوڈ کیا اور…چلا گیا‘ تم دنیا کے کھلونے کے ساتھ ایسے کھیلو جیسے ایک اداس بچہ جس کا چھوٹا بھائی نہ ہو‘‘ میلان کندیرا وقت اور زمانے کے ساتھ یوں کھیلتا ہے‘ کہ گوئٹے‘ بیتھوون‘ ہمینگوے‘ مصور روبنز سب کے سب اس کے طے شدہ زمانوں کے باشندے ہو جاتے ہیں‘ اس کی تحریری سحر انگیزی کے تابع ہو جاتے ہیں۔
ذرا انتظار کرو…تم بھی چپ ہو جاؤگے
میلان کندیرا اسی برس کی دہلیز پار کر چکا…اس کے چپ رہنے کے دن آگئے لیکن…اس کی تحریر کا جادو کبھی چپ نہ ہوگا‘ بولتا رہے گا۔