بریکنگ نیوز
Home / کالم / شمیم شاہد / پاک افغان سرحد پر آمدو رفت کی بحالی

پاک افغان سرحد پر آمدو رفت کی بحالی


بالآخر وزیراعظم محمد نواز شریف کی ہدایات کے مطابق لگ بھگ 32 دن کے بعد پاکستان اور افغانستان کے مابین دو اہم گزرگاہ آمدورفت اور تجاتی سرگرمیوں کیلئے کھل گئے۔ حکام نے بتایا کہ پالیسی کے مطابق صرف قانونی دستاویزات رکھنے والوں کو سرحد آرپار جانے کی اجازت ہوگی جبکہ ان گاڑیوں یعنی ٹرکوں اور ٹرالرز کو بھی آنے جانے کی اجازت ہوگی۔ جن کے پاس نہ صرف گاڑیوں اور ان گاڑیوں میں لدھے سامان بلکہ ڈرائیوروں اور کلینروں کے ساتھ سفری دستاویزات ہونگے۔ وزیراعظم نواز شریف کے اس فیصلے کی جتنی ستائش کی جائے کم ہے نہ صرف افغانستان کے طول و عرض میں وزیراعظم کے اس بیان پر خوشی کا اظہار کیا جارہاہے بلکہ کراچی سے لیکر طورخم اور چمن تک لاکھوں کی تعداد میں لوگ بھی اس فیصلے سے خوش دکھائی دیتے ہیں۔16 فروری2017ء کو اس وقت حکومت نے افغانستان کے ساتھ تمام سرحدی گزرگاہیں بند کرنے کا اعلان کیا جب سندھ کے سیہون شریف کی درگاہ میں خودکش بم دھماکہ ہوا۔ اس دھماکے میں لگ بھگ90 افراد شہید جبکہ250 سے زائد زخمی ہوئے۔ سیہون شریف کے سانحے سے قبل لاہور میں اسمبلی ہال کے نزدیک ایک مصروف ترین چوک میں ہونیوالے بم دھماکے میں دو سینئرپولیس افسران سمیت20 سے زائد افراد شہید ہوئے تھے اس دوران پشاور حیات آباد میں ججوں کی ایک گاڑی اور چارسدہ کی تحصیل تنگی کی عدالتوں پر بھیخودکش حملے ہوئے تھے۔ ان واقعات کی ذمہ داری قبول کرنیوالے سرحد پار افغانستان میں روپوش ہیں۔

لہٰذا حکومت نے اسی بنیاد پر افغانستان کے ساتھ سرحدیں بند کر دی تھی۔ پاک افغان سرحد سے اگر ایک طرف افغانستان کیساتھ آمدورفت اور تجارت کا سلسلہ ایک مہینے سے زائد عرصے کیلئے معطل رہا تو دوسری طرف اس سے پاکستان ہی کے مختلف علاقوں بالخصوص قبائلی علاقوں سے تعلق رکھنے والے لاکھوں کی تعداد میں مقامی لوگ بھی شدید متاثر ہوئے‘ اس میں کوئی شک نہیں کہ افغانستان میں ہندوستان کی بڑھتی ہوئی سرگرمیوں نے حکومت کوسوچنے پر مجبورکر دیا ہے اور اب پاکستان کی کوشش ہے کہ کسی طریقے سے افغان حکومت ، قیادت اور عوام کو ہندوستان سے دور کرکے اور اپنے ساتھ ملالے۔ ایک دوسرے سے علیحدہ ہونے اور برطانوی حکمرانوں سے آزادی پانے کے بعد سے اب تک دونوں ممالک کے مابین چار جنگیں ہوئی ہے جبکہ مشرق سرحد بالخصوص کشمیر کو تقسیم کرنے والی لکیر پر تو روزانہ فائرنگ کا تبادلہ جاری رہتا ہے۔ دونوں ہمسایہممالک کے مابین برطانوی حکمرانوں کے وراثت میں چھوڑے ہوئے ’’دشمنی‘‘ کے نتیجے میں لاکھوں لوگ لقمہ اجل بن چکے ہیں۔ دونوں ممالک کو غربت پسماندگی اور بے روزگاری جیسے مسائل کا سامنا ہے۔ چندسال قبل جب ڈاکٹر اشرف غنی برسراقتدار آئے تو ان کی پہلی کاوش افغانستان میں امن کی بحالی تھی اور اسی مقصد کیلئے انہوں نے سب سے پہلے پاکستان کا دورہ کیا۔

تاہم اس دورے پر ڈاکٹر اشرف غنی کو اپنے ہی ملک میں شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑا۔ جو کچھ ہوا یا جو کچھ ہو رہا ہے وہ کسی بھی طور پر پاکستان اور افغانستان کے مفاد میں نہیں۔ دونوں ایک دوسرے کے ہمسایہ ممالک ہی نہیں بلکہ دونوں ممالک کے لاکھوں لوگ ایک دوسرے کیساتھ رشتوں ناطوں میں منسلک ہیں۔ یہ رشتے ناطے کسی بھی طورپر نہیں ٹوٹ سکتے۔ 1947ء میں برصغیر کی آزادی کے نتیجے میں ہندوستان اور پاکستان میں منقسم ہونیوالے خاندان ابھی تک ایک دوسرے کیساتھ رشتوں میں جڑے ہوئے ہیں‘ وہ کسی بھی طورپر ایک دوسرے سے جدا ہونے کیلئے تیار نہیں۔ افغانستان کے لاکھوں لوگ نہ صرف پاکستان میں رہ چکے ہیں اور رہ رہے ہیں بلکہ یہ لوگ پاکستان ہی کو اپنا دوسرا ملک تصور کرتے ہیں۔ لہٰذا دونوں ممالک کو چاہئے کہ وہ ایک دوسرے کے آزادی اور خود مختاری کا احترام کرکے تعلقات کو مستحکم بنائیں اور دونوں ممالک کو درپیش ایک جیسے مسائل بالخصوص دہشت گردی کے خاتمے کیلئے متفقہ اور مشترکہ لائحہ عمل اپنائیں۔بداعتمادی سے دہشت گردی کا جن قابو سے باہر ہوسکتا ہے جو دونوں ممالک کیلئے شدید خطرے کا باعث ہوگا۔