بریکنگ نیوز
Home / کالم / افغانستان تب اور اب

افغانستان تب اور اب


بدقسمت افغانستان کے برے دن کب ختم ہوں گے ؟ ختم ہوں گے بھی کہ نہیں؟ اچھے تھے یا برے کم از کم موجودہ حالات سے تو وہ دور اچھا تھا کہ جب شاہ ظاہر شاہ کابل کا حکمران تھا اس کے دور میں ہم نے اتنا انتشار ‘ اتنا قتل عام‘ اتنی فرقہ واریت ‘ اتنی لسانیت او ر اتنی مذہبی انتہا پسندی تو نہیں دیکھی کہ جتنی آج دیکھ رہے ہیں یا جو ہم 1980ء کی دہائی کے اوائل سے دیکھ رہے ہیں قصہ خوانی بازار پشاور شہر کے وسط میں افغان قونصل خانہ ہوا کرتاتھا وہاں سے ایک زرد رنگ کی بس کابل کیلئے روانہ ہوتی قونصل خانے سے ہی کابل جانے والے خواہش مند مسافروں کو ریڈ پاسپورٹ بھی مل جاتا اور اس پر ویزا کی مہر بھی لگا دی جاتی بس خراماں خراماں روانہ ہوتی مسافر رات کو افغانستان کی حدود میں طور خم سے چند کوس آگے سردبی کے مقام پر رات گزارتے دوسری صبح وہاں ناشتہ کرکے عازم کابل ہوتے جہاں وہ دوپہر سے پہلے پہنچ جاتے کابل میں ہندوستانی فلموں کی بھر مار ہوتی جن کو دیکھنے کیلئے پاکستان سے فلم بینوں کا ایک جم غفیر کابل جاتا یہی حال ہر برس اگست کے مہینے میں جشن کابل کے موقع پر ہوتا جب کہ وہاں طرح طرح کے ثقافتی پروگرام ہوتے جن میں پاکستانی اور ہندوستانی گلوکار باقاعدگی سے شرکت کرتے ہم نے وہاں ہی اقبال بانو کو نظامی کی مشہور غزل گاتے سنا تھا کہ جس کا مطلع ہے ۔

مارا بہ غم زاکشت قضا را بہانہ ساخت
خود شدے ما نہ دید حیا را بہانہ ساخت
یعنی میں تمہارے غم میں مرا پر تم نے یہ بہانہ کر دیا کہ میری قضا آ گئی تھی تم خود میری طرف دیکھنا نہ چاہتی تھی لیکن تم نے حیا کا بہانہ بنا لیا ۔

کہنے کا مقصد یہ ہے کہ جونہی ظاہر شاہ کا تختہ الٹایا گیا کابل میں ہر شے درہم برہم ہو گئی کسی نے لوگوں کو کمیونزم کے سبز باغ دکھلا کر لوٹا تو کسی نے اسلامی خلافت کا۔ یہ دونوں اپنے دعوے میں مخلص نہ تھے اغیار کے ایجنڈے پر کام کر رہے تھے1980ء سے لیکر 2017ء تک تقریباً چالیس برس بنتے ہیں اور یہ وہ عرصہ ہوتا ہے کہ ایک بچہ اس میں جوان ہو کر بڑھاپے کی دہلیز پر قدم رکھ دیتا ہے ۔ آج پوزیشن یہ ہے کہ افغانستان کی سکیورٹی فورسز کی جدید خطوط پر استوار کرنے اور اس کو جدید ترین اسلحہ سے لیس کرنے پر امریکہ 70 بلین ڈالرز خرچ کر چکا لیکن باوجود اس کے ان سکیورٹی فورسز کے کنٹرول میں ملک کا 40 فیصد ہے ہی نہیں کہ جس پر طالبان قابض ہیں منشیات کی روک تھا م کے لئے امریکہ نے افغانستا ن میں8.5 بلین ڈالرز لگائے لیکن جتنی افیون وہاں آج کاشت ہوتی ہے شاید ہی اس سے پہلے کبھی ہوئی ہو امریکہ دو دہائیوں سے زیادہ عرصہ ہو گیا کہ افغانستان میں براہ راست ملوث ہے اب تک وہ اپنے 2400 فوجی گنوا چکا اور بیس ہزار کے قریب زخمی کروا چکا ابھی طالبان کے قضیے سے امریکہ فارغ نہیں ہوا تھا کہ داغش کی شکل میں افغانستان ایک دوسری مصیبت کا شکار ہو رہا ہے کہیں ایسی سوچ تو افغانستان کے ایوان اقتداراور وہائٹ ہاؤس میں جنم نہیں لے رہی کہ طالبان کیساتھ معاملات حل کرکے مشترکہ طور پر افغانستان کی حکومت اور طالبان داعش سے برسر پیکار ہو جائیں؟

یہ تاثر بھی افغانستان میں پرورش پا رہا ہے کہ طالبان ‘ داعش کے مقابلے میں کم از کم افغانستان کے وجود کے تو خلاف نہیں اگر افغانستان میں حالات مزید دگرگوں ہوتے ہیں تو افغانستان کی حکومت کہیں اس با ت پر مجبور نہ ہو جائے کہ وہ طالبان سے گفت و شنید کرکے داغش کیخلاف ایک متحدہ محاذ بنالے اس پوری سیاسی گیم میں بھارت خون کا پیاسا ہے اسے خوش ہوتی ہے اگر پاکستان اور افغانستان کے اندر خون کی ہولی اس طرح کھیلی جاتی رہی کہ جس طرح کھیلی جار ہی ہے خدا افغانستان کے حکمرانوں کو کم از کم اتنی عقل دے کہ وہ بھارتی حکمرانوں کے چھپے ہوئے عزائم کو بھانپ سکیں پاکستان کی طرح افغانستان کے حکومتی ڈھانچے میں سخت کرپشن موجود ہے ‘ ایک مستند رپورٹ کے مطابق مقامی فوجی کمانڈرز امریکہ سے ان مقامی فوجیوں کی تنخواہ کے پیسے بھی وصول کر لیتے ہیں کہ جو غیر حاضرہیں بلکہ سرے سے جن کا وجود ہی نہیں اور یہ پیسہ ان کمانڈروں کی جیب میں جا رہا ہے ۔