بریکنگ نیوز
Home / اداریہ / فوڈ سیفٹی اتھارٹی کافی ہے؟

فوڈ سیفٹی اتھارٹی کافی ہے؟

خیبرپختونخوا حکومت نے مضر صحت اشیاء کی فروخت میں ملوث افراد کیلئے سزاؤں کا تعین کردیا ہے، اس ضمن میں مہیا تفصیلات کے مطابق مضر صحت فوڈ آئٹم کیساتھ اس کی تیاری میں استعمال ہونیوالی مشینری بھی ضبط کی جائیگی جبکہ جس عمارت میں یہ آئٹم تیار ہوں گے اسے بھی سیل کردیاجائیگا، اس سب کیساتھ فوڈ سیفٹی اتھارٹی کے قیام کیلئے گریڈ 19کے آفیسر کی بطور ڈائریکٹر جنرل تعیناتی اور اتھارٹی کے معاملات چلانے کیلئے 50کروڑ روپے کے فنڈ کی منظوری بھی دیدی گئی ہے، اتھارٹی کے ڈھانچے میں تمام اضلاع میں فوڈ سیفٹی آفیسرز کام کریں گے، صوبے میں فوڈ سیفٹی اتھارٹی کے قیام کا عندیہ 2014ء میں دیاگیا تھا، اتھارٹی کو حاصل مینڈیٹ کے مطابق یہ کھانے پینے کی اشیاء کے معیار سے متعلق قوانین وضع کرے گی، اتھارٹی کو حاصل اختیارات اور اس کے قیام کی روح قابل اطمینان ہے، اس مقصد کیلئے صوبے کی حکومت کا احساس بھی نظر آرہا ہے، پنجاب میں فوڈ اتھارٹی پوری طرح آپریشنل ہے جبکہ لاہور کی سطح پرا یک خاتون آفیسر کی کارکردگی نمایاں رہی ہے، اس وقت خیبرپختونخوا میں مہنگائی کیساتھ ملاوٹ اور ناقص اشیاء کی فروخت انسانی صحت اور زندگی کیلئے خطرہ بنی ہوئی ہے،

کمر توڑ مہنگائی کی تادم تحریر صورتحال یہ بتائی جارہی ہے کہ صوبائی دارالحکومت میں مرغی 186جبکہ ٹماٹر 120روپے کلو فروخت ہو رہے ہیں، یہی حال دیگر سبزیوں اور پھلوں کا ہے، دودھ میں انتہائی مضر صحت کیمیکل ملائے جانے کی شکایات عام ہیں جبکہ اس دودھ سے بیمار پڑنے پر دوائی بھی جعلی اور دونمبر ہی ملتی ہے، آبادی میں بے پناہ اضافے اور شہروں کے انفراسٹرکچر پر ضرورت سے بڑھنے والے بوجھ نے ٹریفک نظام کو پشاور سمیت ہر بڑے شہر میں ایک سنگین مسئلے کی شکل دیدی ہے، ایسے میں کسی بھی شہر میں احتجاج یا مظاہرے کی صورت میں سڑکوں کی بندش عذاب بن جاتی ہے، میونسپل سروسز کے قاعدے قوانین پر عمل درآمد میں بھی مشکلات کا سامنا ہے، صوبائی حکومت ان مشکلات اور مسائل کے حل کیلئے کوشش ضرور کررہی ہے، فوڈ اتھارٹی کا تجربہ بھی کیاجارہا ہے، کوالٹی کنٹرول کیلئے فوڈ لیبارٹریوں کو بھی فعال بنایاجاچکا ہے، بازاروں میں چھاپے بھی مارے جارہے ہیں،

گرفتاریاں بھی ہوتی ہیں، وفاق کی سطح پر ملک کی ترقی کے ساتھ اقتصادی اعشاریوں کا چرچا بھی ہو رہا ہے، حکومت اپنے مہیا ریکارڈ اور اعداد وشمار کی روشنی میں مہنگائی کی شرح میں کمی کا عندیہ بھی دیتی ہے، اس سب کے باوجود برسرزمین صورتحال روز بروز عام شہری کیلئے مشکلات کا سامان کرتی دکھائی دیتی ہے، یہ شہری حکومت کے کسی اعلان اور اقدام سے کوئی ریلیف حاصل نہیں کرپارہا،مرکز اور صوبے میں برسراقتدار حکومتوں کو اس ضمن میں مسئلے کی تہہ تک پہنچنے اور اس صورتحال کی اصل وجہ تلاش کرنا ہوگی، ماہرین کا اتفاق ہے کہ حکومتی اقدامات کوثمر آور اور عام شہری کی ریلیف یقینی بنانے کیلئے آزمودہ ترین مجسٹریسی نظام بحال کرنا ضروری ہے،اس وقت ٹریفک کے سنگین مسئلے کے حل میں خصوصی مجسٹریٹ کا ایک بارپھر رول ضروری دکھائی دیتا ہے، فوڈ اتھارٹی کو بھی جتنے اختیارات دیئے جائیں جب تک مجسٹریسی پاور نہ ہو اتھارٹی کے ذمہ دار بڑے فیصلے نہیں کرپائیں گے، ایسے میں جب تک اس فول پروف سسٹم کو بحال نہیں کیاجائیگا لوگوں کو براہ راست ریلیف نہیں ملے گی اور اس طرح بہت سارے حکومتی اقدامات ان کیلئے بے ثمر رہیں گے۔