بریکنگ نیوز
Home / کالم / تو پھر انسان کو اور کیا چاہئے….

تو پھر انسان کو اور کیا چاہئے….


میں تذکرہ کر رہا ہوں امیتابھ گھوش کے نئے ناول’’فلڈ آف فائر‘‘ یا’’آگ کا سیلاب‘‘ کا جس نے مجھے بہت مایوس کیا کہ گھوش ایک بڑا ناول نگار ہے اور مجھے اس سے بہت توقعات تھیں…یہ ناول دراصل اسکے پچھلے ناولوں کے کچھ کرداروں کا تسلسل ہے جن سے میں واقف تھا…گھوش نے جتنی تفصیل کے ساتھ ایسٹ انڈیا کمپنی سے متعلق لکھا ہے کہ جس نے جس طور بہار اور یوپی کے کسانوں کو مجبور کیا کہ وہ فصلوں کی کاشت ترک کرکے صرف پوست کاشت کریں تاکہ وہاں قائم کردہ انگریزوں کی افیون کی فیکٹریوں کو خام مال سپلائی ہوسکے…اپنے ناولوں میں تفصیل سے لکھا ہے وہ ایک کارنامے سے کم نہیں کہ اس موضوع پر تحقیق بہت درکار تھی‘ ان فیکٹریوں میں جو ہزاروں من افیون تیار ہوتی تھی وہ ساری چین کی بندرگاہوں پر فروخت ہوتی تھی جہاں انگریزوں کی عملداری تھی‘ کہا جاتا ہے کہ ان زمانوں میں انگلستان کی معیشت کا انحصار افیون کی فروخت پر تھا اور جب چین کے شہنشاہ کے حکم پر افیون کی فروخت پر پابندی لگا دی گئی…انگریز اور پارسی سوداگروں کے افیون کے ذخیرے تباہ کر دیئے گئے تو انگریزوں نے آزادی اور جمہوریت کے نام پر چین کے خلاف افیون کی جنگ کا آغاز کر دیا اور ظاہر ہے جیت گئے…گھوش نے موجودہ ناول میں تاریخ کے اسی حصے کوتفصیل سے بیان کیا ہے لیکن یہ تفصیل اتنی گنجلک اور طویل ہوگئی کہ یہ ایک ناول کی بجائے ایک تحقیقی دستاویز کی شکل اختیار کرگئی…ناول کو ناول ہی رہنا چاہئے…گھوش ایک بنگالی ہے اور کلکتہ کے علاوہ نیو یارک میں رہتا ہے…

ایک اور مایوسی ہاروکی مورا کامی کے دو نئے ناول’’ پن بال‘‘ اور ’’ ہیئر دے ونڈ سنگ‘‘ تھے…دراصل یہ دونوں مورا کامی کے ابتدائی ناول ہیں جو1972ء سے1978ء کے دوران لکھے گئے اور اب جاکر ان کا ترجمہ انگریزی میں شائع ہوا ہے‘ دراصل جب کوئی بھی مصنف بین الاقوامی سطح پر مشہور ہو جاتا ہے تو پھر اسے ابتدائی ایام میں جو بھی کچا بکا لکھا ہوتا ہے اسے بھی منافع کی خاطر شائع کر دیا جاتا ہے…یہ دونوں ناول اس کی بہترین مثال ہیں‘ مورا کامی نے کم از کم نصف درجن نہایت انوکھے اور اعلیٰ ناول تحریر کئے ہیں جن میں’’ نارویجن وڈ‘‘ ’’ کافکاآن دے شور‘‘ اور آخری ناول’’ سٹرینج لائبریری‘‘ وغیرہ شامل ہیں‘ بہر طور ان ابتدائی ناولوں میں بھی ہمیں کہیں کہیں اس کی آئندہ تخلیقی عظمت کے آثار ملتے ہیں..مورا کامی اپنی تعلیم سے فارغ ہواتو فوری طورپر اپنی پہلی محبت سے شادی کی اور پھر طالب علموں کیلئے ایک چھوٹا سا ریسٹوران اور موسیقی کی دکان ادھر ادھر سے پیسے مانگ کر قائم کرلی‘ شدید محنت کے باوجود اخراجات پورے نہ ہوتے تھے اور اسکے باوجود دونوں میاں بیوی زندگی سے خوش تھے‘ اس کے منصوبوں میں کہیں بھی ایک ناول نگار کے طورپر زندگی کرنا نہ تھا اور پھر بقول اسکے ایک بیس بال گیم کے دوران جب ایک کھلاڑی نے چھکا لگایا تو یکدم اس پر کھلا کہ وہ ایک ناول لکھ سکتاہے چنانچہ جب کبھی اسے فرصت ملتی وہ ’’ پن بال‘‘ کے چند صفحات گھیسٹ ڈالتا‘ اگر’’ پن بال‘‘ ایک معمولی ناول ہے تو ہم اسے مورد الزام نہیں ٹھہرا سکتے…ہم میں سے بیشتر نثرنگاروں کی ابتدائی تحریریں نہایت بودی تھیں…اشفاق احمد نے کالج کے زمانوں میں ’’ مہمان بہار‘‘ لکھا جسے پڑھ کر اندازہ ہی نہیں ہوتا کہ یہی شخص کبھی’’ گڈریا‘‘ بھی لکھے گا… انتظار حسین کا بھی یہی معاملہ ہے البتہ یہ عبداللہ حسین ہے جس کی ابتدائی تحریر ہی’’ اداس نسلیں‘‘ تھی تو اس کا کیا ذکر کروں…

وہ پہلے دن سے ہی ایک بڑا ادیب تھا…یہ جو ہمارے ہاں اردو زبان کی غلامی کا چلن ہے کہ ادب میں تخلیق کے معجزے کی بجائے زبان کے برتاؤ کو زیادہ اہمیت دی جاتی ہے اور زیادہ تر یہ نصابی اور مدرسی نقاد ہیں جو زبان کی درستگی اور شائستگی کے ڈنکے بجاتے رہتے ہیں اور اعلیٰ تخلیق کی پرکھ انکے بس میں نہیں ہوتی اور نہیں جانتے کہ ایک بڑا ادیب زبان کا غلام نہیں ہوتا‘ وہ اپنی الگ زبان ایجاد کرتا ہے اور گرائمر کے مروجہ اصولوں سے بغاوت کرتا ہے‘ مورا کامی ان ناولوں کے دیباچے میں لکھتا ہے‘ یہ ہر ادیب کاپیدائشی حق ہے کہ وہ زبان کے تجربے کرے‘ اپنے تصور کے مطابق اسے ساخت کرے…اس مہم جوئی کے بغیر کوئی بھی نئی شے وجود میں نہیں آسکتی…جاپانی زبان میں میرا سٹائل تانی ذاکی اور کاواباٹا سے مختلف ہے جو کہ ایک قدرتی بات ہے…بھئی میں تو ان سے ایک الگ شخص ہوں‘ ایک خود مختار ادیب ہوں جس کانام ہاروکی مورا کامی ہے…

عبداللہ حسین پر بھی جب اعتراض ہوتا تھا کہ آپ کو اردو لکھنی نہیں آتی تو وہ کہتا تھاکہ میں آپ جیسی نستعلیق اردو نہیں لکھ سکتاکہ میں تو عبداللہ حسین ہوں اور اب جگر تھام کے بیٹھو کہ ہم اس چیک ناول نگار کی جانب آتے ہیں جو ایک عرصے سے فرانس میں مقیم ہے اور جو ہمارے بیشتر کہانی کاروں اور ادیبوں کے حواس پر چھایا ہوا ہے اور اس کانام میلان کندیرا ہے جس نے ’’ دے فیئر ویل وانر‘ دے بک آف لافٹر اینڈ فارگٹنگ‘ دے ان بیئربل لائٹ نیس آف بی انگ‘‘ ایسے عجیب سے ناول لکھے…وہ تقریباً پچاس برس کا ہوچکا ہے‘ پیرس میں رہتا ہے اور جب ابھی ان دنوں ان کا مختصر سو صفحے کا ناول’’ دے فیسٹیول آف ان سگنی فنس‘‘ شائع ہوا ہے تو دنیا بھر میں ادب کے پجاری اسے پڑھے بغیر اس کے سحر میں مبتلا ہوگئے ہیں کہ یہ میلان کندیرا نے لکھا ہے‘ کندیرا ہمیشہ سے کمیونزم کا شدید مخالف رہا ہے اور اس نظام کا ٹھٹھااڑاتا رہاہے … موجودہ ناول میں بھی سٹالن ایک شکاری کے روپ میں پیرس میں وارد ہوجاتا ہے‘ کندیرا کے بارے میں کہا گیا کہ وہ سب سے اداس‘ پرمزاج اور محبت کے قابل ناول نگار ہے‘ وہ کبھی سنجیدہ نہیں ہوتا‘ لیکن ہمیشہ سنجیدہ ہوتا ہے…
ٹونی مارلین کی مانند اس کا ایک ایک فقرہ ایک جڑاؤ ہیرا ہوتا ہے اسے کوئی ضخیم آٹھ سو صفحے کا ناول لکھنے کی حاجت نہیں‘ اس کے سب ناول مختصر ہیں اور ضغیم ناولوں پر حاوی ہیں…

’’ وقت گزرتا رہتا ہے…وقت کی وجہ سے پہلے تو ہم زندہ ہوتے ہیں یعنی ہمیں زندگی کی سزا مل چکی ہوتی ہے اور اس کے بعد ہم مرجاتے ہیں…کچھ مدت تک ہم ان لوگوں کے ذہنوں میں زندہ رہتے ہیں جو ہمیں جانتے ہیں…اور پھر ہم معدوم ہوجاتے ہیں‘ وہ چند ایک لوگ جنہیں یاد رکھا جاتا ہے وہ پتلیوں کی صورت اپنے یاد رکھنے والوں کی خواہشوں کے مطابق حرکت کرتے ناچتے ہیں‘‘
’’ انسان کا وجود سوائے ایک تنہائی کے اور کچھ نہیں…ایک ایسی تنہائی جسے ایک اور تنہائی نے گھیر رکھا ہے‘‘
کندیرا کے اس نئے ناول میں ہمارے لئے ایک حیرت بھی ہے…اس کا ایک کردار جو فرانسیسی ہے اپنی الگ شناخت کی خاطر ایک پاکستانی کا روپ دھارلیتا ہے اور پھر ’’ پاکستانی‘‘ میں گفتگو کرتا ہے جو اس کی اپنی اختراع ہے…
ٹونی مارلین‘ امیتابھ گھوش‘ ہاروکی مورا کامی اور پھر میلان کندیرا کے نئے ناول اگر پڑھنے کو مل جائیں تو پھر انسان کو اور کیا چاہئے…
یہ ایسے ناول ہیں جو انسان کے ظاہر اور باطن کی خبر دیتے ہیں جو انسان کو انسان بنا دیتے ہیں جو آپ کو خوش کر دیتے ہیں اور جو کبھی کبھی آپ کو اداس بھی کر دیتے ہیں لیکن ان میں زندگی کے اسرار ورموز پوشیدہ ہیں۔
ایک ایسی تنہائی جسے ایک اور تنہائی نے گھیر رکھا ہے…