بریکنگ نیوز
Home / کالم / دوستی دشمنی

دوستی دشمنی


پاکستان کے وجود میں آتے ہی ہم دوستوں دشمنوں میں گھر گئے‘ہمارے پڑوسیوں میں کچھ نے اس ملک کے وجود میں آنے کو معجزہ قرار دیا اور اسکی ترقی کیلئے دعائیں کیں اور کچھ نے پہلے تو اس ملک کو تسلیم کرنے سے ہی انکار کر دیا اور جب تسلیم کیا تو ایک دشمنی کی بنیاد بھی رکھ دی ۔وجہ کچھ بھی ہو اس کا نقصان ہمیں بھی ہوا اور وہ بھی چین سے نہ بیٹھ پائے۔ادھر جن سے ہم نے اپنے حصے کو علیحدہ کیا انہوں نے تو اب تک ہمارا پیچھا نہیں چھوڑا اور کسی بھی سطح پر اس ملک کو نقصان پہنچانے میں کبھی بھی ہاتھ نہیں روکا اس دوران ہم پر جنگیں بھی مسلط کی گئیں اور ہمارے خلاف پروپیگنڈے کر کے اور فوج استعمال کر کے ہمارے ایک حصے کو ہم سے جدا بھی کر دیا او راس پر انہوں نے کبھی نہ تو پردہ ڈالا اور نہ کبھی شرمندگی کا اظہار کیا ہمارے لیڈر صاحبان جو بھی ابھی تک اس ملک پر حکومت کرتے آئے ہیں انہوں نے کبھی یہ تسلیم ہی نہیں کیا کہ ہندوستان ہمارا دشمن ہے۔

ادھر سے ہمیشہ یہ کوشش کی جاتی رہی کہ ہم اپنے ہمسائے سے دوستی کے رشتے استوار کریں مگر باوجود باربار دھتکارنے کے ہم ابھی تک وہی رو ش اپنائے ہوئے ہیں مگر افسوس کہ ایک زمانہ ہندوستان کے رویئے کو دیکھنے پر کھنے کے باوجود بھی یہ نہ جان سکے کہ دشمن صرف دشمن ہوتا ہے ہندوستان کی موجودہ قیادت بھی جس طرح کے بیانات دے رہی ہے اس کا جواب ہماری طرف سے کچھ بھی نہیں دیا جا رہا جس کا نتیجہ یہ کہ ہندوستان نے کھل کر کہہ دیا ہے کہ وہ کسی بھی وقت پاکستان پر ایٹمی حملہ کر سکتا ہے اور ہماری ایٹمی تنصیبات کو تباہ کر سکتا ہے مگر ہماری قیادت اسے ایک گپ سے زیادہ کوئی وقعت نہیں دے رہی اِدھر سے ابھی تک دوستی کے ہاتھ بڑھائے جا رہے ہیں جبکہ دوسری طرف سے ہاتھ باہر نہیںآ رہے ہندوستان ہمارے دریاؤں کے پانی روک رہا ہے مگر ہم کسی بین الاقوامی فورم پر اپنا کیس نہیں لے جا رہے ہم نے آنکھیں بند کی ہوئی ہیں اور سمجھ رہے ہیں کہ بین الاقوامی ضامن خود اٹھ کر ہمارے پاس آئیں گے اور ہمارے مسئلے حل کریں گے۔ہندوستانی قیادت کی دھمکیوں پر ابھی تک ہماری قیادت کی جانب سے کوئی بھی جواب نہیں آ رہا ہم نے صرف سی پیک کو گلے لگایا ہوا ہے۔

مگر اس کے خلاف جو سازشیں ہو رہی ہیں، خصوصاً اس ضمن میں ہندوستان کی جانب سے، اس پر دھیان نہیں دیا جا رہایہ حکومتی بے حسی اور ہندوستان کے ساتھ دوستی کی خواہش خدا نخواستہ کہیں ہمیں لے ہی نہ ڈوبے۔پڑوسیوں کے ساتھ دشمنی کسی بھی طرح فائدہ مند نہیں ہوتی مگر جہاں کوئی دوستی کو قبول نہ کرے تو اس کو بھی دانت دکھانے ضروری ہوتے ہیں ہماری لیڈر شپ چاہے وہ حکومت میں ہے یا اپوزیشن میں اس بڑے چیلنج کی طرف دھیان نہیں دے رہی ۔اپوزیشن کو انتظار ہے کہ کب پانامہ کا فیصلہ آئے اور ان کو حکومت مل جائے اور حکومت کا خیال یہ ہے کہ ہم کو ہندوستا ن کے ساتھ صرف تجارت کی طرف دھیان دینا ہے اسلئے کہ ہندوستان سے تجارت سے ہمارا ملک ایشیاکا ٹائیگر بن جائے گااور ہندوستان دیکھ رہا ہے کہ کس طرح اس ملک کو اقتصادی طور پر تباہ کیا جائے اس لئے کہ ہماری اقتصادیات کا بڑا حصہ زراعت ہے اور اس کیلئے ہمارے پاس جو پانچ دریا تھے ان کے گلے پر ہندوستان نے ہاتھ رکھ دیا ہے۔اس کے بعد یہ خیال کرنا کہ ہندوستان ہمارا دوست بن جائے گا کتنی بڑی خوش فہمی ہے۔