بریکنگ نیوز
Home / کالم / ذہنی تناؤ اور خودکشی کا رحجان

ذہنی تناؤ اور خودکشی کا رحجان


کوئی مانے یا نہ مانے لیکن حقیقت یہ ہے کہ آج ہماری نوجوان نسل کو ہماری سب سے زیادہ ضرورت ہے اور اسکی بنیادی وجہ وہ قسم قسم کے ذہنی دباؤ ہیں جن کے باعث نوجوانوں میں خودکشی کے رجحانات یا اپنے آپ کو محدود کرلینے کے منفی رویئے جنم لے رہے ہیں یہ ایک سماجی مسئلہ ہے جسکے حوالے سے بات ہونی چاہئے اور سمجھنا چاہئے کہ نئی نسل کیا سوچ رکھتی ہے اور کیا چاہتی ہے کیا ہمارے بزرگ چاہتے ہیں کہ وہ نئی نسل سے معاملہ اپنے وقت کے مطابق کریں؟جب میں آٹھ برس کی تھی تب میں نے ایک تین سالہ بچے کے بارے میں سنا جو پانی کی ٹینکی میں گر کر ڈوب گیا تھا واقعے سے ہمارے محلے کی مائیں غم سے نڈھال تھیں۔ میری والدہ نے بھی مجھے اور میرے بہن بھائیوں کو ہر طرح سے احتیاط برتنے کو کہایہی وہ پہلا موقع تھا جب میں نے خودکشی کرنے پر غور کیا مجھے نہیں معلوم تھا کہ خودکشی کس طرح کرنی ہے مگر اس واقعے کے بعد میں یہ ضرور جان گئی تھی کہ پانی سے بھری ٹینکی میں کود جانے سے میں اپنی زندگی کو ہمیشہ کیلئے ختم کر سکتی ہوں اور سب لوگ اسے ایک حادثہ تصور کریں گے۔ مجھے اسکے علاوہ اور کوئی چیز فرحت بخش محسوس نہ ہوئی یوں میرا جسم اس ذہنی اور جسمانی کرب کیساتھ ڈوب جائے گا جسکا سامنا مجھے ایک عرصے سے تھا مگر کبھی بھی اسکی وضاحت نہ کر سکی تھی مجھے محسوس ہوا کہ جیسے اس اقدام سے میں اپنی تمام تکالیف اور کرب کو ختم کرنیکی اپنے اندر طاقت رکھتی ہوں مگر میں نے ایسا کوئی قدم اٹھایا ہی نہیں مجھے لگا کہ مجھے اپنی بہن کو تھوڑا اور بڑا ہونے تک انتظار کرنا ہوگا شاید کہ یوں جب وہ مجھے کھو دیں گے تو انہیں تھوڑاکم صدمہ پہنچے گامیں جب ماضی کی یہ کہانیاں یاد کرتی ہوں تب میں شرمندگی محسوس نہیں کرتی۔ میں ایسے لوگوں کو جانتی ہوں جو خودکشی کو بزدلی سے تعبیر کرتے ہیں ان کے نزدیک‘ میں صرف یہی کہہ سکتی ہوں کہ ایسا بالکل بھی نہیں ہے۔

خودکشی کرنیکا خیال کرنا ایک حقیقت ہے لوگوں کو بزدل پکارنے سے آپ انہیں اپنی زندگی ختم کرنے سے نہیں روک سکتے بلکہ کئی افراد‘ بشمول میرے‘ نزدیک اسے بزدلی قرار دینا ذہنی صحت کے مسائل کی جانب ہٹ دھرم لاعلمی کی ایک اور مثال ہے میں ایسے وقت میں ڈپریشن اور حادثے کے بعد پہنچنے والے شدید ذہنی صدمے کا شکار تھی جب میں ان لفظوں کا مطلب بھی نہیں جانتی تھی میں نے خود میں صرف ان کی علامات کو محسوس ہوا میں نے ان علامات کو دیگر لوگوں کی جانب اپنے رویئے اور دیگر لوگوں کے روئیوں میں ظاہر ہوتے دیکھا ایک ایسا بھی وقت تھا جب لوگوں کے رد عمل سے اس قدر خائف رہتی تھی کہ میں بار بار اپنے کام کا جائزہ لیتی تھی کہ کہیں میں نے کوئی ’گڑ بڑ‘ تو نہیں کی۔ ذرا سی بھی تعریف یا اعتراف میرے لئے اس شخص کے مقابلے میں کافی زیادہ معنی رکھتی جو میری طرح ناکامی کے خستہ احساس سے مسلسل نبرد آزما نہیں ہوتامیں نے اپنی صورتحال کے بارے میں کبھی بھی ساتھیوں یا دوستوں کو نہیں بتایا کیونکہ مجھے ڈر تھا کہ یہ ان پر اضافی بوجھ ثابت ہوگا میں پریشان تھی کہ کہیں انہیں اپنی زندگیاں میری ضروریات اور میرے جذبات کے مطابق ڈھالنی نہ پڑ جائیں اور وہ مجھے کبھی بھی اپنے مسائل نہیں بتا پائیں گے کیونکہ کسی نہ کسی صورت میرے مسائل انکے مسائل کے مقابلے میں ہمیشہ ہی زیادہ بڑے ہوں گے میں کسی بھی صورت ان کیلئے تکلیف کا باعث نہیں بننا چاہتی تھی آپ اپنے پیاروں کو یہ کیسے بتائیں گے کہ جب وہ آپکو مسلسل اپنے قابو میں رکھتے ہیں تو وہ آپ کو کسی چھ سالہ بچے جتنا بنا دیتے ہیں جسے یہ بتایا جاتا ہے کہ بھلے ہی وہ کتنا چیخے چلائے‘ چاہے وہ کسی کو بھی کچھ بتائے‘ کوئی بھی ایسا نہیں ہوگا جو اسے سن یا سمجھ پائیگا؟

یہاں تک کہ اپنی ماں کو بھی نہیں آپ اپنے جذبات دوسرے کے اوپر مسلط نہیں کر سکتے یہاں تک میں ان لوگوں کو بھی یہ بتانے کیلئے ہمت نہیں سمیٹ سکی جو میرے قریب ترین تھے اور جانتے تھے کہ میں ڈپریشن سے نمٹ سے رہی ہوں‘ شاید اسکی وجہ میری محتاط طبیعت اور ذہنی دباؤ کے ظاہر آثار تھے مجھے لگا کہ انہیں بتانا ٹھیک نہیں ہوگا جیسے کہ میں نے پہلے بھی کہا کہ میں کسی کیلئے تکلیف کا باعث نہیں بننا چاہتی تھی ۔ جب آپ لوگوں کو اپنی تکالیف‘ اپنی زندگی کے حصوں کو دوبارہ سے ترتیب دینے سے لیکر بیماری کا بہتر انداز میں مقابلہ کرنے تک‘ کو بتانے سے گریز کرتے ہوئے اپنے لئے پابندیاں کھڑی کرتے ہیں تب تب آپ خود کومزید تکلیف اور کرب میں دھکیلتے جاتے ہیں کیونکہ دیگر لوگوں کو تکلیف پہنچنے کے ڈر سے جب تک آپ اپنے لئے کھڑے نہیں ہوتے تب تک آپ کو تکلیف پہنچانے والے عناصر مزید تقویت پاتے جاتے ہیں لوگوں کو خودکشی یا ڈپریشن کے بارے میں لیکچرز دینے سے بہتر ہے کہ ایک لمحہ رک کر ان کی بات سنیں اور ان کے لئے کچھ عملی اقدام کریں سوچئے کہ آپ کے اردگرد لوگوں کو آپ کی کتنی ضرورت ہے! (بشکریہ: ڈان۔ تحریر: ثناء سلیم۔ ترجمہ: اَبواَلحسن اِمام)