بریکنگ نیوز
Home / کالم / کیا ٹرمپ کا مواخذہ ممکن ہے؟

کیا ٹرمپ کا مواخذہ ممکن ہے؟


80فیصد کے قریب ری پبلکن ووٹرز ڈونلڈ ٹرمپ کے حامی ٹھہرے اس حقیقت کے پیش نظر کیا یہ ممکن ہے کہ اسکا کوئی مواخذہ کرسکے؟ اسے اگر اپنے منصب سے ہٹایا جاسکتا ہے تو صرف اور صرف بیلٹ باکس کے زور پر‘ ٹرمپ کے ممکنہ مواخذے کی بات امریکہ میں آج کل زبان زد عام ہے اس کی بازگشت امریکہ کے ایوان اقتدار میں سننے میں آرہی ہے اکثر لوگ چاہتے ہیں کہ اس نرگسیت زدہ‘ عاشق مزاج‘ خود پرست اور خود فریفتہ سے چھٹکارا حاصل کیا جائے بعض مبصرین کا تویہ خیال ہے کہ اس کے روس کے ساتھ مبینہ راز ونیاز کی وجہ سے اسے اس کے منصب سے فوراً علیحدہ کیا جائے یہ بظاہر ناممکن نظر آتا ہے بقول کسے’ایں خیال است‘ محال است‘ جنون است‘ اور اس کی وجہ یہ ہے کہ اب تک کوئی امریکی صدر زبردستی اپنے منصب سے محروم نہیں کیا گیا ہے دو امریکی صدور اینڈریو جانسن1865-69 اور بل کلنٹن 1993-2001کا امریکی ایوان نمائندگان نے مواخذہ تو ضرور کیا پر بعد میں امریکی سینٹ نے ٹرائل کے بعد ان دونوں کو بری کردیا امریکی آئین کے سیکشن چار آرٹیکل گیارہ کے تلے ایوان نمائندگان کو مواخذے کا حق تو حاصل ہے پر یہ حق صرف سینٹ کو حاصل ہے کہ وہ کسی صدر کو سزا دے امریکی صدور کا آئین میں High Crime یعنی بڑے جرم کی تشریح نہیں کی گئی یہ اختیار ایوان نمائندگان کو دیاگیا ہے کہ وہ کسی جرم کو قابل مواخذہ قرار دے دیں یہی وجہ ہے کہ ٹرمپ کو کوئی پریشانی نظر نہیں آرہی اور وہ آرام سے اپنے فالتو اوقات میں بڑے چین اور سکون کیساتھ اپنا پسندیدہ کھیل گالف کھیل رہا ہے اسے پتہ ہے کہ اس کی سیاسی پارٹی کا ایوان نمائندگان پر کنٹرول ہے اور اس کی پارٹی کی یہ عددی اکثریت با آسانی اسے 2018ء کے اواخر میں ہونے والے درمیانی عرصے کے الیکشن تک برقرار رکھ سکتی ہے اور سینٹ میں بھی ری پبلکن پارٹی کی اکثریت ہے اکثر امریکی سینیٹرز کا خیال ہے کہ ٹرمپ کوئی ایسی فاش اور سنگین غلطی نہیں کرے گا کہ اس کے مواخذے کی ضرورت پیش آئے یہ درست ہے کہ گزشتہ جنوری میں ٹرمپ جب وائٹ ہاؤس کا مکین بنا تو ماضی قریب کی تاریخ میں اس سے زیادہ غیر مقبول صدر کبھی بھی وائٹ ہاؤس میں براجمان نہیں ہواتھا ۔

پر اس کے باوجود آج 80 فیصد ری پبلکن ووٹرز اسکی حمایت کررہے ہیں ان حالات میں کوئی سوچ بھی نہیں سکتا کہ اس کا مواخذہ ممکن ہے اکثر امریکیوں کے نزدیک ٹرمپ کو ہٹانا ان کی ترجیحات میں شامل نہیں انہیں نئے امریکی صدر کو یہ موقع فراہم کرنا چاہئے کہ وہ امریکہ کو درپیش خارجی اور اندرونی مسائل کا آئندہ چار برس میں کوئی خاطر خواہ حل نکال سکے خدا لگتی یہ ہے کہ اسے وائٹ ہاؤس سے صرف اس پرانے رستے پر عمل پیرا ہوکر ہی نکالا جاسکتا ہے اور وہ یہ ہے کہ کوئی دوسراصدارتی امیدوار اسے الیکشن میں بیلٹ باکس کے ذریعے مات دے امیگریشن کے بارے میں ٹرمپ کی سخت گیر پالیسی سے بلاشبہ لاکھوں تارکین وطن متاثر ہوئے ہیں پر یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ اکثر امریکی چاہتے ہیں کہ ان کے باڈرز پر سخت سرکاری کنٹرول ہو تاکہ امریکہ میں نوکریوں یا شہریت حاصل کرنے کے لئے وہ لوگ با آسانی نہ آسکیں کہ جو یہاں آکر امریکہ کا امن عامہ خراب کرتے ہیں اور زور زبردستی اپنے سیاسی یا مذہبی خیالات یارجحانات ان امریکیوں پر لاگو کرناچاہتے ہیں کہ جنہیں اپنی روایات‘ اپنا کلچر اپنے رہن سہن اور بودوباش کا طریقہ عزیز ہے یہی وجہ ہے کہ جب الیکشن میں ٹرمپ نے بارڈر کنٹرول کا نعرہ لگایا تو عام امریکیوں نے اس پر لبیک کہا ۔