بریکنگ نیوز
Home / اداریہ / فاٹا انضمام کا کلیہ؟

فاٹا انضمام کا کلیہ؟

خیبرپختونخوا کابینہ کے گزشتہ روز ہونیوالے اجلاس کا ایجنڈہ اہم نکات پر مشتمل تھا جس کے بہت سارے دیگر آئٹمز نمٹانے کے ساتھ کیبنٹ نے فاٹا کے صوبے میں انضمام کے حوالے سے دیئے گئے فارمولے کو مسترد کردیا، صوبائی کابینہ نے اپنے تحفظات وخدشات کی بناء پر بعض مطالبات پیش کرنے کیساتھ یہ بات بالکل واضح کردی کہ فاٹا اراکین صوبائی اسمبلی کو صرف وزیر اعلیٰ کے انتخاب تک محدود رکھنا زیادتی ہے اور یہ کہ مکمل اتھارٹی نہ ملنے کی صورت میں سپریم کورٹ سے رجوع بھی کیاجائیگا، کابینہ نے تعلیم وصحت کے اداروں میں فاٹاسٹوڈنٹس کا کوٹہ دگنا کرنے کیساتھ اسے 10سال تک برقرار رکھنے کا مطالبہ بھی کیا، کابینہ کا فوکس اصلاحات کا شیڈول اور اس پر عمل درآمد کا میکنزم رہا، مہیا تفصیلات کے مطابق صوبائی حکومت ایک ڈائریکٹوریٹ آف ٹرانزیشن اینڈ ریفارمز کا قیام چاہتی ہے جو صوبے کے ساتھ مربوط رہے، فاٹا ریفارمز کمیٹی کی تشکیل نو اور اس کا درجہ عمل درآمد کیلئے کابینہ کمیٹی جیسا کرنے کا بھی کہہ رہی ہے، صوبائی کابینہ نے بھی اس کمیٹی میں وزیراعلیٰ کورکمانڈر اور چیف سیکرٹری کو شامل کرنے کی تجویز دی ہے۔

اس میں کوئی دوسری رائے نہیں کہ خیبرپختونخوا فاٹا انضمام کے حوالے سے اہم ترین سٹیک ہولڈرہے، ریکارڈ پر یہ بات بھی ہے کہ ہمارے ہاں سرکاری اداروں میں معاملات نمٹانے کی رفتار انتہائی سست ہے، دستور میں ترمیم کے بعد سے آج تک مرکز اورصوبوں کے درمیان بعض اداروں اور ان کے ملازمین سے متعلق کیس ابھی تک ہوا میں معلق ہے، ایسے میں فاٹا کے انضمام اور اس سے جڑے دیگر کاموں کو ایک مکینزم کے ذریعے نہ نمٹایاگیا تو یہ سب بھی تاخیر کا شکار ہو جائیگا، وفاق نے فاٹا انضمام سے قبل مشاورت کاعندیہ دیا اور خصوصی کمیٹی نے طویل ترین دورے بھی کئے، اب بھی خیبرپختونخوا کے ساتھ کسی اور کی جانب سے بھی کوئی خدشات یا تحفظات سامنے آتے ہیں تو ان پر مشاورت کی گنجائش ضرور ہونی چاہئے، ساتھ میں عمل درآمد کا کام منظم انداز میں کیاجائے، اس ضمن میں ریفارمز کمیٹی کی سفارشات بھی موجود ہیں جن میں ایک علیحدہ ڈائریکٹوریٹ کی تشکیل کا بھی کہاگیا ہے۔

پشاور پھر جل تھل

صوبائی دارالحکومت میں گزشتہ روز ہونیوالی بارش نے ایک بارپھر شہر کی گلیوں اور بازاروں کو جوہڑوں میں تبدیل کردیا موسلادھار بارش نے شہر کی صفائی اور نکاسی آب کے نظام میں بہتری کیلئے اب تک کی تمام کوششوں کو بے ثمر ثابت کیا، اس دوران سب سے اہم اور قابل تشویش بات سیوریج لائنوں کی بلاکیج تھی، ان لائنوں پر لوڈ ان کی استعداد سے زیادہ ضرور ہے تاہم ان میں پانی کا بہاؤ پلاسٹک کے شاپنگ بیگز نے متاثر کررکھا ہے، ذمہ دار ادارے اس مسئلے سے نمٹنے کیلئے جتنی بھی کوششیں کرلیں ان کی ایکسرسائز اور برسرزمین نتائج کے درمیان گیپ اسی طرح برقرار رہے گا، مسئلے کاپائیدار حل چھوٹی بڑی سیوریج لائنز کے ساتھ تمام آبی گزرگاہوں کو پلاسٹک شاپنگ بیگز سے آزاد کرنے سے ہی ممکن ہے، وزیراعلیٰ نے اس صورتحال کا ادراک کرتے ہوئے اصلاح احوال کا حکم بھی دیا تاہم کیس ابھی تک یکسونہ کیاجاسکا، کیا ہی بہتر ہو کہ صفائی مہم چلانے اور دیگر عارضی اقدامات کی بجائے مسئلے کے دیرپا حل ہی پر توجہ مرکوز رکھی جائے۔