بریکنگ نیوز
Home / کالم / ٹریفک کے مسائل

ٹریفک کے مسائل


ابھی اتنا عرصہ نہیں گزرا کہ ہمارے ہاں ٹریفک کا کوئی مسئلہ نہیں تھا۔چوک پر کھڑا ایک سپاہی اگر نہ بھی ہوتا تو بھی ٹریفک رواں دواں رہتی۔ وجہ یہ تھی کہ سڑک پر دوڑنے والی گاڑیاں خال خال نظر آیا کرتی تھیں۔چند بسیں جی ٹی ایس کی تھیں جو روڈ ویز ہاؤس سے یونیورسٹی جاتی تھیں ۔ جن میں ایک یا دو ایسی بھی تھیں جو روڈ ویز ہاؤس سے ایگریکلچر کالج تک جایا کرتی تھیں باقی کی اسلامیہ کالج کے سٹاپ تک جایا کرتی تھیں۔جس دن بھی ہمیں کسی کام سے شہر جانا ہوتا یا صدر تک جانا ہوتا تو یہی مسئلہ ہوتا کہ جاتے کو تو چلو اسلامیہ کالج سٹاپ سے بس آسانی سے مل جائے گی مگر واپسی کا کیا ہوگا۔بسوں کیساتھ لٹک لٹک کر جانا پڑتا جو ظاہر ہے کہ ایک تکلیف دہ عمل ہوتا تھا۔پھر یوں ہوا کہ جی ٹی ایس والوں نے شہر سے اسلامیہ کالج تک ڈبل ڈیکر بسیں چلادیں یہ غالبا! چار یاپانچ بسیں تھیں مگر جہاں جہاں سے گزرتی تھیں سواریاں پھر نظر نہیں آتی تھیں ہمارے وہ دوست جو روزانہ شہر سے آیا کرتے تھے انہوں نے اس بس کا نام مشکل کشا رکھ چھوڑا تھا۔اسکے علاوہ دیگر شہروں کو جانے والی بسیں بھی اتنی زیادہ نہ تھیں اسلئے کسی سپاہی کو خصوصی طو رپر چوکوں میں ٹریفک کنٹرول کیلئے کھڑا نہیں ہونا پڑتا تھامگر ایک بات بہت واضح تھی کہ سڑکوں پر چلنے والی گاڑیوں کے ڈرائیور واقعی ڈرائیور تھے۔اُن کے پاس باقاعدہ لائسنس تھے اور لائسنس کا حصول آج کی طرح نہ تھا بلکہ ڈرائیونگ لائسنس کا حصول اچھا خاصا مشکل کام تھا۔پھر یوں ہوا کہ ایک حکومت نے اقتدار میںآ کر کچھ بیرونی موٹر کمپنیوں سے’’ معاہدے ‘‘ کئے اور پاکستان میں موٹروں کی ریل پیل ہو گئی۔ اس کے ساتھ ہی کے پی کے حکومت اور پنجاب حکومت نے ٹرانسپورٹ سے اپنا ہاتھ اٹھا لیا اور ساری ٹرانسپورٹ پرائیوئٹ سیکٹر میں چلی گئی۔ پہلے تو کچھ عرصہ مختلف روٹوں پر باقاعدہ پرمٹ حاصل کیا جاتا تھا اور حکومتوں کو معلوم ہوتا تھا کہ کسی سڑک پر کتنی ٹریفک جا رہی ہے ۔

آپ کسی بھی روٹ پر چلنے والی ٹریفک کو دیکھیں تو اس میں دو فی صد بسیں یا دوسری ٹیکسی گاڑیاں ایسی ہونگی جن کے پاس روٹ پرمٹ ہوگا باقی اٹھانوے فی صد بسوں وغیرہ کے پاس کوئی روٹ پرمٹ نہیں ہے۔ اسکے ساتھ ہی حکومت نے ایک اور رعایت عوام کو دی ہے کہ وہ کسی بھی بنک کے ذریعے کار خرید سکتے ہیں۔اس سے یہ ہوا کہ جس کو ضرورت نہیں بھی تھی اُس نے بھی کار خرید لی اور سڑک پر دوڑا دی۔اب ان کار کے مالکوں میں سے بھی اٹھانوے فی صد بغیر لائسنس کے گاڑیاں دوڑا رہے ہیں ۔یہ وہ حالات ہیں کہ گاڑیاں سڑکوں پر اُن کی استعداد سے بڑھ چکی ہیں ۔ حکومت ہر سال ایک خطیر رقم سڑکوں کو چوڑا کر نے پر اور دو رویہ کرنے پر’’ خرچ ‘‘کر رہی ہے مگرٹریفک کے مسائل روز بروز بڑھ ہی رہے ہیں۔ اب تو کسی بھی شہر میں ، کسی بھی سڑک پر جائیں آپ کو دن میں دو تین دفعہ ضرور ٹریفک جام کا سامنا کرنا پڑے گا۔ اس لئے نہیں کہ سڑک کی استعداد کم ہے بلکہ اس لئے کہ کاروں کے سوار یہ جانتے ہی نہیں کہ کار کو کیسے اور کس طرف چلانا ہے۔ہر شخص یہ چاہتا ہے کہ وہ دوسرے سے پہلے اپنے سفر کے اختتام کو پہنچے ۔ اس کے لئے اُسے یہ خیال نہیں ہوتا کہ کس طرف سے اگلی گاڑی کو اوورٹیک کرنا ہے۔ او رسڑک پرجو سفید لکیریں لگی ہوئی ہیں۔

ان میں کون سی جگہ اوور ٹیک کے لئے ہے اور کہاں سے لکیر کہتی ہے کہ آپ اوور ٹیک نہیں کر سکتے۔اگر ٹریفک کچھ دیر کے لئے کسی بھی وجہ سے رک گئی ہے تو ہمارے نو دولتیوں کو یہ سینس نہیں ہے کہ کچھ دیر کو رک جائیں وہ غلط اوور ٹیک کر کے دوسری جانب سے آنے والی ٹریفک کو بھی روک دیں اور خود بھی پھنس جائیں گے۔اور جو سفر وہ ایک گھنٹے میں کرنے کے خواہشمند ہوتے ہیں وہ اسے دن بھر نہیں کر سکتے اور دوسروں کے لئے بھی درد سر کا باعث بنتے ہیں۔ اور اب تو میرے شہر ایبٹ آباد میں داخل ہونے کے لئے بھی ہمیں ایک میل کا سفر دو گھنٹوں میں طے کرنا پڑتا ہے۔