بریکنگ نیوز
Home / کالم / ایک لمحہ فکریہ

ایک لمحہ فکریہ


اقوام متحدہ کی ایک حالیہ رپورٹ کہتی ہے کہ پاکستان نظام تعلیم جدید دور کے تقاضوں سے 60 سال پیچھے ہے یہ ہمارے لئے واقعی شرم کا مقام بھی ہے کہ اور سوچ کا بھی کہ ایک طرف اگر ہمارے ملک میں شرح خواندگی کافی کم ہے تو دوسری جانب تعلیم کا معیار بھی کافی پست ہے یہ کتنے دکھ کی بات ہے کہ 50 لاکھ بچے تو سرے سے سکول جاتے ہی نہیں اور جو جاتے ہیں ان میں ایک کروڑ کے قریب سیکنڈری ایجوکیشن سے آگے نہیں جا پاتے یہ جو طبقاتی اور دہرا نظام تعلیم اس ملک میں نافذ ہے اس میں ایک طرف تو سرمایہ دار پیسوں کے بل بوتے پراپنے بچوں کو اعلیٰ سے اعلیٰ اور مہنگے سے مہنگے تعلیمی اداروں میں پڑھاتے ہیں تو دوسری جانب کروڑوں بچے سکول کا منہ تک نہیں دیکھ پاتے یہ طبقاتی نظام ایک طرف حاکم پیدا کر رہا ہے تو دوسری جانب محکوم۔ صحت عامہ کا حال کونسا اچھا ہے 80 فیصد آبادی کو توسرکاری ہسپتالوں میں مناسب علاج نہیں ملتا نہ ان کو دوائی ملتی ہے اور نہ بیڈ۔امیر کبیر تو چلو اپنا علاج معالجہ پرائیویٹ ہسپتالوں میں بہ آسانی کرا لیتے ہیں۔ اس ملک میں 70 فیصد لوگوں کو پینے کا صاف اور شفاف پانی میسر نہیں وہ اس جوہڑ یا تالاب سے پانی پیتے ہیں کہ جس میں جانور بھی منہ مارتے ہیں اور جہاں کپڑے بھی دھوئے جاتے ہیں‘ پبلک ٹرانسپورٹ ناپید ہے اور پرائیویٹ ٹرانسپورٹ کا یہ عالم ہے کہ چاہئے ویگنیں ہوں کہ بسیں ان میں مسافر کو اس طرح بٹھایا جاتا ہے جیسے وہ جانور ہوں اشرافیہ کو تو اس بات کا اندازہ ہے ہی نہیں کہ اس ملک کا عام آدمی کس عذاب میں مبتلا ہے یہ غربت مفلسی ناداری اور مفلوک الحال بڑی خطرناک شے ہے یہ اپنے اندر کمیونزم کے جراثم رکھتی ہے اس سے معاشرے کے غریب افراد میں سرمایہ داروں کے خلاف نفرت جنم لیتی ہے اور ایک دن وہ لاوے کی طرح پھٹ کر ہرچیز کو خس و خاشاک کی طرح بہا لے جاتی ہے ۔ معاشرے میں اونچ نیچ‘ امیری ‘ غریبی اور عدم مساوات کی بڑی وجہ غلط ترجیحات ہوتی ہیں۔

دوراندیش اور عقلمند حکمران وہ کہلاتے ہیں کہ جو اپنے ملکوں کے انسان وسائل کو ترقی دیتے ہیں اور ایسے منصوبے تشکیل دیتے ہیں کہ جن سے عام آدمی کی بنیادی ضروریات پوری ہوں مثلاً عام آدمی کی بنیادی ضروریات کیا ہیں ؟ دو وقت کی باعزت روٹی ‘ سر کے اوپر چھت ‘ بچوں کی تعلیم کیلئے سکول ‘ بیماری کی حالت میں ہسپتال میں داخلہ اور دوائی اور پینے کیلئے صاف ستھراپانی اور ایک فعال پبلک ٹرانسپورٹ۔ موٹرویز بھی مفید چیزیں ہیں لیکن ان کا نمبر بعد میں آتا ہے سب سے پہلے عام آدمی کی مندرجہ بالا ضروریات کو پورا کرنا ضروری ہوتا ہے۔ ہم ملائیشیا کے مہاتیر محمد اور چین کی قیادت نے اپنے ملکوں میں جس ڈگر پر اپنی معیشتوں کو چلایا ہے ان سے کافی سبق لے سکتے ہیں۔ نہ اب تک ہم اپنی ترجیحات درست کر سکے اور نہ اس ملک سے سرمایہ دارانہ نظام معیشت کا خاتمہ کر سکے زبانی باتوں میں البتہ ہمارا کوئی ثانی نہیں بلند بانگ دعوے کرنے میں ہمیں ملکہ حاصل ہے ۔ 2018ء کا الیکشن ایک لحاظ سے ہمارے سر پر آ گیاہے لیکن ابھی تک ہم نے بلیک اینڈ وائٹ میں کسی بھی سیاسی پارٹی کا منشور نہیں دیکھا کہ جس میں ملک کو درپیش مسائل کا ذکر ہو ان پر سیر حاصل بحث کی گئی ہو اور ان کے حل کیلئے کوئی راستہ متعین کیا گیا ہو بس جب الیکشن نزدیک ہوتا ہے۔

تو ہر سیاسی پارٹی اتمام حجت کے طور پر جلدی جلدی اپنا منشور پیش کر دیتی ہے جو اکثر مبہم ہوتا ہے اس میں کھل کر کوئی بات نہیں کی جاتی بس مستقبل کا صیغہ استعمال کرکے قوم سے وعدے کر دیئے جاتے ہیں کہ ہم اقتدار میں آ کر یہ کر دیں گے وہ کر دیں گے لیکن وہ کیسے کریں گے یہ کوئی نہیں بتاتا۔ر ہی بات عوام کی وہ ہر مرتبہ ان کی عیارانہ اور چکنی چپٹی باتوں میں آ کر ان کو دوبارہ مسند اقتدارپر بٹھا دیتے ہیں اقبال نے یوں ہی تو نہیں کہا کہ
جمہوریت وہ طرز حکومت ہے کہ جس میں
بندوں کو گنا کرتے ہیں تولا نہیں کرتے