Home / کالم / شمیم شاہد / مردم شماری‘ شکوک کا خاتمہ ناگزیر

مردم شماری‘ شکوک کا خاتمہ ناگزیر

لگ بھگ19سال بعدمردم شماری ایک ایسے وقت پرہورہی ہے جب ملک کے طول وعرض میں نہ صرف سیاسی محاذآرائی عروج پرہے بلکہ تمام ترسیاسی جماعتوں کوایک دوسرے پراعتماد بھی نہیں‘ چارمیں سے دواکائیوں میں حزب اختلاف میں شامل جماعتوں کی حکومت ہے جبکہ خیبر پختونخوا ‘ بلوچستان اورملحقہ قبائلی علاقوں میں صورتحال پنجاب اورسندھ سے بھی مختلف ہے بلوچستان کی زیادہ ترسیاسی جماعتوں کومردم شماری پرتحفظات ہیں نہ صرف تین چھوٹے صوبوں بلکہ پنجاب ہی سے تعلق رکھنے والے اوروفاق پریقین رکھنے والے بھی مردم شماری کے اس جاری عمل کو مشکوک قرار دے رہے ہیں۔

ایک طرف مردم شماری کرنے والے سرکاری ملازمین کی جانب سے فارم کوپنسل سے بھرنے کے عمل نے لوگوں کو شکوک وشبہات میں مبتلاکردیاہے تودوسری طرف وزارت داخلہ کی جانب سے کراچی کے بعض علاقوں بلوچستان کے ضلع چاغی خیبر پختونخوا اور ملحقہ قبائلی علاقوں میں نئے شناختی کارڈکے اجراء پرپابندی جیسے عوامل مردم شماری پرتحفظات کواب یقین میں تبدیل کررہے ہیں بتایاجاتاہے کہ صرف کراچی میں45لاکھ افرادکواجنبی قرار دیا جا رہاہے ان میں اکثریت پختونوں کی ہے بالکل اسی طرح پنجاب کے مختلف علاقوں میں پچھلی کئی دھائیوں سے آباد پختونوں کو بھی مردم شماری کے عمل سے الگ تھلگ رکھنے کی کاوشیں کی جارہی ہیں بلکہ انکو خیبرپختونخواکی طرف نقل مکانی پر مجبور کیاجارہاہے ۔

بلوچستان میں توپہلے ہی سے احساس محرومی پایا جاتا ہے گوادر میں بین الاقوامی طرزکی بندرگاہ کی تعمیراورچین کی اربوں ڈالرکی سرمایہ کاری نے توبلوچ قیادت کوانگشت بدندان کردیاہے ایک طرف انکے صدیوں سے پسماندہ اورنظرانداز کئے جانیوالے علاقہ میں اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری اور دوسری طرف اپنی ہی دھرتی میں ان کے اپنے وجود کو خطرہ ‘ خیبر پختونخوا اور قبائلی علاقوں میں پچھلے کئی برسوں سے نہ صرف لاکھوں افرادکے قومی شناختی کارڈیہ کہہ کربلاک کردئیے گئے ہیں کہ آپکا تعلق افغانستان سے ہے بین الاقوامی قواعد و ضوابط کے مطابق 10سال کے بعد مردم شماری اورخانہ شماری کا انعقاداس غرض سے کیاجاتاہے تاکہ لوگوں کی صحیح تعداد معلوم کرنے کے علاوہ ان کی ضروریات اور سہولیات سے بھی آگاہی حاصل ہو۔

اس مردم شماری او رخانہ شماری ہی کے ذریعے ریاستوں کے حکمران اور پالیسی سازحاصل کردہ اعدادوشمارکی بنیادپرنہ صرف معاشی انتظامی اورترقیاتی منصوبے وضع کرتے ہیں بلکہ ان اعداد وشمارکی بنیادپرداخلہ اور خارجہ پالیسیاں بھی بنائی جاتی ہیں ترقی یافتہ ممالک میں مردم شماری اورخانہ شماری کے علاوہ زندگی کے مختلف شعبوں بالخصوص تعلیم‘صحت‘ تجارت ‘ صنعت وحرفت اور دیگر میں سالانہ بنیادوں پر سروے اسلئے کرائے جاتے ہیں تاکہ ان محکموں یا شعبوں میں کمی بیشی کااندازہ ہوسکے مگرمملکت عزیزمیں مختلف وجوہات کی بنا پر ایسانہیں ہے ۔

مردم شماری کاعمل لگ بھگ19سال کے بعد سپریم کورٹ کے حکم پرہورہاہے جبکہ صحت‘تعلیم اوردیگرشعبوں میں سروے کاتوکوئی تصورہی نہیں مردم شماری اورخانہ شماری کافیصلہ ہوا توملک بھرکے لوگ بہت زیادہ خوش دکھائی دےئے کیونکہ چھوٹے صوبوں کے سیاسی وسماجی حلقوں کا خیال تھاکہ اس کے نتیجے میں ان کی صحیح آبادی کا تعین ہو سکے گااوراس تعین کے نتیجے میں نہ صرف قومی اور صوبائی اسمبلیوں کی نشستوں میں اضافہ ہو گابلکہ قومی مالیاتی کمیشن میں صوبے کاحصہ بڑھ جائیگا بالکل اسی طرح کی صورتحال سندھ اوروفاق کے زیرانتظام قبائلی علاقوں میں بھی تھی تاہم بلوچستان کے معروضی حالات کے پیش نظر وہاں کے حالات مختلف تھے بلوچستان کے سیاسی و قوم پرست رہنمااس مردم شماری کوملتوی کرانا چاہتے تھے کیونکہ انکاموقف تھاکہ لاکھوں کی تعداد میں افغان مہاجرین نہ صرف بلوچستان کے طول و عرض میں رہتے ہیں بلکہ ان لوگوں نے پاکستان کے قومی شناختی کارڈبھی حاصل کئے ہیں لہٰذابلوچ سیاسی وقوم پرست رہنماسب سے پہلے افغان باشندوں کوافغانستان واپس بھجوانے پرزوردے رہے ہیں جس کا جو بھی مطالبہ ہو تاہم حکومت کو چاہئے کہ وہ مردم شماری اورخانہ شماری کے اس عمل کو صاف وشفاف بنائے ورنہ مشکوک طریقے سے مردم شماری اورخانہ شماری کے اس عمل سے ملک و قوم کودرپیش مسائل حل ہونے کے بجائے مزید پیچیدہ ہوسکتے ہیں۔