بریکنگ نیوز
Home / کالم / قیادت کی ذمہ داریاں

قیادت کی ذمہ داریاں


قیادت کا محض مخلص ہونا ہی کافی نہیں‘ اسکا دلیر‘ دوراندیش ہونا‘مصلحتوں‘سیاسی مفادات سے بالاتر ہونا بھی ضروری ہے اس میں دباؤ کو خاطر میں کسی صورت نہ لانے کی صلاحیت ہونی چاہئے اس حوالے سے بانی پاکستان قائداعظم محمدعلی جناح یقینارول ماڈل ہیں ان جیسی کمٹمنٹ ان کے بعد آنیوالے حکمرانوں میں ہوتی تو آج قوم کو دگرگوں حالات کا سامنا ہوتا نہ ملک دہشت گردی کی جنگ کا ایندھن بن رہا ہوتا آج پاکستان جس دہشت گردی کی لپیٹ میں ہے‘ اس میں کہیں نہ کہیں بھارت ملوث ہے بھارت کشمیر کا بدلہ بلوچستان میں لینے کا برملا اعلان کرتا ہے اسکی طرف سے پاکستان میں ایجنٹ خریدنے کی بات ہوتی ہے۔

قائداعظم جیسا زیرک سیاستدان برصغیر میں نہیں تھا قائداعظم کو مسئلہ کشمیر کی اہمیت کا ادراک اور اس کے طریقہ کار کا علم تھا‘ قائد ایک صلح جو انسان تھے‘ انہوں نے مسئلہ کشمیر کوطاقت اور فوج کشی کے ذریعے حل کرنے کی کوشش کی تو محض اسلئے کہ بنیے کی فطرت سے آگاہ قائد کو اسی طریقے سے کشمیر کی آزادی کا یقین تھا انکے بعد آنے والے حکمرانوں نے مسئلہ کشمیر مذاکرات کے ذریعے حل کرنے کی کوشش کی جو اب تک بے سود ثابت ہوئی مسئلہ کشمیر کے حل میں اب اتنی دیر ہوچکی ہے کہ یہ جنگ سے بھی حل ہوتا نظر نہیں آرہا ۔

اس کے لئے معروضی حالات میں زیرک لیڈر شپ کی ضرورت ہے بھارت نہ صرف مسئلہ کشمیر سے دنیا کی نظریں ہٹانے کیلئے سازشوں کے ذریعے پاکستان کو بحرانوں میں مبتلا کرتا ہے اور دہشت گردی جیسی آفت کہیں سے بھی نازل ہو اسے مزید تباہ کن بنانے کیلئے حربے اور ہتھکنڈے استعمال کرتا ہے اسلام کے نام پر سادہ لوح مسلمانوں کو گمراہ کرنے والے شدت پسند اہم ترین دفاعی تنصیبات کو نشانہ بناتے رہے ہیں انہوں نے اورین جیسے طیارے تباہ کر دیئے جن کا کوئی متبادل نہیں جی ایچ کیو‘ اہم فضائی اڈوں‘ آئی ایس آئی دفاتر اور کمانڈوز میس پر حملے کون سے اسلام کے فروغ کے لئے ہو سکتے ہیں۔

دہشت گردوں کے ناپاک وجود سے ارض پاک کو پاک کرنے کیلئے آپریشن ضرب عضب شروع کیا گیااسکی کامیابیوں پر کسی کو شک و شبہ نہیں مگر پونے تین سال میں اسکے مطلوبہ نتائج برآمد نہیں ہوسکے اسی لئے اس آپریشن کا دوسرا مرحلہ ردالفساد شروع کیا گیا دہشت گردوں کے خلاف لڑنے والی فورسز کی کمٹمنٹ میں دو رائے نہیں ہو سکتی انسداد دہشت گردی کیلئے ’نیشنل ایکشن پلان‘ قوم کی بہترین تدبیر ہے‘ اسے اداروں نے بروئے عمل لانا تھا لیکن ہمارے ادارے نیشنل ایکشن پلان پر خود کو پوری طرح مرکوز ثابت نہیں کر پائے وزیراعظم وقتًا فوقتاً صوبوں اور اداروں پر نیپ کی روح کے مطابق عمل کرنے پر زور دیتے رہتے ہیں ۔

جنرل راحیل شریف کی طرح انکے جانشین جنرل باجوہ بھی نیپ پر عمل کی بات کرتے ہیں دہشت گردوں کی بیرونی فنڈنگ نہیں رک سکی‘ ان کے سہولت کاروں پر کڑا ہاتھ ڈالنے سے گریز کی پالیسی نظر آتی ہے حکومت بتائے پارلیمنٹ میں ایسے کتنے لوگوں کیخلاف کاروائی ہوئی؟ فورتھ شیڈول میں شامل لوگ انتخابات لڑ کر جیت جاتے ہیں جیت انکی مقبولیت کی آئینہ دار نہیں‘ انکے خوف کی علامت ہے اس خوف میں بڑے بڑے سیاست دان مبتلا ہوں تو اچنبھے کی بات نہیں جسٹس قاضی فائز عیسٰی کی رپورٹ میں اداروں اور وزراء کی مصلحتوں اور ان کے دہشت گردوں سے رابطوں کی تفصیل درج ہے اس رپورٹ پر عمل کے بجائے اسے متنازعہ بنا دیا گیا۔

فوج دہشت گردوں کے خاتمے کیلئے اپنی جان پر کھیل کر کردار ادا کررہی ہے مگر اس ناسور سے نجات صرف فوج کے بس کی بات نہیں‘ حکومت کو اپنا کردار ادا کرنا ہے۔ ’’دہشت گردوں کی کمر توڑ ی‘ اب بچے کھچے دہشت گردوں کا صفایا کرنا باقی رہ گیا‘‘ ایسے بیانات حقائق کی عکاسی نہیں کرتے ’’آخری دہشت گرد کے خاتمے تک جنگ جاری رہے گی۔‘‘یہ سیاسی و عسکری قیادت کی طرف سے عموماً کہا جاتا ہے آخری دہشت گرد کا خاتمہ کب ہوگا؟ اگر حکمران مصلحتوں کا شکار اور سیاسی مفادات کے اسیر رہتے ہیں تو آخری دہشت گرد کا دسیوں بیسیوں سال میں بھی خاتمہ ممکن نہیں ہوگا سرحدیں بند کرکے کسی حد تک محفوظ رہا جا سکتا ہے لیکن اندرونی دہشت گردی کا خاتمہ صرف سرحدیں بند کرنے سے ممکن نہیں حالات پہلے سے آج دہشت گردوں کے خاتمے کیلئے کہیں زیادہ سازگار ہیں۔

قبائلی علاقہ جات میں ایک ہی روز میں دہشت گردی کے تین واقعات پر تشویش ہے‘ وہیں یہ اطمینان بھی ہے کہ شاہ دوران اور اس کے ساتھی دہشت گردوں کے ٹھکانے کی اطلاع مقامی لوگوں نے دی تھی۔ کبھی مقامی لوگ دہشت گردوں کو پناہ دیاکرتے تھے‘ آج بھی ان علاقوں میں مقامی لوگ شدت پسندوں کی حمایت کرتے ہوں گے تاہم اب انکے خلاف اٹھنے والے اب بھی کم نہیں ہیں۔

ایسے لوگوں کو تحفظ دینے کی ضرورت ہے۔ حکومت‘ فوج اور اداروں کو صحیح معنوں میں ایک دوسرے کے ساتھ مل کر مربوط کاروائیاں کرنا ہوں گی جن کے ذریعے سے شدت پسندوں اور انکے سہولت کاروں کو ملنے والا تعاون ختم کیا جاسکتا ہے انسداد دہشت گردی کی حکمت عملی اپنی ساخت میں جامع ہے یا نہیں اِس بحث کی بجائے اگر اس کے بیس نکات میں سے ہر ایک پر عمل درآمد یقینی بنایا جاتا ہے تو اس سے داخلی محاذ پر بڑی کامیابی حاصل کی جا سکتی ہے۔ (بشکریہ: دی نیوز۔ تحریر: ڈاکٹر شہربانو۔ ترجمہ: اَبواَلحسن اِمام)