بریکنگ نیوز
Home / کالم / پردے کی پابندی

پردے کی پابندی


ایک بات کی ہمیں ہمیشہ شکایت رہی ہے کہ ہم میں سے کوئی بھی اپنے فیلڈ کے علاوہ کسی بھی دوسری فیلڈ میں ٹانگ نہیں اڑاتامثلاً ایک ریاضی دان اگر اپنے مضمون میں کوئی بات کرتا ہے تو کوئی بھی دوسرا جو ریاضی سے تعلق نہیں رکھتا اسے ٹوکتا نہیں ہے اگر اس پر کوئی بات کرے گا تو وہ لازماً ریاضی ہی کا ماہر ہوگااسی طرح اگر کوئی انسانی جسم اور اسکے متعلقات کا ذکر کرے گا تو وہ علم الحیوانات کا ماہر ہی ہوگا عام انسان اس میں کوئی بات کرنیکا مجاز نہیں ہو گااگر کوئی ادویات میں کمی بیشی ہو رہی ہے تو اس میں اسی مضمون کا ماہر بات کریگاکوئی دوسرا اگر کرے گا تو غلط کرے گاکہنے کا مطلب یہ کہ ہر انسان کا ایک علم کا میدا ن ہے اس میدان میں وہی بات کرنے کا مجاز ہے جو اس میدان کا ماہر ہے جب بھی کوئی دوسرا اس میدان میں بات کریگا تو اسکی بات قابل قبول نہیں ہوگی۔

ہمارے بہت سے نقاد جب کسی پر تنقید کرتے ہیں تو وہ مثالیں یورپین ماہرین اور فلسفہ دانوں کی دیں گے اور انکی علمیت پر اس وقت ہنسی آتی ہے کہ جب وہ مثال میں ایک ماہر طبیعات کا نام ایک شاعری کی صنف پر تنقید کرتے ہوئے لیں گے اب ظاہر ہے کہ ان کے سامعین یا قارئین کویہ تو معلوم نہیں ہوتا کہ جس شخص کا یہ آدمی حوالہ دے رہا ہے اسے تو شاعری کے ابجد کا بھی پتہ نہیں اس لئے کہ ایک کیمیا دان یا ایک ماہر طبیعات کو شاعری سے کیا لینا دینا۔

مگر ہمارے نقاد انکی ضرور مثال دیں گے ایک میدان ایسا ہے کہ جس پر بولنے میں کسی پر کوئی قدغن نہیں اور وہ ہے مذہب کا میدان۔ اور اسکی مثال حالیہ دنوں میں بڑے بڑے سیاست دانوں نے دی ہے کہ جہاں تک قانون کا تعلق ہے انہوں نے اعلیٰ ترین ڈگریاں لی ہوئی ہیں مگر سورۃ اخلاص نہیں آتی۔ ایسی سورۃ کہ جس کو ایک دیہاتی ان پڑھ بھی اپنی نماز میں ضرور پڑھتا ہے مگر جب کوئی دین کا مسئلہ آ جاتا ہے تو یہی لوگ بڑھ چڑھ کر اس پر بولتے ہیں اور دین اسلام کے ہر حکم کو مغرب کی کسوٹی لیکر پرکھتے ہیں جبکہ مغرب کا دین اسلام سے کوئی تعلق ہی نہیں ہے اس میں اس بات کا خیال رکھنا ضرور ی ہے کہ آپ جو کچھ کہہ رہے ہیں وہ کہیں آپ کو اسلام سے خارج تو نہیں کر رہاہمارا عقیدہ ہے کہ قرآن کریم اللہ کی نازل کردہ کتاب ہے اور اس میں کسی قسم کی کمی بیشی نہ ہوئی ہے اور نہ ہو سکتی ہے اور یہ بھی کہ جب ہم مان لیتے ہیں کہ یہ اللہ کی طرف سے نازل کردہ کتاب ہے اور اس میں جو بھی احکام آئے ہیں وہ اللہ کی طرف سے ہیں اور اس کے کسی بھی حکم پر لے دے نہیں ہو سکتی۔

اگر ہم مسلمان ہیں تو ہمیں یہ احکام من و عن ماننے ہیں اور اگر ہم اس میں لے دے کرتے ہیں تو دائرہ اسلام سے خارج ہو جانے کا خدشہ ہے پردے کا حکم قرآن پاک کا ہے اگر اس میں کوئی فلسفے بگھارنے کی کوشش کرتا ہے توہم یہ نہیں سمجھتے کہ وہ دائرہ اسلام میں رہ سکتا ہے۔ایک حکم میں کوتاہی کرنا خود کو گنہگاری کے زمرے میں شامل کرنا ہوتا ہے مگر کسی حکم کا انکار کرنا خود کو دائرہ اسلام سے خارج کرنا ہے ۔قرآن میں نبی کریم ؐ کو حکم دیا گیا ہے کہ ا پنی ازواج مطہرات اور مسلمان عورتوں کو حکم دیں کہ جب وہ باہر نکلیں تو اپنی چادریں منہ پر کر لیا کریں توکہ ان کو کوئی (مشرک ) پہچان کر تنگ نہ کرے اب ہماری مغرب زدہ خواتین اس حکم کو نہ ماننے کے جواز ڈھونڈ رہی ہیں اور پردے کو دل کا پردہ کہہ رہی ہیں یعنی پردہ نہ کرنے کے جواز میں قرآنی آیات سے انکار کر رہی ہیں تو ہم اس میں کیا کہہ سکتے ہیں۔

اب چونکہ ہم نے اپنی نئی نسل کو دین سے کافی دور کر لیاہے اسلئے اسکو اس طرف لانے کے کوئی ترغیب دینی بھی ضروری ہے چنانچہ ہائر ایجوکیشن نے ایک ترغیب کے لئے کہا ہے کہ حجاب کرنے والی بچیوں کو پانچ نمبر اضافی دیئے جائیں گے تو ہر طرف ایک ہا ہا کار مچ گئی اور ہمیں اسلام سکھانے کے لئے کئی ماہرین سامنے آ گئیں کہ حجاب کا کیوں کہا گیا ہے۔ مہربانی فرما کر قرآن پاک کے حکم کے انکار کے لئے جواز مت لائیں ۔