بریکنگ نیوز
Home / پاکستان / پیپلز پارٹی کو عوام میں فوجی عدالتوں کی ترمیم کی حمایت پر مقبولیت میں مزید کمی کا خوف

پیپلز پارٹی کو عوام میں فوجی عدالتوں کی ترمیم کی حمایت پر مقبولیت میں مزید کمی کا خوف

اسلام آباد۔ حکومت کو فوجی عدالتوں کی مدت میں توسیع کی 28ویں آئینی ترمیم کی منظوری کے لئے 104 کے ایوان بالامیں68ووٹ درکارہیں ترمیم کے حق میں ان ووٹوں کے حصول کے لئے بعض اعلی حکومتی عہدیدارسرگرم ہوگئے , ایک بار پھر پارلیمنٹ کی بڑی جماعتوں کی ضرورت پڑگئی تعاون کے حصول کے لئے پیغامات بھجوادیئے گئے حکمران جماعت کچھ دو کچھ لو کی صورتحال سے دوچار ہے ، مکمل اتفاق رائے یا دوتہائی اکثریت سے ترمیم کی منظوری کے لئے اتحادیوں سمیت مختلف جماعتوں کی قیادت سے بلواسطہ رابطوں کا سلسلہ شروع ہوگیا عددی برتری رکھنے والی جماعتوں نے بھی حکومت کو پریشان کرنے کی ٹھان لی اہمیت کا احساس دلایا جارہا ہے تاہم دوتہائی اکثریت جمع کرنے کی حکمت عملی طے کر لی گئی ہے۔

،ایک بار پھر پیپلز پارٹی سینیٹ میں اپنی عددی برتری کے باعث منت ترلے کروانے کی پالیسی پر گامزن ہے عوام میں اس ترمیم کی حمایت پر مقبولیت میں مزید کمی کا بھی پیپلز پارٹی کو خوف لاحق ہے اور اس معاملے پر پارٹی سینیٹرز حکومت کا ساتھ دینے کو گڑواگھونٹ بھی قرار دے چکے ہیں اور بظاہر پیپلز پارٹی اس ترمیم پر تنقید کر رہی ہے جب کی ذرائع کا دعوی ہے وہ متعلقہ حلقوں کو ترمیم کا مکمل ساتھ دینے کا پیغام دے چکی ہے اسی لئے اہم آئینی ترمیمی بل میں ضروری ردبدل کی محرک اس جماعت کو منظوری کے تمام مراحل میں مکمل ساتھ دینے کے وعدہ کی تسلسل سے یادہانی کروائی جارہی ہے ۔خصوصی رپورٹ کے مطابق بعض جماعتیں ایوان بالا میں آئینی ترمیم سے متعلق دوتہائی اکثریت کے حصول کے لئے حکومت کو درپیش شدید مشکلات اور مجبوری کا پوراپورا فائدہ اٹھانا چاہتی ہیں اور اپنے مزید مفادات کے تحفظ کی ہر صورت یقین دہانی حاصل کرنا چاہتی ہیں ،اپوزیشن کی بڑی جماعت نے مفاہمت کے لئے اپنی شرائط پوری ہونے کے بدلے میں فوجی عدالتوں کی مدت میں توسیع کی آئینی ترمیم کو سینیٹ سے بھی کارروائی میں بغیر کسی خلل کے منظور کر وانے کا وعدہ کر رکھا ہے اور اعلی سطح پر ساتھ دینے کی ضمانت دی گئی ہے ۔

ایوان بالا میں حکومت ترمیم مخالف جماعتوں سے بھی مفاہمت کے لئے کوشاں ہے ان میں پختونخواملی عوامی پارٹی ،بلوچستان نیشنل پارٹی(مینگل) اور دینی جماعتیں شامل ہیں خیال رہے کہ قومی اسمبلی اپوزیشن کی بعض ترامیم جن میں فوجی عدالتوں میں ٹرائل تفتیش کے صاف شفاف طریقہ کار ،قانون شہادت کے اطلاق ،24گھنٹے میں ملزم کو ریمارنڈ کیلئے پیش کرنے ، مرضی کا وکیل اور الزامات سے باقاعدہ طور پر آگاہ کرنے سے متعلق شامل کی منظوری دی چاکی ہے اور یہی ترمیمی بل ایوان بالا میں پیش ہوا ہے بل پر بحث مکمل کر لی گئی دوسری خواندگی شروع ہے یہ بھی یاد رہے کہ قومی سلامتی پارلیمانی کمیٹی فوجی عدالتوں میں زیر سماعت مقدمات کے حوالے سے ملزمان کے بنیادی حقوق کے تحفظ ، نظام عدل کیلئے حکومت کی طرف سے اصلاحات کے نفاذ اور نیشنل ایکشن پلان پر عمل درآمد کی نگرانی بھی کرے گی سینیٹ میں28ویں آئینی ترمیم کے مرحلہ کی خوش اسلوبی سے تکمیل کے لئے وزیرخزانہ سینیٹر اسحاق ڈار سرگرم ہیں باقاعدہ رابطوں کی بھی اطلاعات ہیں