بریکنگ نیوز
Home / اداریہ / اہم فیصلوں کو عملی شکل دینا ضروری ہے

اہم فیصلوں کو عملی شکل دینا ضروری ہے


وفاق اور خیبرپختونخوا حکومت کے درمیان اہم منصوبوں پر اتفاق مثبت سیاسی عمل ہے تاہم اس کا ثمر آور ہونا ماضی کے برعکس عمل درآمد کے اقدامات سے مشروط ہے، وزیراعلیٰ پرویز خٹک اور منصوبہ بندی کے وفاقی وزیر احسن اقبال کے درمیان مشترکہ اجلاس میں زیر غور آنیوالے اہم منصوبوں میں ورسک کینال کی توسیع، گلگت چترال روڈ، پشاور سرکلر ریلوے اور رشکئی صنعتی معاہدے شامل ہیں، اس اہم اجلاس میں 874میگاواٹ سکی کناری پراجیکٹ کی منظوری بھی دی گئی، اجلاس میں طے پایاکہ وفاق ورسک کینال کی ری ماڈلنگ کیلئے وسائل مہیا کرے گا، اسی طرح پشاور کیلئے 300کیوسک پانی اضافی مل سکے گا، دوسری جانب وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا ایک بارپھر فاٹا کے خیبرپختونخوا میں انضمام سے متعلق تحفظات وخدشات کا اظہار کررہے ہیں، وزیراعلیٰ کا کہنا ہے کہ اصلاحات کے پورے مسودے میں انضمام کا لفظ نہیں ‘فاٹا اصلاحات کمیٹی کے چیئرمین اور خارجہ امور کیلئے وزیراعظم کے مشیر سرتاج عزیز اس بات کی یقین دہانی کرا رہے ہیں کہ فاٹا اصلاحات کے حوالے سے خیبرپختونخوا کابینہ کی تجاویز پرغور کیاجائیگا۔

اس کے ساتھ ہی منصوبہ بندی وترقی کے وزیرا حسن اقبال کہہ رہے ہیں کہ ملک میں وفاق اور صوبوں کو لڑانے کی سازشیں دم توڑ گئی ہیں، میڈیا رپورٹس کے مطابق خیبرپختونخوا حکومت نے وفاقی وزیر احسن اقبال کو اپنے بیجنگ روڈ شو میں شرکت کی دعوت دی ہے، باہمی رابطوں اور یقین دہانیوں کی روشنی میں یہ اچھی شروعات اسی صورت ثمر آور ہوسکتی ہے جب متعلقہ ادارے برسرزمین نتائج یقینی بنائیں، بصورت دیگر تحفظات ، خدشات اور بے یقینی کی کیفیت دوبارہ سامنے آئی تو مرکز اور صوبہ اپنے خلوص کے باوجود کوئی مثبت پیش رفت نہیں کر پائیں گے اور عوام میں مایوسی پھیلے گی جس طرح چین پاکستان اقتصادی راہداری منصوبے پر متعدد مرتبہ اتفاق رائے کے باوجود خدشات کی صورت سامنے آتی رہی، ایسا ہی این ایف سی او رپن بجلی کے خالص منافع اور اس کے بقایاجات کے کیس بھی ہیں،اس صورتحال میں مرکز اور صوبے کو زیادہ توجہ طے شدہ معاملات کو عملی شکل دینے کیلئے اقدامات اٹھانے کی ہے۔

صرف صفائی چیک کرنا کافی نہیں

پشاور کی انتظامیہ نے متعدد ہوٹلوں میں صفائی کی صورتحال کا نوٹس لیتے ہوئے کاروائی کی ہے، ایڈمنسٹریشن کاایکشن قابل اطمینان ہے تاہم صرف صفائی کو کنٹرول کرنا کافی قرار نہیں دیاجاسکتا، کسی بھی شہر کے بہت بڑے بڑے ہوٹل اپنے معیار بلکہ معیار سے بھی زیادہ چارجز لیتے ہیں یہاں آنیوالے لوگ یہ چارجز برداشت بھی کرسکتے ہیں ، جہاں تک بات چھوٹے ہوٹلوں اور کھانے پینے کی اشیاء کی دکانوں کی ہے تویہاں آنے والے لوگ غریب ہوتے ہیں، ان میں اکثریت مزدوری کرنے والوں کی ہوتی ہے ان کیلئے ہوٹلوں اور دکانوں کی صفائی کیساتھ نرخوں پر کڑی نظر رکھنا اور کھانے پینے کی اشیاء کا معیار یقینی بنانا ضروری ہے،یہی محنت کش ناقص غذا اور آلودہ پانی کے باعث بیمار پڑکر ہسپتالوں کے برآمدوں میں ایڑھیاں رگڑتے دیکھے جاتے ہیں، ایڈمنسٹریشن کو ان کی صحت اور زندگی کے ساتھ مالی حیثیت مدنظر رکھتے ہوئے انہیں اچھی خوراک جائز ریٹ پر فراہم کرنے کا انتظام کرناہوگا۔