بریکنگ نیوز
Home / کالم / خدارطلباء کو برباد نہ کیجئے

خدارطلباء کو برباد نہ کیجئے


ہمارے بیشتر تعلیمی اداروں میں طلباء کی غیر نصابی سرگرمیوں کا انتظام نہیں کتنے کالجوں میں فٹ بال‘ کرکٹ‘ ہاکی ‘ سکواش‘ بیڈ مٹن ‘ٹینس وغیرہ کیلئے گراؤنڈ یا دیگرمتعلقہ سہولیات مہیا ہوں گی‘ کتنے تعلیمی اداروں میں باقاعدہ ہفتہ وار مختلف سماجی مسائل پرتقاریرکا مقابلہ ہوتاہو گا ؟ کتنے تعلیمی اداروں میں باقاعدگی سے ہر ماہ کالج میگزین چھپتا ہو گا جس میں کالج کے طلباء کو نثر یا نظم میں طبع آزمائی کی ترغیب یا موقع فراہم کیا جاتا ہو بقول کسے جوانی کا خون گرم ہوتا ہے ہر نوجوان انرجی سے بھرپور ہوتا ہے اسکی انرجی کے نکاس کیلئے رستہ درکار ہوتا ہے اور صحت مند مخرج وہی ہے کہ جس کا ذکر ہم نے اوپر کی سطورمیں کیا ہے چونکہ مندرجہ بالا سہولیات کا ہمارے تعلیمی اداروں میں فقدان ہے اس خلا کو شاطر ‘ خرانٹ اور جغادری قسم کے سیاست دانوں نے یوں پر کیا ہے کہ انہوں نے طلباء میں اپنی سیاسی پارٹیوں کی یونینز بنالی ہیں جو برین واش بھی کرتے ہیں اور ان کی مالی معاونت بھی اور تواور ان کواسلحہ بھی فراہم کیا جاتا ہے ورنہ کالج کے ہاسٹلوں کے کمروں میں اسلحے کا کیا کام؟ وہاں تو کتابیں ہونی چاہئیں سو میں سے ننانوے تعلیمی اداروں میں کالج کی انتظامیہ ان طلباء یونینز کے ہاتھوں میں یرغمال ہوتی ہے اور وہ ان کے اشاروں پر ایسے ناچتی ہے جیسا کہ کوئی بندر کسی مداری کی ڈگڈی پر ناچے اور پھر یہ بھی خطرناک رجحان ہے کہ بعض یونینز لسانیت یا علاقائیت کی بنیادوں پر تشکیل دی جائیں جو اچھے تعلیمی ادارے ہوتے ہیں ان میں داخلے کے وقت طلباء کو یہ چوائس دی جاتی ہے کہ وہ اگر کالج کے اندر پہلے سے قائم شدہ کسی بھی ہاؤس میں شامل ہونا چاہیں تو ہو سکتے ہیں اور ان ہاؤسز کے نام ہمارے اکابرین کے نام پر ہوتے ہیں جیسا کہ اقبال ہاؤس‘ رومی ہاؤس غزالی ہاؤس جناح ہاؤس وغیرہ طلباء کے ان ہاؤسز کے درمیان کھیلوں کے مقابلے بھی کرائے جاتے ہیں۔

اورDebates بھی‘ ہم ماشا ء اللہ پہلے مسلمان ہیں اور بعد میں پاکستانی اور ہماری شناخت ان دو ناموں سے کرائی جانی چاہئے یہ لمبی تمہید ہم نے اس لئے لکھی کہ ہمیں دکھ ہوا یہ پڑھ کر کہ اگلے روز لاہور میں پنجاب یونیورسٹی میں طلباء کے دو گروپوں کے درمیان جھڑپ ہوئی جس میں کئی طلباء شدید زخمی ہوئے اس واقعہ سے پتا چلتا ہے کہ ہمارے معاشرے میں برداشت اور ایک دوسرے کے جذبات واحساسات کا خیال رکھنے کا کس قدر فقدان ہے آپ خوشیاں بے شک منائیں یہ ضرور خیال رکھیں کہ آپ کے شور شرابے سے کوئی دوسرا ڈسٹرب تو نہیں ہو رہا ؟ اس کے آرام میں کہیں خلل تو نہیں پڑ رہا ’ رنجیدہ فریق کو بھی یہ حق نہیں کہ وہ لاٹھیوں ‘ پتھروں ‘ مکوں اور اینٹوں سے اس فریق کا سر پھاڑ دے کہ جو اس کے آرام میں خلل ہو رہا ہے آخر برداشت بھی کوئی شے ہوتی ہے ہم یکدم گالی گلوچ اور تشدد پر کیوں اتر آتے ہیں ؟

ہماراپارہ کیوں اتنی جلدی اوپر چڑھ جاتا ہے ؟ ہمیں اتنی جلدی بلڈ پریشر کیوں ہوجاتا ہے ؟ اس ملک میں اکثر والدین اپنا پیٹ کاٹ کر اپنے خون پسینے کو ایک کرکے اپنے بچوں کو کالجوں میں اسلئے نہیں بھجواتے کہ وہ سیاسی لوگوں کے ہتھے چڑھ جائیں جو انہیں پھر اپنی توپوں میں بطور ایندھن اپنے مخصوص سیاسی عزائم کی تکمیل کیلئے استعمال کریں وہ پولیس کے لاٹھی چارج سے اپنے بچوں کی ہڈیاں پسلیاں ٹوٹتے نہیں دیکھ سکتے سیاست دانوں کو آپس میں سر جوڑ کر بیٹھنا چاہئے اور رضاکارانہ طور پر تعلیمی اداروں کو کم از کم اپنی سیاسی مداخلت سے پاک کر دینا چاہئے ہر چیز کا ایک وقت ہوتا ہے بے وقت کی راگنی مزہ نہیں کرتی۔