بریکنگ نیوز
Home / کالم / ہمیں یہ دن بھی دیکھنے تھے

ہمیں یہ دن بھی دیکھنے تھے


کیا ہم یہ دن دیکھنے کیلئے پیدا ہوئے تھے کہ مملکت خداداد اسلامی جمہوریہ پاکستان میں غیر مسلم اقلیتوں کے نمائندے تو اعلیٰ عدالتوں میں شراب نوشی اور شراب فروشی پر ملک بھر میں پابندی کا مطالبہ کرنے کیلئے پیش ہوں مگر ان کے علی الرغم ہمارے مسلمان وکلاء موٹی موٹی فیس لیکر شراب فروشی کرنے والے دکانداروں کے حق میں وکالت کریں‘یقین کریں کہ جب سندھ ہائی کورٹ نے11 مارچ2017ء کو120 دکانوں کو بند کرنے کا حکم دیاتھا تو اس ملک کے عام آدمی نے عدالت عالیہ کے اس اقدام کو از حد سراہا تھا اس ضمن میں اقلیتی ممبر قومی اسمبلی ڈاکٹر رمیش کمار کا کردار قابل تعریف ہے سندھ میں اقلیتوں کے نام پر اتنی شراب فروخت کی جاتی ہے کہ اس میں اگر وہ نہا بھی لیں تو پھر بھی زیادہ ہے سندھ ہائی کورٹ کے اس حکم کیخلاف شراب خانوں کاطاقتور مافیا عدالت عظمیٰ جا پہنچا دکھ ہمیں اس بات کا ہوا کہ عدالت عظمیٰ میں ایک طرف تو تمام غیر مذاہب کے نمائندے پیش ہو کر شراب کی پابندی کے حق میں اپنے دلائل دے رہے تھے تو دوسری جانب مسلمان وکلاء اعلیٰ عدلیہ میں شراب خانوں کا کیس لڑ رہے تھے اور سندھ ہائی کورٹ کے محولا بالا حکم کو معطل کرانے کیلئے کوشش کر رہے تھے کہ جس میں وہ بالآخر کامیاب ہو گئے کیا اس ملک کے تمام وکلاء کو یہ ایکا نہیں کرنا چاہئے تھا کہ ان میں سے کوئی بھی شراب نوشی یا شراب فروشی کے حق میں اعلیٰ عدالتوں میں پیش نہیں ہو گا بھلے اس کو اس کام کے لئے کروڑوں روپے کی فیس کی پیشکش کیوں نہ کی جائے آخر پیسہ ہی تو سب کچھ نہیں ایمان بھی کوئی شے ہے ۔

انہوں نے قبر میں بھی ایک دن جانا ہے وہاں وہ کیا کریں گے کفن میں تو جیب نہیں ہوتی کوئی مانے یا نہ مانے یا کسی جانتے بوجھتے ہوئے کسی مصلحت کی وجہ سے اپنی زبان نہ کھولے لیکن یہ حقیقت نہیں کہ اس ملک میں انگور کی بیٹی کے رسیا لوگوں کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے اور اشرافیہ میں دخت رز کے استعمال میں کافی اضافہ ہوا ہے حتیٰ کہ قومی اسمبلی کے فلور پر اور ٹیلی ویژن کے بعد ٹاک شوز میں ایک سے زیادہ معزز اراکین پارلیمنٹ نے یہاں تک کہہ دیا کہ پارلیمنٹ لاجز میں بھی شراب کی استعمال شدہ بوتلیں اکثر کوڑے کرکٹ کی ٹوکریوں میں پائی جاتی ہیں اس الزام کو پارلیمنٹ کے ارباب بست و کشاد نے آئیں بائیں شائیں کرکے مذاق میں ہی ٹال دیا بلکہ یوں کہئے قالین کے نیچے چھپا دیا امیر لوگ تو فیشن یا زبان کے چسکے کی خاطر شراب کو منہ سے لگاتے ہیں شراب کے بارے میں مشہور ہے کہ وہ جتنی پرانی ہو گی اتنا ہی اس میں زیادہ نشہ ہو گا شراب کی علت میں صرف امراء ہی گرفتار نہیں غرباء کے طبقے سے تعلق رکھنے والے بھی اس سے شغل کرتے ہیں لیکن وہ دیسی شراب کا سہارا لیتے ہیں کہ جو عرف عام میں ٹھرا کہلاتی ہے یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ پولیس کے کسی تھانیدار کو خبر نہ ہو کہ اس کے زیر اختیار علاقے میں کس گھر اورکونسی جگہ پر ٹھرا بن رہاہے یا باالفاظ دیگر شراب نہیں کشیدی جا رہی؟ ٹھرے کے استعمال سے آئے دن سینکڑوں ہلاکتیں ہو رہی ہیں پولیس کا یہ وطیرہ رہا ہے کہ اگر بھول کر کبھی کبھار اس نے شراب کے نشے میں کسی کو پکڑ بھی لیا تو وہ غرباء کے طبقے سے تعلق رکھتا ہے فائیو سٹار یا سیون سٹار ہوٹل سے باہر نکلتے ہوئے نشے میں دھت وہ اشرافیہ کے کسی فرد پر ہاتھ ڈالنے کی جرات نہیں کرتی۔

کسی زمانے میں ہر ماہ کی دس تاریخ کو ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ پشاور پولیس‘ مجسٹریسی کی مشترکہ جائزہ میٹنگ کی صدارت کرتا کہ جس میں وہ گزشتہ مہینے میں ماتحت عدالتوں اور پولیس کی کارکردگی کا جائزہ لیتا تھا جب میٹنگ کے دوران کوئی پولیس والا اپنی کارکردگی کو بڑھا چڑھا کر یوں پیش کرتا کہ اس نے اتنے شرابی گرفتار کئے ہیں تو ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ اسے یہ کہتا ہے کہ میں تو پولیس کی کارکردگی تب مانوں کہ وہ اشرافیہ کے طبقے سے تعلق رکھنے والے کسی شرابی کو رنگے ہاتھوں پکڑے محلوں کی نالیوں میں گرے ہوئے یا بازاروں میں بند دکانوں کے تھڑوں پر بیٹھ کر شراب پینے والوں کو تو ہر کوئی پکڑ سکتا ہے ۔