بریکنگ نیوز
Home / کالم / انتخابات کی آمد آمد

انتخابات کی آمد آمد

سیاسی لوگوں نے تیاریاں پکڑنی شروع کر دی ہیں یعنی اگر ہم ہندکو میں کہیں تو ’’ کُھریاں کُوچ ‘‘ لی ہیں ویسے تو ہمارے عوام عین الیکشن کے دن آنکھوں پر پٹی باندھ لیتے ہیں خصوصاً پنجاب میں ۔ وہاں کوئی نہیں پوچھتا کہ ہم نے ووٹ دیا تھا تو آپ نے ہمارے لئے کیا کیا وہاں بس جس کا نعرہ گونج گیا گونج گیااور سندھ کا یہ حال ہے کہ وہاں وڈیرے سے اور پیر سے کوئی سوال کر ہی نہیں سکتا۔ جہاں اسکا حکم ہوا ووٹ وہیں جائیں گے رہا کراچی تو اس میں جب تک الطاف حسین کی بادشاہی تھی کسی کو ووٹ ڈالنے کی مجال ہی نہ تھی ذمہ داران لوگوں سے آئی ڈی کارڈ اکٹھے کر لیتے اور اس کے بعد وہی ہوتا جو منظور الطاف ہوتا ایم کیو ایم کے مقابلے میں جماعت کے امیدوار ہر طرح سے قابل ہوتے مگر ووٹ انکے ووٹر ڈال ہی نہیں پاتے تھے اور یہی حال پشتونوں کا بھی تھا ایک آدھ سیٹ کی بات دوسری ہے یہ تو پی پی پی بھی اٹھا لیتی تھی اب چونکہ الطاف بھائی سے صاحب ہو گیا ہے اسلئے اس دفعہ انکی بھی امیدکم ہی نظر آتی ہے تو مطلب یہ کہ اگر وڈیروں اور پیروں نے ہاتھ بڑھایا ( اور بڑھائیں گے بھی) تو پی پی پی پھر سندھ میں میدان مار لے گی بلوچستان کے حالات بھی بدل رہے ہیں اور وہاں مسلم لیگ ن کی پوزیشن کچھ اچھی نظر آتی ہے اور چونکہ اس حکومت کی وجہ سے وہاں خاصی حد تک امن و امان کی صورت بھی بہتر ہوئی ہے اور بہت سے فراریوں نے واپسی بھی اختیار کر لی ہے اور ہندوستانی جاسوسوں کا زور بھی کم ہوا ہے اسلئے مسلم لیگ ن کے چانسز زیادہ نظر آتے ہیں ۔ رہا سوال کے پی کا تو یہاں کے عوام خاصے بیدار ہیں اور یہ لوگ کام دیکھ کر ووٹ دیتے ہیں پہلے تو یہاں مسلم لیگ کا جھنڈا بلند تھا مگر شریف برادران کی پالیسیوں اور کے پی کو نظر انداز کرنے کی وجہ سے ( اس لئے بھی کہ پچھلے انتخابات میں شریف برادران کو وقت بھی کم ملا) جسکی وجہ سے مسلم لیگ ن نے اپنا ووٹ بینک یہاں کافی حد تک کھو دیا ہے۔

اور نام کی تبدیلی نے بھی اس کے ووٹ بینک کو کافی دھچکا پہنچایا ہے۔ورنہ ہزارہ میں اسکی ناکامی کا سوال ہی نہیں تھااے این پی نے کچھ سر اٹھایا تھا مگر اس نے پاکستان بننے سے اب تک کی ساری کسر نکالی اس لئے دوسری بار اس کو موقع نہ مل پایا لوگوں نے نئے پاکستان کیلئے تحریک انصاف کو ووٹ دیا مگراس نے بھی اپنا ووٹ بینک دھرنوں میں بہا دیا ایم ایم اے نے ڈیلیور نہ کیا تو کے پی نے ان کو ’’ پاسے ‘‘کر دیا۔مسلم لیگ نے بھی ان کو مایوس کیا اس لئے یہ تحریک انصاف کو لے آئے اور تحریک کی جو کار کردگی ہے اس سے بھی لگتا ہے کہ یہ ان کی آخری باری ہے اور اگر پی پی پی یا مسلم لیگ ن اس خلا ء کو پورا کر لے تو ان کا چانس بن سکتا ہے ادھر پی پی پی کی قیادت نے لاہور میں ڈیرے ڈال دےئے ہیں اور اس نے ان کو پچھلے انتخابات میں ہروانے والے صدر کو بھی علیحدہ کر دیا ہے جناب کائرہ صاحب اچھے آدمی ہیں مگر کیا وہ پی پی پی کو اس سطح پر لے جا سکیں گے؟؟ تحریک انصاف ایک متبادل قیادت دے سکتی تھی مگر اس کو منفی سیاست نے کافی نقصان پہنچایا ہے اس لئے امید نہیں کہ اس دفعہ بھی پنجاب سے کچھ حاصل کر سکیں کسی بھی پارٹی کو اوپر اٹھانے والا اسکا آئین ہوتا ہے ہم نے سوائے دھرنوں اور ہنگاموں کے اس جماعت کا کوئی آئین نہیں دیکھا۔

پی پی پی کا ایک انتخاب میں سویپ کرنا بھی اس کے آئین میں روٹی کپڑا اور مکان کا نعرہ تھا جو سندھ میں کسی کو ملا ہو تو ہو ( وہاں بھی ابھی تک ہاری کے جسم پر لباس اور پاؤں میں جوتا نہیں ہے) تاہم پنجاب اس سے محروم ہی رہا ہے اور کے پی تو ہے ہی سندھ سے بہت دور۔اب لوگوں نے (خاص طور پر تحریک انصاف نے) پانامہ لیکس پر نظر لگا رکھی ہے مگر وہاں سے بھی نظر تو یہی آ رہا ہے کہ تحریک انصاف کے حق میں فیصلہ نہیں آنے والا اور جب زرداری صاحب جیسا لیڈر کہہ دے کہ میاں صاحب کے حق میں فیصلہ آنے والا ہے تو ماننے کو جی چاہتا ہے اس لئے کہ اس شخص کی نظریں بہت دور تک دیکھتی ہیں اور عدالتوں کے فیصلے ثبوتوں اور ٹھوس ثبوتوں پر ہوتے ہیں وہاں منطق کام نہیں کرتی کہ چونکہ میاں شریف صاحب نے دبئی میں مل لگائی اسلئے منی لانڈرنگ ہوئی ہے اور اسحاق ڈار کا حلف نامہ بھی جن حالات میں لیا گیا تھا اسے عدالتوں نے ماننے سے انکار کیا ہے اس لئے بھی ۔ تو لگتا یہی ہے کہ اس دفعہ باری پی پی پی یا میاں صاحب کی ہی ہے۔