بریکنگ نیوز
Home / اداریہ / مانیٹری پالیسی اور اقتصادی اعشاریئے؟

مانیٹری پالیسی اور اقتصادی اعشاریئے؟


بینک دولت پاکستان کی رپورٹ کے مطابق وطن عزیز میں درآمدات کی شرح میں اضافہ جبکہ برآمدات میں مستحکم اضافہ نہیں ہوا، اس کیساتھ ترسیلات زر میں معمولی کمی بھی نوٹ ہوئی، رواں مالی سال میں جولائی سے فروری کے عرصے میں کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ 5.5ارب ڈالر ہوگیا ہے، سٹیٹ بینک کی نئی مانیٹری پالیسی میں درآمدات میں اضافے کو پیداواری طلب سے منسلک کیاگیا ہے، اس کے ساتھ معاشی نمو میں مزید بہتری کا عندیہ بھی دیا گیا ہے، بینک نے اگلے دو ماہ کیلئے شرح سود 5.75فیصد برقرار رکھنے کا اعلان بھی کیا ہے، بینک کی رپورٹ کے چند پوائنٹ اور کچھ دیگر اقتصادی اعشاریئے اپنی جگہ قابل اطمینان ہیں تاہم اس برسرزمین حقیقت سے انکار کسی طور ممکن نہیں کہ اطمینان بخش اعشاریوں کے نتائج عام شہری کو اوپن مارکیٹ میں نہیں مل رہے، اسے یوٹیلٹی بلوں میں ریلیف نہیں ملتی، اسے بجلی اور گیس کے حوالے سے مشکلات کا سامنا ہے، یہ شہری بیرونی قرضوں کے بڑھتے بوجھ سے بھی یوٹیلٹی بل مزید بڑھنے کے حوالے سے خوفزدہ ہے، حکومت کے فنانشل منیجرز کو ایک جانب درآمدات وبرآمدات کے درمیان گیپ دیکھنا ہوگا تو دوسری طرف اقتصادی اصلاحات کے حوالے سے حکومتی اقدامات کے ثمرات عام شہری تک پہنچانے کیلئے موثر حکمت عملی بنانا ہوگی، اس مقصد کیلئے سب سے پہلے مارکیٹ کنٹرول ضروری ہے۔

جس کے بغیر حکومت کے سارے اقدامات اور اعلانات شہریوں کیلئے بے معنی ہوکر رہ جاتے ہیں، پالیسی سازوں کو دیکھنا ہوگا کہ جنرل(ر)مشرف کے دور میں مارکیٹ کنٹرول کیلئے قائم قدیم مجسٹریسی نظام کا خاتمہ ہونے کے بعد عوام کی مشکلات میں کس طرح اضافہ ہوا، یہ بھی دیکھنا ہوگا کہ صوبوں کی جانب سے اس سسٹم کی بحالی کا مطالبہ سامنے آنے کے بعد کون سے متعلقہ ادارے ہیں جو ابھی تک اس ضمن میں دستاویزی کاروائی مکمل نہیں کرپا رہے، بینک رپورٹ اس بات کی بھی متقاضی ہے کہ ہمارے فیصلہ ساز مینوفیکچرنگ کے شعبے کو درپیش مشکلات کا جائزہ لیں، کوالٹی کنٹرول یقینی بنائیں اور ایکسپورٹ کیلئے قائم اداروں کیلئے اہداف کا ازسرنو تعین کریں، ذمہ دار ادارے سمگلنگ کی روک تھام یقینی بنائیں، بصورت دیگر معیشت کے استحکام کا ہدف پورا ہوگا نہ ہی عام شہری کوئی ریلیف پاسکے گا۔

اہم امور نمٹانے میں تاخیر

وزیراعلیٰ پرویز خٹک نے دوران ملازمت فوتگی اور سن کوٹہ پر کلاس فور کی بھرتی کیلئے سیکرٹری ایجوکیشن کو سٹینڈنگ آرڈر جاری کرنے اور سارا کام ایک ماہ میں مکمل کرنے کا حکم دیا ہے، انہوں نے مرحومین کے ورثا میں امیدوار نہ ملنے پر اوپن بھرتی کی ہدایت بھی کی ہے، وزیراعلیٰ کے احکامات قابل اطمینان ضرور ہیں تاہم اس وقت ضرورت صرف ایک شعبے میں نہیں بلکہ تمام سیکٹرزمیں اہم امور بروقت نمٹائے جانے کیلئے کڑی نگرانی کی ہے، حکومت کی جانب سے اعلان کردہ عوامی بھلائی کیلئے اہم منصوبے ابھی تک فائلوں میں گردش کررہے ہیں، کیا ہی بہتر ہو کہ ہر محکمے کو حکومتی اعلانات اور ہدایات پر عمل درآمد سے متعلق ہر ماہ رپورٹ پیش کرنے کا سختی سے پابند کیاجائے، اس کیساتھ وزیراعلیٰ اور دوسرے حکام کے احکامات کیساتھ ہی ٹائم لائن کا تعین کردیاجائے تاکہ شہریوں کو تبدیلی کا عملی احساس ہو۔