بریکنگ نیوز
Home / پاکستان / اسلام آباد ہائیکورٹ میں سوشل میڈیا پر گستاخانہ مواد کیس کی سماعت31مارچ تک ملتوی

اسلام آباد ہائیکورٹ میں سوشل میڈیا پر گستاخانہ مواد کیس کی سماعت31مارچ تک ملتوی


اسلام آباد ۔سوشل میڈیا پر گستاخانہ مواد کیس کی سماعت کرتے ہوئے جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے ریمارکس دیئے کہ پوری حکومت نے چودھری نثار پر ہر کام چھوڑا ہوا ہے اور آئی ٹی والے دونمبری کررہے ہیں، کدھر گئے آئی ٹی ایکسپرٹ احسن اقبال اور مذہبی امور کے وزیر؟۔

تفصیلات کے مطابق اسلام آباد ہائیکورٹ میں سوشل میڈیا پر گستاخانہ مواد کیس کی سماعت 31 مارچ تک ملتوی کردی گئی ہے۔سیکرٹری داخلہ عارف خان نے عدالت کو آگاہ کیا کہ فیس بک سے 85 فیصد گستاخانہ مواد ختم کردیا گیا ہے،فیس بک کو بند کرنا کسی مسئلے کا حل نہیں ہے،3 ملوث ملزمان کو گرفتار کرلیا گیا ہے جنہوں نے ملوث ہونے کا اعتراف بھی کرلیا ہے۔

سیکرٹری داخلہ کا کہنا تھا کہ جے آئی ٹی بھی تشکیل دیدی گئی ہے اور 2 ملزم براہ راست گھناؤنے فعل میں ملوث ہیں اور وزارت داخلہ نے 27 مسلم ممالک کے سفیروں کے سامنے معاملہ رکھا۔چیف جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے الیکٹرانک کرائمز ایکٹ میں ترمیم پر پیش رفت کی رپورٹ طلب کرتے ہوئے ریمارکس دیئے کہ ہر ادارہ دلچسپی لے رہا ہے اور ہم کارروائی سے مطمئن ہیں۔

انہوں نے ریمارکس دیئے کہ پوری حکومت نے چودھری نثار پر ہر کام چھوڑا ہوا ہے اور آئی ٹی والے دونمبری کررہے ہیں، کدھر گئے آئی ٹی ایکسپرٹ احسن اقبال اور مذہبی امور کے وزیر؟۔ جس ملک میں یہ کام ہوا اس کے سفیر کو بلانے کی ہمت نہیں ہوئی، سوشل میڈیاکے مالک اگر پاکستان کیخلاف سوشل میڈیاپرجنگ شروع کردیں تب کیاکرینگے؟

اس معاملے میں وہ ادارہ بھی آن بورڈ ہے جس سے بہت سے ادارے خواہ مخواہ خفا ہیں،جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے مزید ریمارکس دیئے کہ وزارت اطلاعات نے بہت اچھا کام کیا ہے چیئرمین پی ٹی اے نے عدالت میں کہا کہ فیس بک گستاخانہ مواد کو مانتی ہی نہیں تھی مگر اب وہ ہٹا رہے ہیں، فیس بک کا ہماری بات ماننا بڑی کامیابی ہے،چالیس پیجز کیخلاف ایکشن لیا ہے،25 لوگوں کی ٹیم ایسا مواد سرچ کررہی ہے۔

سیکرٹری داخلہ نے کہا کہ مسلم سفرا سے کہا فیس بک پر اس کام سے مسلمانوں کے جذبات کو ٹھیس پہنچی،واشنگٹن میں پاکستانی سفارت خانے نے معاملہ اٹھایا ہے۔جسٹس شوکت کا کہنا تھا کہ عدالت تفتیش میں مداخلت نہیں کرے گی،انوشہ رحمان بتائیں یہ معاملہ کیوں حل نہیں ہوا؟۔عدالت نے کیس کی سماعت 31 مارچ تک ملتوی کردی ہے۔