بریکنگ نیوز
Home / پاکستان / سیمنٹ فیکٹریوں کا قیام ٗ 14نئے لائسنس جاری

سیمنٹ فیکٹریوں کا قیام ٗ 14نئے لائسنس جاری


خیبرپختونخوا حکومت نے صوبہ میں سیمنٹ کے نئی فیکٹریوں قیام کے لیے 14نئے لائسنس جاری کردیئے جن پر کام کے آغاز کی صورت میں صوبہ میں 2.5ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کی راہ ہموار ہوگی

سیمنٹ فیکٹریوں کے قیام کے لیے لائسنسوں کی تقسیم کی تقریب پیر کے روز وزیراعلیٰ ہاؤس پشاور میں منعقد ہوئی جس میں وزیراعلیٰ نے لائسنس تقسیم کیے ،اس موقع پر وزیراعلیٰ پرویز خٹک نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بہت سے سرمایہ کار صوبہ میں سیمنٹ کے کارخانوں کے قیام کے خواہش مند ہیں جن کے لیے گزشتہ سال نومبر سے یہ عمل شروع کیاگیا اور 744درخواست دہندگان میں سے14کو لائسنس جاری کیے جارہے ہیں جبکہ ہم مزید کارخانوں کے لیے بھی لائسنس دینے کی غرض سے آن لائن بھی ان کی تشہیر کرینگے ۔انہوں نے کہا کہ جتنے بھی لائسنس دیئے گئے ہیں ان میں کسی کے حوالے سے بھی کوئی کمیشن نہیں لی گئی بلکہ نہایت شفاف طریقے سے لائسنسوں کا اجراء کیاگیاہے اور اگر کسی بھی لائسنس میں کمیشن کی وصولی کا اطلاع یا شواہد ملے تو اس صورت میں مذکورہ لائسنس منسوخ کردیاجائے گا کیونکہ جب میں کسی سے کسی بھی کام میں کمیشن نہیں مانگتا تو کوئی دوسرا کیسے کمیشن لے سکتا ہے ۔

انہوں نے کہا کہ جن کمپنیوں کو سیمنٹ کی فیکٹریاں شروع کرنے کے لیے لائسنس دیئے گئے ہیں ان میں سب سے زیادہ پریمیئر گروپ نے حاصل کیے لیکن اس کے علاوہ لکی سیمنٹ ،چراٹ سیمنٹ فرنٹیئر فاؤنڈری اور دیگر بھی شامل ہیں ۔انہوں نے کہا کہ ہم سے پہلے والی حکومتوں میں کوئی بھی کارخانہ یا صنعت لگانے کے لیے حکومت سے این او سی حاصل کرنی پڑتی تھی تاہم ہم نے این او سی کے حصول کی شرط ختم کردی تاکہ صنعت کاروں کو سہولت ہو اور اسی غرض سے ہم نے الگ کمپنی بھی بنائی جو سوفیصد سہولیات فراہم کرتی ہے انہوں نے کہا کہ ان لائسنسوں کے اجراء اوران پر کام کے آغاز کے بعد صوبہ میں اڑھائی ارب ڈالرکی سرمایہ کاری متوقع ہے جس سے صوبہ کی معیشت پر مثبت اثرات مرتب ہونگے ۔سیکرٹری معدنیات ظہیر الاسلام نے اس موقع پر کہا کہ ہم نے میرٹ پر تمام لائسنس تقسیم کیے ہیں اور باوجود ٹیکنیکل فقدان کے ہم نے تمام امور کو آگے بڑھایا ۔انہوں نے کہا کہ ہم نے یہ عمل یکم نومبر سے شروع کیا اور اس عمل کے نیتجے میں ہم 14لائسنس جاری کررہے ہیں ۔چیئرمین اکنامک زون ڈیویلپمنٹ اینڈ مینجمنٹ کمپنی غلام دستگیر نے کہا کہ صوبہ کو دہشت گردی کی وجہ سے کافی نقصان پہنچا تاہم موجودہ حکومت نے صوبہ میں سرمایہ کاری لانے پر توجہ دی جس کے نتیجہ میں یہ واحد صوبہ ہے جس نے اپنی صنعتی پالیسی کا اعلان کیا اور الگ کمپنی بنائی جس کے چیئرمین بھی نجی شعبہ سے ہیں ۔