بریکنگ نیوز
Home / کالم / عتیق صدیقی / ہم سفارتکار یہی کچھ کرتے ہیں

ہم سفارتکار یہی کچھ کرتے ہیں


حسین حقانی یا تو وطن فروش اور غدار ہیں اور یا پھر وہ ایک ایسے محب الوطن ہیں جنکی بات ہماری سمجھ میں نہیں آ رہی ان دونوں میں سے کوئی ایک بات ہی ٹھیک ہو سکتی ہے یہاں کسی دھندلکے ، ملگجے یا کسی درمیانے راستے کی گنجائش اسلئے نہیں کہ ہمارے سابقہ سفیر چار عدد کتابوں کے مصنف ہونے کے علاوہ امریکی اخبارات میں اکثر اظہار خیال بھی کرتے رہتے ہیں پاکستان کے بارے میں اپنے جذبات و احساسات کے اظہار کیلئے اگر انہیں کبھی کبھار انڈیا بھی جانا پڑے تو وہ اس سے بھی دریغ نہیں کرتے انکی چار عدد کتابوں کا اگر سرسری سامطالعہ بھی کیا جائے تو انکی اپنے آبائی وطن کے بارے میں حقیقی سوچ اور نیت آسانی سے سمجھ میں آ جاتی ہے انکی فکر نکتہ آراء میں کوئی ایسی باریکی نہیں کہ جسے پڑھ کر آدمی تذبذب کے برزخ میں جا گرے اور حقانی صاحب کے افکار عالیہ کی حقانیت کے بارے میں اندیشوں اور وسوسوں کا شکار ہو جائے انکی پہلی کتاب کا ٹائٹل Pakistan: Between Mosque And Military ہے ہم جانتے ہیں

حسین حقانی ستر کی دہائی میں اسلامی جمعیت طلباء کے کراچی یونیورسٹی پر چھائے ہوئے جوشیلے نوجوانوں کے کندھوں سے ہوتے ہوئے ضیاء الحق کی گود میں جا بیٹھے تھے اس اعتبار سے چاہئے تو یہ تھا کہ موصوف اس کتاب میں محراب و منبر کے بارے میں ایمان افروز خیالات کا اظہار کرتے مگر اسکے برعکس انہوں نے اپنا زور بیان پاکستان میں عسکریت پسندی کی جڑیں کھودنے میں صرف کیا ہے اس کتاب کے ٹائٹل میں پاکستان اور Mosque کے بعد تیسر ا اہم لفظ ملٹری ہے یہ بات بھی کسی سے ڈھکی چھپی نہیں کہ حقانی صاحب طویل عرصے تک پاکستان کی خفیہ ایجنسیوں کے منظور نظر رہے ہیں اس تعلق کے تناظر میں یہ ضروری ہو جاتا ہے کہ حقانی صاحب خفیہ والوں کیلئے بھی اس کتاب میں نیک تمناؤں کا اظہار کرتے مگر ایسا بھی نہیں ہوا چلیں مان لیتے ہیں کہ ضیاء الحق کے بعد بے نظیر بھٹو‘ نواز شریف‘ غلام مصطفی جتوئی اور غلام اسحاق خان کی حکومتوں میں پے در پے وزیر رہنے کے بعد انکی قلب ماہیت ہو گئی اور وہ ایک سکہ بند لبرل اور سیکولر بن گئے شاید فکرو نظر کی اسی تبدیلی کی وجہ سے موصوف نے جنرل پرویز مشرف کی حکومت میں بھی وزارت حاصل کرنے کی کوشش کی مگر اسوقت تک وہ اتنی حکومتوں کی غلام گردشوں میں گرد اڑا چکے تھے کہ انہیں اس چوتھے مرد آہن کے دربار تک رسائی حاصل نہ ہو سکی اسکے بعد انکی زندگی کا ایک نیا دور شروع ہوتا ہے\

وہ امریکہ آ کر ایک نئی زندگی کا آغاز کرتے ہیں انکی زندگی کی کہانی میں ایک ڈرامائی موڑ اسوقت آتا ہے جب 2008 میں آصف علی زرداری انہیں واشنگٹن میں پاکستان کا سفیر مقرر کر دیتے ہیں یہاں سے وہ ایسا ٹیک آف کرتے ہیں کہ اس مقام جنبش آبرو سے آگے انکے دھیان گیان اور مقامات فکرو نظر سے صرف وہی لوگ آگاہی حاصل کر سکے جو امریکہ میں انکی لکھی ہوئی کتابیں اور اخبارات میں کبھی کبھارچھپنے والے انکے امضامین پڑھتے رہے۔

پاکستان سے امریکہ چلے آنے والے کسی بھی اصلی یا نقلی دانشور کے جذبہ و احساس پر امریکہ کی لبرل جمہوریت کے چھا جانے کو کسی بھی صورت ایک غلط فکری رویہ نہیں کہا جا سکتا دنیا کے کسی بھی ملک سے آیا ہوا کوئی بھی چھوٹا موٹا صاحب فکر اس بلند آہنگ جمہوریت کے طمطراق اور حشرسامانیوں سے بچ نہیں سکتا اس طوفانی ریلے سے صرف وہی لوگ دامن دل بچا سکتے ہیں جو پختہ عمر میں نا قابل تغیر و تبدل خیالات کی گٹھڑی اٹھائے یہاں وارد ہوتے ہیں اس اعتبار سے حقانی صاحب کا پاکستان کی جمہوریت کو کمتر اور از کار رفتہ سمجھنا کافی حد تک سمجھ میں آتا ہے مگر انکا معاملہ تو یہ ہے کہ وہ اپنے آبائی وطن کے ایک مشہورو معروف صحافی ہونے کے علاوہ ایک سفارتکار بھی رہ چکے ہیں یہ تمام اعزازو افتخار انہیں انکے ملک نے دےئے کیا ان احسانات کا تقاضا یہ نہ تھا کہ وہ امریکی جمہوریت سے متاثر ہونے کے باوجود اپنی مادر وطن کے برے بھلے سیاسی نظام کو تضحیک و حقارت کی نگاہ سے نہ دیکھتے وہ اگر پاکستانی جمہوریت کو امریکی جمہوریت کے مقام افتخار تک پہنچانے کی نیک خواہشات رکھتے تھے تو کیا اس کیلئے صرف وہی ایک راستہ رہ گیا تھا جو انہوں نے اختیار کیا یہاں اہم سوال یہ ہے کہ حسین حقانی نے اپنے خواب ہائے گرانمایہ کی تعبیر حاصل کرنے کیلئے آتش وآہن برسانے کو کیوں ضروری سمجھا اس سوال کے جواب کیلئے ہمیں انکی کتابیں پڑھنے کی ضرورت نہیں

دس مارچ کے واشنگٹن پوسٹ میں شائع ہونے والے انکے مضمون میں یہ جواب موجود ہے اس سوال کاایک شافی اور فکر انگیز جواب انکی نقل وحرکت پر نگاہ رکھنے والے ایک معروف امریکی صحافی نے بھی دیا ہے پہلے انکے تازہ مضمون سے رجوع کرتے ہیں اس مضمون کا عنوان ہے Yes, the Russian Ambassador Met Trump’s Team. So ? That’s What we Diplomat’s do. اسکا مفہوم یہ ہے کہ ہاں روس کا سفیر ٹرمپ کی ٹیم سے ملا۔ تو کیا ہوا ؟ ہم سفارتکار یہی کچھ کرتے ہیں اس مضمون کے کل سولہ پیراگراف ہیں ان میں سے تیرہ میں صاحب مضمون نے اپنے ہونہار سفارتکار ہونے کا ذکربھی کیا ہے ہم یہاں انکی خود پسندی ‘خود ستائی اور نرگسیت کے ذکر کو رہنے دیتے ہیں اور اوپر بیان کردہ سوال کے جواب کیلئے اس اس مضمون کے دسویں پیرا گراف کو پڑھتے ہیں’’ اوباما کی انتخابی مہم کے اہم افراد کیساتھ میں نے جو تعلق قائم کیا تھا وہ بالآخر پاکستان اور امریکہ کے درمیان دہشت گردی کیخلاف ایک بڑے تعاون میں ڈھل گیا‘‘ اسکے بعد لکھتے ہیں”These connections eventually enabled the United States to discover and eliminate Bin Laden without depending on Pakistan’s intelligence service or military which were suspected of sympathy towards Ialamic militants.” یعنی امریکہ نے بالآخر ان تعلقات کی وجہ سے پاکستان کی انٹیلی جنس سروس اور آرمی ، جن پر عسکریت پسندوں کا ہمدرد ہونے کا شبہ تھا،پر انحصار کئے بغیر بن لادن کو ڈھونڈا اور ہلاک کیا گویا حقانی صاحب نے اپنے ملک کی فوج کو اندھیرے میں رکھ کرسی آئی اے کو ایبٹ آ باد میں بن لادن کے کمپاؤنڈ تک پہنچا دیا کیا کسی دوسرے ملک کے سفارتکار نے بھی کبھی اسطرح کا کوئی کارنامہ سرانجام دیا ہے کیا اس دیدہ درہنی کے بارے میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ This is what we diplomats do یہاں کہنا پڑتا ہے کہ
اے ہم نشیں اذیت فرزانگی نہ پوچھ
جس میں ذرا بھی عقل تھی دیوانہ ہو گیا
بن لادن کی ایبٹ آباد میں ہلاکت کے بعد پاکستان کے ماتھے پر ایک دہشت گرد ریاست ہونے کا لیبل ایسے چسپاں کر دیا گیا کہ آج ساٹھ ہزارانسانوں کی قربانی اور اربوں ڈالر کے نقصان کے بعد بھی اس لعنت سے جان چھڑانا ممکن نہیں ہو رہا حقانی صاحب کے اس مضمون میں کوئی نئی بات ہو یا نہ ہو انہوں نے واشگاف الفاظ میں بن لادن کو سی آئی اے کے حوالے کرنے کا کریڈٹ لے لیا ہے کئی تجزیہ نگار لکھ چکے ہیں کہ اس موقع پر اس کارنامے کا ذکر کر کے وہ ٹرمپ انتظامیہ کی توجہ حاصل کرنا چاہتے ہیں گویاواشنگٹن میں تقسیم ہوتی ہوئی ہزاروں ملازمتوں کو دیکھتے ہوئے ان سے رہا نہ گیا اور وہ کہہ اٹھے۔
گل پھینکے ہے اوروں کی طرف بلکہ ثمر بھی
اے خانہ بر انداز چمن کچھ تو ادھر بھی
آخر میں معروف امریکی صحافی جیفری گولڈ برگ کی حسین حقانی کے بارے میں لکھی ہوئی یہ بات ” He is an exile with an agenda who belongs in the group of Ahmad Chalabi and Raza Shah Pehlvi junior.”