بریکنگ نیوز
Home / کالم / پاک بھارت تعلقات اور غلط فہمیاں!

پاک بھارت تعلقات اور غلط فہمیاں!

پاکستان اور بھارت کے درمیان تعلقات پر ہمیشہ جنون کا سایہ رہتا ہے جنگی جنون میں مبتلا بھارت نے سال دوہزار اٹھارہ تک پاکستان کیساتھ بین الاقوامی سرحد مکمل طورپر بند کرنے کی دھمکی دی ہے بھارتی وزیر داخلہ راج ناتھ سنگھ نے کہاہے کہ سرحدی سکیورٹی مضبوط بنانے کے لئے نیا لائحہ عمل وضع کیا گیا ہے جس کے تحت جتنا جلد ممکن ہو سکے اپنے ہمسایہ ملکوں پاکستان اور بنگلہ دیش کیساتھ بین الاقوامی سرحدیں سیل کرنے کی منصوبہ بندی کر رہے ہیں پاکستان کے ساتھ دوہزار اٹھارہ تک سرحد سیل کردیں گے مرکزی سطح پر وزارت داخلہ‘ سکیورٹی فورسزکی سطح پر بی ایس ایف اور ریاستی سطح پر چیف سیکرٹریز اس منصوبے کی نگرانی کریں گے مشکل علاقوں میں سرحدکی بندش کیلئے ٹیکنالوجی کا استعمال کیا جائے گا۔‘‘دنیا جانتی ہے کہ بھارت پاکستان کیخلاف دہشت گردوں کی پشت پناہی اور دراندازی کا پراپیگنڈہ کرتا ہے

اس نے پاکستان کو دہشت گرد ریاست قرار دلانے میں کوئی کسر نہیں اٹھا رکھی پاکستان پر دہشت گردوں کی پشت پناہی کا الزام کشمیریوں کی اخلاقی و سفارتی حمایت کے سبب لگایا جاتا ہے بھارت اس بناء پر پاکستان کو دہشت گردوں کا پشت پناہ قرار دیتا ہے پاکستان نے کبھی مقبوضہ کشمیر یا بھارت کی جدوجہد آزادی کے حق سے انکار نہیں کیا اور اسکی ہمیشہ حمایت کی ہے مسئلہ کشمیر کو اُجاگر کرنے اور عالمی برادری کے سامنے رکھنے کو اپنی پالیسی بنایا ہے جو بھارت کیلئے ناقابل برداشت ہے وہ مقبوضہ وادی میں حریت پسندوں کے بھارتی سفاک سپاہ کیساتھ برسر پیکار ہونے کو بھی پاکستان کے کھاتے میں ڈال دیتا ہے اسکی اعلیٰ سیاسی قیادت کی طرف سے مقبوضہ کشمیر میں پاکستان کے ملوث ہونے کے لغو الزامات لگا کر اسکا بدلہ بلوچستان میں چکانے کے اعلانات کئے جاتے ہیں

پاکستان نے کبھی کشمیر میں دراندازی کی نہ کبھی ایسے بھارتی الزامات کو تسلیم کیا جبکہ دوسری طرف وزیراعظم نریندر مودی کے مشیر اجیت دودل نے متعدد بار بلوچستان میں مداخلت کا اعتراف کیا نریندر مودی بھی اپنے مشیر سے دو قدم آگے جا کے یوم جمہوریہ پر یہ کہہ گئے کہ پاکستان کی دراندازی کا جواب بلوچستان اور گلگت بلتستان میں دیں گے ایسے اعترافات اور دعوؤں کے بعد بھی بھارت کے پاکستان میں مداخلت اور دہشتگردی میں ملوث ہونے میں کیا ثبوتوں کی کوئی ضرورت ہے۔ بھارت نے لائن آف کنٹرول پر ایسی باڑ لگائی ہے جس میں سے پرندے کا گزرنا بھی ناممکن ہے چپے چپے پر فوج تعینات ہے پھر بھی پاکستان پر دراندازی کا الزام لگا دیا جاتا ہے باڑ کی موجودگی میں دراندازی کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا مگر مکار بھارتی لیڈر شپ دنیا کی آنکھوں میں دھول جھونکتے ہوئے پاکستان پر جھوٹے الزامات لگا کر عالمی رائے عامہ کو گمراہ کرنے کی کوشش کرتی ہے ایل او سی پر باڑ کا کوئی جواز ہی نہیں یہ غیر قانونی اقدام صدر جنرل پرویز مشرف کی آمریت کے دوران اٹھائے گئے ایل او سی ایک عارضی حد بندی ہے جسے کسی صورت مستقل حدبندی اور بین الاقوامی سرحد قرار نہیں دیا جا سکتا عارضی حد بندی پر عالمی قوانین کے تحت دیوار یا باڑ نہیں بنائی جا سکتی جنرل مشرف کی مصلحتوں بلکہ ان کی بزدلی کا خمیازہ طویل ایل اُو سی کے اطراف کے بے گناہ کشمیری بھگت رہے ہیں بھارت ایل او سی پر غیرقانونی باڑ لگانے کیساتھ پاکستان کے ساتھ اُنتیس سو کلومیٹر کی بین الاقوامی سرحد بھی سیل کرنا چاہتا ہے

اس نے کئی مقامات پر لیزر وال لگا دی ہے جدید الارم سسٹم سے لیس یہ لیزر وال کسی چیز کے گزرنے کی صورت میں تیز سائرن بجاتی ہے یہ دیوار پٹھان کوٹ حملوں کے بعد لگائی گئی دنیا کو دکھانے کے لئے بھارتی سکیورٹی فورس نے نہ صرف سرحدی علاقوں میں سکیورٹی اہلکاروں کی تعداد بڑھا دی بلکہ کشتیوں کے ذریعے پٹرولنگ کا عمل بھی تیز کر دیا چند ماہ قبل بھارت نے پاکستان کیساتھ سرحد پر نگرانی سخت کرنے کیلئے پانچ سطحی حفاظتی جامع مینجمنٹ نظام کی منظوری دی بھارتی اخبار ’’ٹائمز آف انڈیا‘‘کی رپورٹ کے مطابق دوہزار نو سوکلومیٹر طویل سرحد پر نگرانی بڑھانے کیلئے جدید آلات کی مدد لی جائیگی جن میں سی سی ٹی وی کیمرے‘ نائٹ ویژن اور زیر زمین نگرانی کے لیزر آلات اور میدان جنگ میں استعمال ہونے والے راڈار شامل ہیں بھارت کو اپنی سرحدوں کی حفاظت کے اقدامات سے کوئی نہیں روک سکتا یہ کسی بھی ملک کا بنیادی استحقاق ہے لیکن بھارت کا سرحدیں سیل کرنے کے حوالے سے بھی دہرا معیار ہے پاکستان کیساتھ وہ خود تو بارڈر سیل کر رہا ہے جبکہ پاکستان اپنا یہی استحقاق مغربی بارڈر پر استعمال کرتا ہے تو بھارت پاکستان میں مداخلت اور دہشتگردی کی اپنی منصوبہ بندی ناکام ہوتے دیکھتا ہے افغانستان نے پاکستان کی طرف سے کی جانے والی بارڈر مینجمنٹ کی شدید مخالفت کی ہے تو اس کے درپردہ بھی بھارت ہی ہے اگر بھارت بارڈر سکیورٹی کر رہا ہے تو پاکستان کو کس نے روکا ہے ۔(بشکریہ: دی نیوز۔ تحریر: اشفاق احمد۔ ترجمہ: اَبواَلحسن اِمام)