بریکنگ نیوز
Home / اداریہ / گرانی کے طوفان میں شدت

گرانی کے طوفان میں شدت


امن و امان کی صورتحال سے متاثر ‘توانائی بحران کا شکار‘کھربوں روپے کے بیرونی قرضوں تلے دبی معیشت میں بھاری یوٹیلٹی بل ادا کرنے والے شہری مہنگائی کے طوفان میں شدت سے چیخ اٹھے ہیں خیبر پختونخوا میں تو رہی سہی کسر افغان بارڈر کے کھل جانے سے پوری ہو گئی ہے لوکل مارکیٹ میں مرغی کی قیمت تادم تحریر 191 روپے کلو تک پہنچ چکی ہے جبکہ پھلوں اور سبزیوں کے نرخ غریب شہری کی پہنچ سے دور ہو چکے ہیں خبر رساں ایجنسیاں اگلے مرحلے پر چینی کے نرخوں میں اضافے کا خدشہ ظاہر کر رہی ہیں‘ قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف سید خورشید شاہ گرانی کی موجودہ صورتحال کو حکومتی ناکامی کا منہ بولتا ثبوت قرار دیتے ہیں ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ حکومت کسی بھی ناکامی کو اپنے خلاف سازش قرار دیتی ہے دوسری جانب وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف نے اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں اضافے کا فوری نوٹس لیتے ہوئے پرائس کنٹرول سے متعلق اپنی کابینہ کی کمیٹی کو ہنگامی بنیادوں پر اقدامات کا حکم دیا ہے ‘

مہنگائی کا نیا طوفان اس وقت شدت اختیار کر رہا ہے جب حکومت اقتصادی شعبے میں اپنے اقدامات سے انتہائی مطمئن دکھائی دیتی ہے اکانومی کے اعشارئیے ‘ زر مبادلہ کے ذخائر ‘ سٹاک مارکیٹ کا استحکام بھی اقتصادیات کے درست ٹریک کی نشاندہی کرتا ہے متعدد عالمی ادارے بھی پاکستانی معیشت کے مستحکم ہونے کی تصدیق کر رہے ہیں ‘ پاکستان میں تعینات چین کے سفیر کا کہنا ہے کہ چین پاکستان اقتصادی راہداری کے توانائی منصوبے مکمل ہونے پر 11 ہزار میگا واٹ بجلی اضافی ملے گی ‘ ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ پاکستان میں ساڑھے اٹھارہ ارب ڈالر کے منصوبوں پر کام جاری ہے بینک دولت پاکستان کی مانیٹری رپورٹ کے بعض مندرجات حوصلہ افزا ہیں اس سب کے باوجود منڈی کا قابو سے باہر ہو جانا سرکاری مشینری کے پورے ذمہ دار سیٹ اپ کی کارکردگی پر سوالیہ نشان ثبت کرتا ہے ایک ایسے وقت میں جب غریب اورمتوسط شہری کیلئے مہنگائی کے ہاتھوں کچن کا خرچ چلانا بھی ممکن نہیں رہا ضرورت مرکز اور صوبوں میں برسر اقتدار حکومتوں کیلئے مل بیٹھ کر فوری اورموثر اقدامات تجویز کر نے کی ہے ۔

اس میں تمام متعلقہ سٹیک ہولڈرز کے درمیان باہمی رابطے کو یگرانی کے طوفان میں شدتقینی بنانا ہو گا اس سب کے ساتھ مارکیٹ کنٹرول کیلئے قدیم مجسٹریسی نظام کی بحالی ناگزیر ہے جس پر مشترکہ مفادات کو نسل میں فیصلہ التواء کا شکار چلا آ رہا ہے ‘ ہماری سیاسی قیادت کو اس بات کا ضرور احساس کرنا ہو گا کہ وطن عزیز کا عام شہری اپنی منتخب قیادت سے ریلیف کا منتظر ہے اس شہری کے مسائل پر پوری قیادت کا یکجا اور ایک آواز ہونا ضروری ہے اسے بنیادی سہولیات ملنی چاہئیں تعلیم اور علاج کے لئے اچھے ادارے ملنے چاہئیں پینے کا صاف پانی روزگار کے مواقع اور اپنی آمدن کے تناسب سے مارکیٹ کی ضرورت ہے اسے ملاوٹ سے پاک کھانے پینے کی اشیاء چاہئیں اس شہری کو میونسپل سروسز کی ضرورت ہے اسے اپنے شہر اور قصبے میں ٹریفک مینجمنٹ کی ضرورت ہے اسے ایسے دفتری سیٹ اپ کی ضرورت ہے جہاں اس کا کوئی بھی کام وقت ضائع کیے بغیر ہواسے بھاری یوٹیلٹی بل ادا کرنے کے بعد بجلی اور گیس کی ترسیل چاہئے اسے اضافی بل کی درستگی کے لئے دفاتر کے چکروں سے نجات چاہئے یہ حقیقت بالکل واضح ہے کہ اگر آج عوامی مسائل کا صحیح ادراک کرکے بروقت فیصلے نہ کئے گئے تو کل لوگ اقتصادی اعشاریوں اور بڑے بڑے پراجیکٹس نہیں بلکہ اپنے مسائل کے تناظر میں فیصلے کریں گے ۔