بریکنگ نیوز
Home / پاکستان / بلڈ فروخت کے نئے ایس او پیز پر عمل در آمد کا حکم

بلڈ فروخت کے نئے ایس او پیز پر عمل در آمد کا حکم


اسلام آباد ۔وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کے سرکاری ہسپتالوں میں ادویات کی چوری اورعطیہ کردہ خون کی فروخت کے خلاف ازخود نوٹس کیس کی سماعت کے دوران چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے ریمارکس دیئے ہیں کہ خون فروخت کرنا ناقابل معافی جرم ہے کیونکہ یہ انسانی زندگیوں کے تحفظ کا معاملہ ہے، سپریم کورٹ کے لیے یہ معاملہ اہمیت کا حامل ہے، منگل کو چیف جسٹس کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے کیس کی ،سماعت کا آغاز کیا توپولی کلینک کے ڈاکٹر نے عدالت کو بتایا کہ 2016سے قبل گریڈ نو سے چودہ کے ٹیکنیشن کو آفیسر کی منظوری کے بغیر خون جاری کرنے کا اختیار تھا۔

2015 کے بعد نئی ایس او پی بناکر اس اختیار کو واپس لیا گیا، خون چوری کے الزام کا سامنا کرنے والے ٹیکنیشن بعد میں اقبالی بیان سے منحرف ہو گئے، اس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ خون فروخت کرنا ناقابل معافی جرم ہے، اقبالی بیان سے کوئی بھی منحرف ہو سکتا، ہمارے سامنے صحت کا معاملہ بہت اہمیت کا حامل ہے، یہ انسانی زندگیوں کا معاملہ ہے، معاملے کی دوبارہ انکوائری نہ کرائی تو ملزمان منطقی انجام تک نہیں پہنچ سکتے۔

کیس کی سماعت سمیٹتے ہوئے عدالت نے پولی کلینک ہسپتال کو بلڈ فروخت کے نئے ایس او پیز پر عمل در آمد کا حکم دے دیا عدالت کا کہنا تھا کہ نئے ایس او پیز تمام اسٹیک ہولڈرز کے لیے قابل قبول ہیں، بلڈ فروخت کے ایس او پیز پر سختی سے عمل کیا جائے، ایس او پیز کی خلاف ورزی پر ذمہ داروں کے خلاف کاروائی کی جائے، ہسپتال کی انتظامی اور ادویات کی فراہمی کیمعاملہ کا آئندہ سماعت پر جائزہ لیں گے، سپریم کورٹ نے کیس کی سماعت غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی کردی ۔