بریکنگ نیوز
Home / بزنس / ودہولڈنگ ٹیکس کا نفاذ ایک لاکھ تک بڑھانے پر غور

ودہولڈنگ ٹیکس کا نفاذ ایک لاکھ تک بڑھانے پر غور


کراچی ۔گورنر اسٹیٹ بینک اشرف وتھرا نے کہا ہے کہ وزیرخزانہ اور ایف بی آر نے آنے والے بجٹ 2017-18 میں بینک سے لین دین پر ودہولڈنگ ٹیکس کا نفاذ 50 ہزار روپے کی رقم سے بڑھا کر ایک لاکھ روپے کرنے پر آمادگی ظاہر کردی ہے۔کراچی چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے ورے کے موقع پر گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اسٹیٹ بینک کو اگلے سال 5 فیصد جی ڈی پی گروتھ کی توقع ہے لیکن مرکزی بینک نے 7 فیصد ک مستحکم گروتھ کے حصول پر توجہ مرکوز کی ہوئی ہے جس سے یقینی طور پر روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے۔ انہوں نے نجی شعبے کو قرضوں میں اضافے پر روشنی ڈالتے ہوئے کہاکہ صرف ایک سال میں نجی شعبے دیئے گئے۔

قرضے 348 ارب روپے تک پہنچ گئے ہیں جبکہ گزشتہ سال یہ قرضے267 ارب روپے تھے۔انہوں نے بتایا کہ اسٹیٹ بینک کی حکمت عملی میں ایس ایم ای فنانس کے حوالے سے دو پہلوؤں پر توجہ مرکوز کی ہوئی ہے جس فعال ریگیولٹری ماحول اورمارکیٹ کی ترقی شامل ہیں ۔نجی شعبے کے مجموعی قرضے کا 7 فیصد ایس ایم ایز فنانس پر استعمال کیا جاتا ہے جسے 2020 تک 15 فیصد تک بڑھانے کی ضرورت ہے۔ یہ آسان ہدف نہیں لہٰذا تمام اسٹیک ہولڈرز کو اس ضمن میں مشترکہ کوششیں کرنی چاہیے اور اس سلسلے میں ہم نے عملی اقدامات کا آغاز کردیا ہے ۔انہوں نے کہاکہ وفاقی حکومت نے ایکسپورٹ کریڈٹ بڑھانے اور ایکسپورٹرز کی کاروباری لاگت کم کرنے کے لئے ایگزم بینک قائم کیا ہے تاکہ درآمدکنندگان کو ایکسپورٹ کریڈٹ گارنٹی اورانشورنس کی سہولتوں کے ذریعے خطرات کم کرنے میں ان کی مدد کی جاسکے ۔

اس ضمن میں ایشین ڈیولپمنٹ بینک سے تیکنیکی مددطلب کی گئی ہے اور اس سلسلے میں بات چیت ایڈوانس مراحل پرہے جبکہ حکومت نے بینک کے چیف ایگزیکٹیو آفیسر کی تقرری کے لیے اشتہار بھی مشتہر کیا۔اس موقع پر چیئرمین بزنس مین گروپ( بی ایم جی) و سابق صدر کراچی چیمبرآف کامرس سراج قاسم تیلی،وائس چیئرمین بی ایم جی طاہر خالق،انجم نثار، کے سی سی آئی کے صدر شمیم احمد فرپو،سینئر نائب صدر آصف نثار،نائب صدر محمد یونس سومرو، چیئرمین بینکنگ و انشورنس سب کمیٹی عاطف جمیل الرحمان، سابق صدر اے کیو خلیل اور منیجنگ کمیٹی کے اراکین بھی موجود تھے۔

اس موقع پر چیئرمین بزنس مین گروپ( بی ایم جی) و سابق صدر کراچی چیمبرآف کامرس سراج قاسم تیلی نے آج کل زیربحث ’’ پاناما لیکس‘‘ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ پاناما لیکس میں کئی بڑے نام بے نقاب ہوئے جن پر یہ الزام عائد ہواکہ انھوں نے غیر قانونی طریقے سے رقوم بیرون ملک بھیجیں لیکن دلچسپ امر یہ ہے کہ ان سبھی کا یہ دعویٰ ہے کہ انہوں نے قانونی طریقے سے رقوم بیرون ملک منتقل کی جس سے یہ بات ظاہر ہوتی ہے قانونی طریقے سے فنڈز کی بیرون ملک منتقلی کے حوالے سے متعلقہ قوائد موجود ہیں پر نہ تو عام آدمی اور نہ ہی بزنس مین ایسے قوانین سے واقف ہیں ۔انہوں نے قانونی طریقے سے رقوم بیرون ملک منتقلی کے حوالے سے آگاہی فراہم کرنے کے لیے ایک منظم نظام وضع کرنے پر زور دیتے ہوئے کہاکہ اگر کوئی سرمایہ کاری یا کسی اور مقصد کے لیے رقوم بیرون ملک منتقل کرنا چاہتا ہے اور رقوم منتقل کرنے سے متعلق قواعد بھی موجودہیں تو عوام میں پائے جانے والے ابہام کو دور کرنے کے لیے ان کی تشہیر کی جانی چاہیے۔

چیئرمین بی ایم جی نے اسٹیٹ بینک کو مشورہ دیا کہ وہ تاجر برادری اور دیگر کی جانب سے بھیجی گئی بیرون ملک ترسیلات زر کی درجہ بندی کرتے ہوئے واضح تشریح بیان کرے کیونکہ تاجروں اور دیگر کی جانب سے رقوم کی منتقلی میں واضع فرق ہے۔ اگرچہ تاجر برادری بھی انکم ٹیکس کی ادائیگی کے بغیر رقوم بیرون ملک منتقل کرتی ہے جو ایک غیر قانونی عمل ہے تاہم تاجربرادری کی منتقل کردہ رقوم ان کی اپنے کاروبار سے کمائی ہوئی ہے جبکہ دیگر کی جانب سے منتقل کی جانے والی رقوم یا چرائی ہوئی یا پھر کرپشن کرکے حاصل کی گئی ہوتی ہے۔انہوں نے وضاحت کرتے ہوئے کہاکہ بعض تاجر سرمایہ کاری کے مقصد کے تحت یا پھر پاکستان میں غیر یقینی حالات کے پیش نظر اپنی رقوم کو محفوظ رکھنے اور بیک اپ کے لیے منتقل کرتے ہیں۔

انہوں نے ایمنسٹی اسکیم کاذکر کرتے ہوئے کہاکہ کوئی بھی ایمنسٹی اسکیم بھروسے کے فقدان کی وجہ سے رقوم واپس پاکستان لانے میں مددگار ثابت نہ ہوسکی۔ایمنسٹی اسکیم ذاتی دلچسپی سے بالاتر ہو کر آئین کے فرسٹ شیڈول کے تحت متعارف ہونی چاہئے تاکہ وہ ناقابل واپسی ہو لیکن اس کے نتیجے میں بھی کچھ رقوم ہی ملک میں واپس لانے میں مدد ملے گی ورنہ اس طرح کی ایمنسٹی اسکیمیں مطلوبہ نتائج حاصل کرنے میں ہمیشہ ناکام ہی رہی ہیں۔ایمنسٹی اسکیمیں ایماندار ٹیکس گزاروں کے لیے سراسر انصافی کے مترادف ہے جو ایمانداری اور قانونی طریقے سے کماتے ہیں اور تمام ٹیکس ادا کرتے ہیں۔

انہوں نے کہاکہ اگرچہ دوسروں کے مقابلے میں تاجربرادری کے بیرون ملک بینک اکاؤنٹس زیادہ ہو سکتے ہیں لیکن تاجربرادری کے اکاؤنٹس میں دیگر کی جانب سے لوٹی گئی رقوم کی نسبت فنڈز بہت کم ہی ہوں گے۔ اگر تاجربرادری کے 85بینک اکاؤنٹس کا جائزہ لیا جائے اور صرف15 دیگر اکاؤنٹس سے موازنہ کیاجائے تو تاجروں کے مقابلے میں ان 15اکاؤنٹس کے مجموعی فنڈز زیادہ ہوں گے۔قبل ازیں کے سی سی آئی کے صدر شمیم احمد فرپو نے بعض اشیاء کی درآمد کے لیے ایل سی کھلوانے اور سودے طے کرنے کے لیے 100فیصد مارجن ڈپازٹ کی پابندی سے تاجروصنعتکار برادری کو درپیش مشکلا ت کا ذکر کرتے ہوئے کہاکہ اس فیصلے پر نظر ثانی کی ضرورت ہے کیونکہ اس اقدام سے اسمگلنگ بڑھے گی اور اشیاء کی قیمتوں میں اضافہ ہوگا جس سے نہ صرف متعلقہ تاجر متاثر ہوں گے بلکہ عوام بھی متاثر ہوگی۔

چند اشیاء کے سواء تما آئٹمز پاکستان بھر کے ہر گھر میں استعمال ہوتے ہیں۔شمیم فرپو نے زرمبادلہ کے ذخائر میں کمی سے نمٹنے کے لیے سازگار ماحول کے قیام اور کاروباری لاگت میں کمی کے اقدامات پر زور دیا۔انہوں نے کہاکہ اسٹیٹ بینک مینوفیکچررز کی مالی اعانت میں آسانی یقینی بناتے ہوئے حوصلہ افزائی کرے۔