بریکنگ نیوز
Home / کالم / زبردستی سے نظر یے نہیں پھیلا کرتے

زبردستی سے نظر یے نہیں پھیلا کرتے


کوئی بھی نظریہ لوگوں پر پرتشدطریقے سے نافذ نہیں کیا جا سکتا ‘ کسی بھی نظریے سے اگر کوئی کسی فرد یا قوم کو متاثر کرنا چاہتا ہے تو اسے اپنے کردار کو ہر لحاظ سے احسن اعلیٰ وارفع بنانا ہو گا کہ جسے دیکھ کر لوگ عش عش کرنے لگیں بندوق کی گولی ‘ ٹینک کے گولے اور فضائی حملوں سے اگر کسی نظریہ کو کس پر مسلط کیا جا سکتا تو ہٹلر ناکام نہ ہوتااور نہ مسولینی کو ذلت کی موت کا سامنا کرنا پڑتا اگر کوئی اپنی دانست میں یہ سمجھ بیٹھا ہے کہ یورپ اور امریکہ کے باسی راہ راست سے ہٹ چکے ہیں اور گمراہی کے راستے پر گامزن ہیں تو اسے پہلے اپنے کردار میں اسوہ حسنہ دکھانا ہو گا تب ہی کہیں جا کر اس کی نصیحت پر وہ لوگ کان دھریں گے کہ جن کو راہ راست پر لانا مقصود ہے جو کوئی بھی یورپ اور امریکہ میں تشدد کی کاروائیاں کر رہا ہے وہ اپنے دین کے ساتھ دوستی نہیں بلکہ دشمنی کر رہا ہے اس تحریر کا البتہ یہ مطلب ہر گز نہ سمجھا جائے کہ ہم امریکہ یا یورپ کی کسی طرح وکالت کر رہے ہیں فزکس کا ایک اصول ہے کہ ہر ایکشن کے خلاف خواہ مخواہ ایک ری ایکشن ہوتا ہے امریکہ اور اہل مغرب کو یہ بات بھولنی نہیں چاہئے کہ اگر آج عالم اسلام میں بعض شدت پسندتنظیموں نے جنم لیا ہے تو یہ بھی مغرب کا اپنا ہی کیا دھرا ہے اس کی بڑی اور بنیادی وجہ یہ ہے کہ دنیا میں کم و بیش ہر جگہ پر مغرب نے مسلمانوں اور یہودیوں کے درمیان اپنے تعلقات میں توازن نہیں برتا ‘ مسلمانوں کو کئی جگہ دیوار کے ساتھ لگادیاگیا ہے تنگ آمد بجنگ آمدبعض مسلمان ممالک میں شدت پسند تنظیمیں منظر عام پر آ گئی ہیں۔

اور انہوں نے اہل مغرب کیخلاف ہاتھوں میں بندوق اٹھا لی ہے یہ دنیا آج ایک گلوبل ولیج بن چکی ہے آج مغرب کافی حد تک Multi-racial ہے ہر ملک میں ہر قوم ‘ ہر مذہب اور ہر نسل کے لوگ آباد ہیں یہ بات بھی غلط ہے کہ بعض مغربی ممالک میں باہر سے آئے ہوئے دوسرے مذاہب سے تعلق رکھنے والے لوگوں کو مقامی حکومتیں مجبور کریں کہ وہ حجاب نہ پہنچیں یا اپنی مذہبی رسومات منانے سے گریز کریں اگر ان معاملات میں ان کا قافیہ تنگ کیا جاتا ہے تو پھر لا محالہ انہوں نے احتجاج تو کرنا ہے یقین کیجئے اگر مغربی ممالک نے یہودیوں کے مقابلے میں مسلمانوں سے امتیازی سلوک نہ کیا ہوتا تو آج مسلمانوں کے دلوں میں اتنی نفرت نہ پیدا ہوئی ہوتی ‘ ہم تاریخ میں زیادہ دور تک نہیں جاتے صرف سلطنت عثمانیہ تک اپنی بحث محدود رکھتے ہیں جب تک سلطنت عثمانیہ کا وجود قائم رہا دنیا میں مسلمانوں کا دبدبہ رہا ہر کمالے را زوالے سلطنت عثمانیہ کے حکمرانوں نے بھی وہی غلطیاں دہرائیں جو ان سے پہلے یونانی یا روم کی تہذیبوں کے وارثوں سے سرزد ہوئیں تھیں کچھ ان کی اپنی لغزشیں تھیں کہ جو ان کی بربادی کاباعث بنیں لیکن کافی حد تک عیسائیوں خصوصاً فرنگیوں نے سلطنت عثمانیہ کا تیا پانچا کرنے میں کلیدی کردار ادا کیا‘ تاریخ کی کتابوں میں درج ہے کہ مشرق وسطے جو کبھی ایک اکائی تھا اس کو اردن ‘ عراق‘ شام ‘ فلسطین‘ لبنان کردستان وغیرہ میں فرنگیوں نے ہی تو تقسیم کیا یہ ہماری بدقسمتی ہے کہ ہم میں’’میر جعفروں‘‘ اور میر صادقوں‘‘ کی کبھی بھی کمی نہیں تھی آج دنیا میں 50 سے زیادہ اسلامی ممالک ہیں لیکن خدا لگتی کہے کیا ان میں کوئی بھی ایسا ہو گا جس کے حکمران اسلامی اصولوں پر کاربند ہوں گے ؟ ایک عربی کہاوت ہے کہ رعایا اپنے حاکموں کے چلن کو اپناتی ہے۔

اگر اوپر والا اہلکار ٹھیک ہو گا تو اس کے ماتحت اہلکار کوئی بھی غلط کام کرنے سے پہلے سو بار سوچیں گے آج تو صورتحال یہ ہے کہ جس برائی کا سوچو وہ ہم میں من حیث القوم
بدرجہ اتم پائی جاتی ہے یہ پچاس سے زائد ممالک بھانت بھانت کی بولیاں بولتے ہیں ان میں کوئی روس کا داست راست ہے تو کوئی امریکہ کا۔ کفار کا جب دل چاہئے جہاں دل چاہئے وہ بغیر کسی روک ٹوک کے مسلمانوں پر زیادتیاں کرتے ہیں بھلے وہ بوسنیا ہو‘ برما ہوفلسطین ہو کہ بھارت ان کو پتا ہے کہ ان کا والی وارث کوئی نہیں ان کا ایک ادارہ اوآئی سی کی شکل میں موجود تو ضرور ہے لیکن اس کے تلوں میں تیل بھی نہیں اور منہ میں دانت بھی نہیں۔