بریکنگ نیوز
Home / کالم / بے یقینی

بے یقینی


یوں تو ہر پیغام پر یقین کرنا بھی ٹھیک نہیں ہوتا مگر بعض دفعہ یقین نہ کرنے سے کافی نقصان بھی ہو جاتا ہے ۔ خصوصاً جب کسی کی بیماری کی اطلاع ملے تو بغیر تحقیق کے بعض دفعہ پشیمانی کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور بعض اوقات لمبی چوڑی خفگی کا سامنا کرنا پڑجاتا ہے۔مثال کے طور پر ایک عزیز کا معلوم ہوا کہ وہ بیمار ہیں اور ہسپتال میں پائے گئے ہیں۔ ہم نے آؤ دیکھا نہ تاؤہسپتال دوڑ لگادی یہ معلوم کئے بغیر کہ وہ کس وارڈ میں تشریف رکھتے ہیں اور اُن کو یک دم کیا ایسی بیماری لاحق ہوئی کہ بستر پر جا پڑے۔ہسپتال جا کر سارے وارڈ چھان مارے مگر کہیں کچھ پتہ نہ چلا ۔ وارڈ اٹینڈنٹس سے استفسار کا کہ فلاں نام کا شخص ہسپتال کے کس وارڈ میں ہو گا تو الٹا ہمیں مذاق کا نشانہ بننا پڑا۔ ایک دوست سے ملاقات ہوئی انہوں نے بتایا کہ فلاں کلاس فیلو اور ہمارے گہرے دوست کا انتقال ہو گیا ہے ۔ اگلے دن ہی اُن کا جنازہ ہوا ہے۔مجھے بھی معلوم نہیں تھا بس آج ہی سنا ہے۔ہم نے بغیر سوچے سمجھے اُن کے گاؤں کا ارادہ کیا اور تعزیت کے لئے چل دیئے۔خدا کا کرنا کہ جس سٹاپ سے اُن کے گاؤں کی گاڑی ملنی تھی ہم جو وہاں پُہنچے تو وہ حضرت بذات خود گاڑی کے انتظار میں کھڑے تھے۔مل کر جو خوشی ہونی تھی وہ تو ہوئی مگر اس کے ساتھ ہی ہمارے آنسو بھی نکل آئے۔ پوچھا خیر باشد ۔ دوستوں سے مل کر تو خوشی ہوتی ہے تم نے یہ کیا ٹسوے بہانے شروع کر دیئے ہیں۔وجہ بتائی تو وہ ہنس پڑے بولے کہ فلاں کو تم جانتے نہیں ہو ۔ وہ تو ایسی افواہیں پھیلا کر مزے لیتا ہے اُس کا اعتبار نہ کرو۔یار غلطی ہو گئی آئندہ ایسا نہیں ہو گا۔ تو ہم نے ٹھان لی کہ آئندہ ایسی مصدقہ خبر پر بھی بغیر چھان بین کے اعتبار نہیں کریں گے۔

کچھ ایسا ہی ہمارے ساتھ پچھلے دنوں ہوا۔ ہوا یہ کہ جب سے پی ٹی سی ایل نے سستی کا مظاہر کرتے ہوئے لوگوں کے ہاتھ میں موبائل دے دیئے ہیں ہماری کمیونیکیشن کے سلسلے کو دھچکے پہ دھچکا لگ رہا ہے۔ہم ایک دوست کا نمبر لیتے ہیں ۔ اُن سے کچھ دنوں تک خوب گپ شپ ہوتی ہے اور پھر ایک دن ایسا آتا ہے کہ ہم موبائل کی منتیں کر رہے ہوتے ہیں مگر کمپیوٹر کی مس ہمیں بار بار یہی کہتی ہے کہ آپ کے ملائے ہوئے صارف سے رابطہ ممکن نہیں ہے۔بعد میں پتہ چلتا ہے کہ موصوف نے نئی سم لے لی ہے اور اُن کا نمبر تبدیل ہو گیا ہے۔ اب ہم حیران کہ سلسہ جنبانی کو کیسے دوبارہ قائم کیا جائے۔پی ٹی سی ایل کا یہ تھا کہ ایک نمبر الاٹ ہوا تو وہ زندگی بھر آپ کے ساتھ ہے اور اگر کوئی تبدیلی ہوتی ہے تو پہلے پیغام آجاتاہے کہ فلاں شہر کے نمبروں سے قبل ایک یا دو دفعہ 3 لگا لیا جائے ۔ تو سلسلہ جنبانی قائم رہتا ہے۔اب اسی پہ قیاس کر لیں کہ ہمارے مہربان انورخان صاحب سے ایک عرصہ سے دعا سلام تھی‘ ہر صبح ہم بغیر ناغے کے اُن کو صبح کا سلام بھیج رہے تھے۔ اور ان کی جانب سے بھی متواتر جواب آ رہاتھا۔ پھر کچھ دن کے لئے یہ سلسلہ کہیں انقطاع پذیر ہو گیا۔ ہم سمجھے کہ شائد انورخان صاحب ہماری ہر صبح کی دعا سلام سے تنگ آ چکے ہیں ۔ پھر ایک دن پیغام ملا کہ جناب نے ایک نئی کمپنی سے معاہدہ کر لیا ہے اور یوں انہوں نے پہلی سم بدل دی ہے اس لئے اس نئے نمبر پر دعا سلام کا سلسلہ جاری کیا جائے۔خیر ہم تو محبت کے مارے لوگ ہیں۔

اُن کی اُسی نمبر پر سلسلے کو آگے بڑھایا ۔ کبھی کبھی فیس بک پر بھی ملا قاتیں ہونے لگیں۔ جناب نے فیس بک پر ایک گروپ کی بنیاد رکھی اور اس گروپ کی طرف سے پیغامات آنے لگے ۔ پھر اس گروپ سے دوستوں نے جناب انور خان کو نکال باہر کیا۔ ادھر ہمارا بھی سلسلہ کسی نئی سم کی وجہ سے منقطع ہو گیا۔ایک دن اُن کے گروپ کی جانب سے ایک اعلان فیس بک پر پڑھا کہ جناب انور خان پہ فالج کا حملہ ہو گیا ہے۔ہم اپنی جگہ ہر نماز میں اُن کی صحت یابی کی دعائیں تو کرتے رہے مگر اُن سے ایسی سخت بیماری کے ہونے نہ ہونے کی تصدیق نہ ہو سکی۔ اب کے جو اخبار کھولا تو جناب حماد حسن نے اپنے کالم کا عنوان ہی ’’انور خان قصور تو تمہارا اپنا ہے‘‘ پڑھا تو یقین ہو گیا کہ واقعی انور خان پر فالج کا حملہ ہوا ہے مگر اللہ کا شکر کہ زبان بچ گئی ہے۔بس سوچا کہ بات لمبی ہے کیا فون پر بات کروں اس لئے کہ کوئی خبر نہیں انورخان کے موبائل میں سم وہی ہے یا بدل دی ہے۔ چلیں کالم کے ذریعے ہی بیمار پرسی کر لیں ۔ بات کیوں کہ سچی ہے اس لئے ہمارا مذاق بھی نہیں بنے گا او ردوستوں سے بھی اپیل کر لیں گے کہ اُن کے لئے صحت کی دعا فرمائیں۔ ویسے انور خان سچے آدمی ہیں اور سچ کو برداشت کرنا ذرا مشکل ہی ہوتا ہے اور سچ کہنے والا ذہنی کوفت میں مبتلا ہو کر اپنے لئے ایسی بیماریاں پال لیتا ہے۔