بریکنگ نیوز
Home / پاکستان / چین کی کاروباری برادری پاکستان میں سرمایہ کاری کا ماحول سے فائدہ اٹھائے،نوازشریف

چین کی کاروباری برادری پاکستان میں سرمایہ کاری کا ماحول سے فائدہ اٹھائے،نوازشریف


اسلام آباد۔وزیراعظم محمد نوازشریف نے چینی تاجروں کو پاکستان میں سرمایہ کاری کی دعوت دیتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان کا کاروباری ماحول ایک جامع ڈھانچے کے باعث بغیر کسی رکاوٹ کے براہ راست منافع بخش بیرونی سرمایہ کاری کے لیے پرکشش ہے،چینی سرمایہ کار موجودہ دوست ماحول سے فائدہ اٹھائیں۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے چائنا ایرو اسپیس سائنس اور انڈسٹری کارپوریشن (سی اے ایس آئی سی)کے چیئرمین بورڈ گاہونگئی اور چائنا پریسیشن مشینری امپورٹ-ایکسپورٹ کارپوریشن (سی پی ایم آئی ای سی)کے چیئرمین بورڈ ژا ژیالونگ کے ساتھ ملاقات میں گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کے وزیر رانا تنویر حسین، چین کے سفیر سن ویڈونگ اور اعلی عہدیدار بھی ملاقات کے دوران موجود تھے۔وزیراعظم نواز شریف نے پاکستان کی واحد تجارتی، توانائی اور ٹرانسپورٹ کی راہداری کے محل وقوع پر بھرپور توجہ مبذول کرواتے ہوئے چینی سرمایہ کاروں کو پاکستان کے آزاد سرمایہ کاری ماحول سے فائدہ اٹھانے کی دعوت دی ہے۔

وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان کا کاروباری ماحول ایک جامع ڈھانچے کے باعث بغیر کسی رکاوٹ کے براہ راست منافع بخش بیرونی سرمایہ کاری کے لیے پرکشش ہے۔ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کی منصوبہ بندی کا تسلسل آزاد، ڈی ریگولیشن، نجکاری اور سہولیات کے باعث اپنی اہمیت کو دوچند کردیتا ہے۔وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان مسلم لیگ ن کی حکومت کی توجہ معیشت کی بحالی، توانائی کے بحران کے حل، سیکیورٹی کی صورت حال کو بہتر بنانے اور سرمایہ کاروں کو بہترین مواقع فراہم کرنے پر مرکوز ہے۔انھوں نے کہا کہ پاکستان کی معاشی صورت حال گزشتہ چاربرسوں میں تبدیل ہوچکی ہے اور اس کا عالمی طور پر اعتراف کیا جارہا ہے۔وزیراعظم نے چینی سرمایہ کاروں کو پاکستان میں خوش آمدید کہتے ہوئے کہا کہ پاک-

چین اقتصادی راہداری (سی پیک)اور اہم معاشی سیکٹرز میں تعاون کے ذریعے پاک-چین دوستی نئی منازل طے کررہی ہے۔نواز شریف نے کہا کہ پاکستان کے چین کے ساتھ تعاون سے دونوں ملکوں میں نہ صرف خوشحالی آئے گی بلکہ پورے خطے کے لیے ترقی کا ذریعہ بنے گا۔اس موقع پر ہونگئی نے پاکستان کے کاروباری تعلقات کو بہتربنانے کے عزم کا اظہار کیا جبکہ وزیراعظم کو آگاہ کیا گیا کہ کمپنیاں پہلے ہی متعلقہ حکام کے ساتھ رابطے میں ہیں۔