بریکنگ نیوز
Home / کالم / ٹرین کے بڑھتے حادثات

ٹرین کے بڑھتے حادثات


ایک مرتبہ بھارت میں ریلوے کا حادثہ ہوا تو وہاں کے ریلوے کے منسٹر نے اس حادثے کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے فوری طورپر اپنی وزارت سے استعفیٰ دے دیا اتفاق سے اس حادثے کے فوراً بعد پاکستان میں بھی ریلوے کا ایک حادثہ ہوا جس میں کم وبیش اتنے ہی مسافر لقمہ اجل بنے کہ جتنے بھارت میں ہونیو الے ریل کے حادثے میں ہوئے تھے ہمارے ریلوے کے وزیرسے جب ایک اخباری نمائندے نے یہ پوچھا کہ بھارتی وزیر ریلوے نے تو چند روز قبل ریلوے کے حادثے کے بعد استعفیٰ دے دیا تھا کیا آپ بھی ان کی تقلید کرتے ہوئے اپنی وزارت سے مستعفی ہوں گے تو ہمارے وزیر صاحب نے جواب دیا بھارت کا وزیر ریلوے تو ہندو ہے اور میں بفضل خدا مسلمان ہوں ایک مسلمان ہوکر بھلا میں ہندو کی قائم کردہ روایت پر کیسے عمل کرسکتا ہوں؟ بھارت میں ایک نہیں بلکہ کئی وزراء ریلوے نے ریلوے کے حادثات کے بعد رضا کارانہ طور پر اپنے منصب چھوڑے ہیں دنیا کے دیگر ممالک میں بھی اس قسم کی سینکڑوں مثالیں اور روایات آپ کو ملیں گی بدقسمتی سے اس قسم کا خود احتسابی کاکلچر اپنے ہاں پنپ نہ سکا یہاں جب بھی اس قسم کے واقعات رونما ہوئے تو حکمرانوں نے قربانی کے بکرے ڈھونڈے اور ہمیشہ نچلے درجے کے سرکاری اہلکار کو ہی قربانی کا بکرا بنایا اسے نوکری سے برخاست کیا یا معطل یہ ایک ناقابل تردید حقیقت ہے کہ اس خطے کی تقسیم کے وقت فرنگیوں نے کئی ریاستی ادارے نہایت ہی اچھی حالت میں ہمارے لئے چھوڑے اور ان میں ریلوے کا ادارہ بھی شامل تھا ہم نے اسے بجائے بہتر بنانے کے اس کا ستیاناس کردیا ایک زمانہ تھا کہ ایک عام مسافر کو پشاور سے کراچی جانے کیلئے جو سفر سستا پڑتا تھا وہ صرف ریلوے کا تھا ٹرینیں وقت مقررہ پر چلتیں ان کے اندر ڈائننگ کار کے ذریعے جو کھانا مسافروں کو فراہم کیا جاتا وہ حفظان صحت کے اصولوں کے مطابق تیار کیا جاتا ریلوے کے ڈبوں کے اندر واش رومز میں وضو کے لئے ہر وقت وافر پانی موجود ہوتا اسکے علاوہ تاجر حضرات پشاور سے کراچی اور کراچی سے پشاور تجارت کے لئے اپنا جو سامان بھجواتے وہ مال گاڑیوں کے ذریعہ بھجواتے کہ انکے کرائے ٹرکوں کے کرایوں سے سستے ہوتے ۔

فرنگیوں نے راولپنڈی سے لیکر مانزئی تک کہ جو جنوبی وزیرستان کی دہلیز پر واقع ہے ایک ریلوے ٹریک بچھایا تھا جو کوہاٹ ‘بنوں‘لکی مروت اور ٹانک سے ہوتا ہوا مانیزئی تک بچھا ہوا تھا کیا ہم اس ٹریک کو آگے بڑھا کر جنوبی وزیرستان میں وانا تک نہیں پہنچا سکتے تھے؟ کیاہم اس کی ایک دوسری لائن کو جنوبی وزیرستان میں براستہ تنائی کوہٹہ تک بڑھا نہیں سکتے تھے؟ کیا ہم اس ٹریک کی ایک لائن کو پیزو سے ڈیرہ اسماعیل خان تک نہیں لے جاسکتے تھے؟ پر ہم نے تو اس طرف توجہ ہی نہیں دی آج یہ حال ہے کہ راولپنڈی سے مانزئی تک کا جو ریلوے ٹریک تھا اس کا دور دور تک کوئی نام ونشان ہی نہیں یار لوگ غالباً اسے اکھاڑ کر فروخت کرکے کھاپی گئے جس طرح ہم نے اپنی قومی ائر لائن میں بے دریغ بھرتیاں کرکے اسکا دیوالیہ نکالا بالکل اسی طرح ہم نے ریلوے کو بھی جڑ سے اکھاڑنے کیلئے کوئی کسر نہیں چھوڑی ٹرکوں اور بسوں کے مالکوں کی روڈ ٹرانسپورٹ لابی ہمیشہ سے بڑی مضبوط لابی رہی ہے اس نے ہر دور میں کوشش کی کہ ریلوے کبھی بھی ترقی نہ کر پائے جہاں تک ریلوے کے لیول کراسنگ کا تعلق ہے یہ تو پہلے بھی موجود تھیں پر ان پر ڈیوٹی دینے والے ریلوے کے ملازمین اس قسم کی غفلت اور نااہلیت کا کبھی بھی مظاہرہ نہیں کرتے تھے کہ جس طرح آج کل کررہے ہیں اور جن سے حادثات میں آئے دن اضافہ ہوتا جارہا ہے ریلوے کی کارکردگی کو بہتر بنانے کا ایک طریقہ یہ بھی ہے کہ ہمارے صدور‘ وزرائے اعظم ‘گورنرز اور دیگر وزراء ریلوے میں سفر کیا کریں ۔