بریکنگ نیوز
Home / کالم / عارضہ قلب اور علاج

عارضہ قلب اور علاج


کیا علاج کے نام پر علاج ہی ہو رہا ہے؟ پاکستان میں میڈیکل ٹیکنالوجی اور علاج کے طریقوں میں ترقی کیساتھ ساتھ شعبۂ صحت کی ریگولیشن بھی ایک اہم مسئلہ بن چکی ہے اس شعبے میں کئی سکینڈلز کمزور قوائد ہی کا نتیجہ ہیں جہاں امراض قلب عام طور پر زندگی کو خطرے میں ڈال دینے والے حالات پیدا کر دیں وہاں غیر اخلاقی طور پر پیسے بنانے کے امکانات پیدا ہو جاتے ہیں حالیہ ’’سٹنٹس جعل سازی‘‘ کا کیس لائق غور ہے۔ سٹنٹ ایک نالی نما‘ خود کو پھیلانے کی صلاحیت کا حامل طبی آلہ ہوتا ہے جو دل کی شریانوں میں کسی قسم کی رکاوٹ کو دور کرنے کیلئے داخل کیا جاتا ہے یوں دل کے مریضوں کو زیادہ جینے کا موقع مل جاتا ہے اور ان کی زندگی کا معیار بھی بہتر ہو جاتا ہے پاکستان میں دل کے مریضوں کی بڑھتی تعداد کے ساتھ سٹنٹس مارکیٹ نے خود کو وسیع کیا ہے اس طرح طبی ماہرین اور دواساز صنعتوں کیلئے مریضوں کی جیب سے تجارتی فوائد حاصل کرنے کے دروازے کھول دیئے ہیں اگرچہ عوام کی یاداشت کمزور ہے مگر پنجاب انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی کا سکینڈل کون بھول سکتا ہے جہاں غیر معیاری ادویات دینے سے دوسو سے زائد افراد موت کا شکار ہوئے تھے!پاکستان میں دیگر جرائم کی طرح‘ اس کیس میں بھی مجرموں کیخلاف کسی بھی قسم کی کاروائی کئے بغیر یہ جرم بھی دفتری فائلوں میں مدفن ہو کر رہ گیااس حوالے سے قواعد کی مسلسل غیر موجودگی سے اب اگر سٹنٹس جعل سازی کا معاملہ منظر عام پر آیا ہے تو اس میں کوئی حیران کن بات نہیں جب لاہور کے ایک بڑے ہسپتال میں بھاری تعداد میں غیر معیاری سٹنٹس موجود پائے گئے تو اس معاملے کا انکشاف ذرائع ابلاغ نے کیا۔ اسکے ساتھ ساتھ میڈیا تحقیقات میں سٹنٹ لگانے کی مارکیٹ میں ہونے والے کئی پریشان کن عوامل اور اسکے ساتھ جڑے کئی ریگولیٹری اور اخلاقی مسائل سے بھی پردہ اٹھایا گیا اول۔

‘ یہ مارکیٹ غیر رجسٹرڈ اور غیر معیاری سٹنٹس سے بھری ہوئی ہے۔ دوسرا‘ سستے سٹنٹ اکثر طبی بنیادوں پر نہیں بلکہ خالصتاً کاروباری بنیادوں پر ڈالے جاتے ہیں جسکے عوض مریضوں سے غیر ضروری سٹنٹ ڈلوانے کے پیسے لئے جاتے ہیں تیسرا‘ اکثر و بیشتر مریضوں کو یقین دلایا جاتا ہے کہ ان کے قلب میں مطلوبہ سٹنٹس ڈال دیا گیا ہے اور ان سے سٹنٹ ڈلوانے کے پیسے لئے جاتے ہیں اور حقیقت میں سٹنٹ ڈالا ہی نہیں گیا ہوتا چوتھا‘ یہاں سٹنٹس مغرب کی نسبت کہیں زیادہ مہنگے داموں پر فروخت کئے جاتے ہیں مثلاً ذرائع ابلاغ میں شائع ہونے والی اطلاعات کے مطابق بھارت میں تیارشدہ سٹنٹس کی قیمت تیرہ سے چھبیس ہزار روپے کے درمیان ہوتی ہے۔ پاکستان میں جعلی لیبل کے ساتھ یہی آلہ دو لاکھ سے تین لاکھ روپے کے درمیان فروخت ہو رہا ہے پانچواں ہمارے ہاں نہ صرف مضبوط طبی قواعد موجود نہیں ہیں بلکہ نجی و سرکاری علاج گاہوں کی نگران کرنے والے ادارے بھی کمزور ہیں اور عوام کو جعل سازی سے بچانے کے لئے ان کا کہیں بھی مؤثر کردار نظر نہیں آتا۔شریانوں میں سٹنٹ ڈالنے سے جڑے غیر اخلاقی عوامل کے بارے میں ذرائع ابلاغ کے انکشافات پر سپریم کورٹ نے اس مسئلے کا از خود نوٹس لیا ہے وہاں سینٹ نے بھی ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان (ڈراپ) کو ایک ماہ کے اندر اندر قیمتوں سے جڑی پالیسی کو ترتیب دینے کی ہدایات جاری کی ہیں ادویاتی اور طبی ٹیکنالوجی کی صنعت نے مسئلے میں بڑی سطح پر موجود کاروباری مفاد کی وجہ سے تیز تر رجسٹریشن کے لئے منفی تشہیر کا استعمال کیا۔ وہیں سپریم کورٹ اور سینٹ نے تیزی سے اقدام اٹھاتے ہوئے ڈراپ کو ہدایت دی ہے کہ صرف ان سٹنٹس کو منظوری دی جائے جنہیں مغرب کے مضبوط ریگولیٹری اداروں کی جانب سے منظوری حاصل ہے سٹنٹ جعل سازی معاملے نے سٹنٹ مارکیٹ میں موجود کئی خرابیوں کی نشاندہی کی ہے سب سے بڑھ کر تو ان میں ظاہر ہے ایک مضبوط قانون سازی کی کمی ہے۔

موجودہ صورتحال کے پیش نظر‘ جس طرح مریضوں کی زندگی کو سنگین نوعیت کے خطرے میں ڈالنے جیسے غیر اخلاقی عوامل بڑھتے جا رہے ہیں‘ اس مارکیٹ کو فوری طور پر ایک سرگرم نگرانی اور مضبوط قواعد کی ضرورت ہوتی ہے ڈراپ ابھی تک اپنا وعدہ وفا نہیں کر پایا ہے جسکا ثبوت دوہزار بارہ میں اسکے قیام سے لے کر اس کے کردار اور اہلیت سے جڑی ہولناک منفی کہانیاں ہیں جہاں ادویات اور طبی آلات کی ضابطہ کاری بڑی سطح پر تکنیکی فیلڈ کی صورت اختیار کر رہی ہے ایسے میں ڈراپ کو بھی خود کو نئے منظر نامے کیساتھ اپنے کردار پر دوبارہ جائزہ لینا چاہئے اسی لئے ضروری ہے کہ ریگولیٹری اتھارٹی خود کو درست قسم کی افرادی قوت سے لیس کرے اور شفاف فیصلہ سازی کے تقاضوں کو پورا کرے ڈراپ اپنے اندر اہل اور تجربہ کار افراد کو شامل کرنے کیساتھ اپنی فیصلہ سازی میں بڑی حد تک سول سوسائٹی گروپس کو بھی شامل کرے اور اپنے فیصلوں کو ویب سائٹ پر فراہم کر کے عوام کیلئے عام کرے مزید برآں‘ جتنی ضرورت مضبوط ضابطہ کار کے نفاذ کی ہے اتنی ہی ضرورت 1976ء کے ڈرگزایکٹ پر دوبارہ جائزہ لینے کی ہے جس میں تبدیلیاں لائی جائیں اور لفظی اور عملی طور پر عمل درآمد کیا جائے سب سے بڑھ کر یہ کہ دل کے مریضوں کے علاج کا خرچہ کم ہونا چاہئے اور انہیں سٹنٹس کی قیمت بتائی جائے اور اسکے سائیڈ ایفیکٹس سے بھی آگاہ کیا جائے عارضۂ قلب میں مبتلا مریضوں کو ناجائز منافع خوروں سے بچانے کے لئے خاطرخواہ اقدامات کیساتھ غیرمعیاری علاج گاہوں کا علاج بھی ضروری ہے۔ (بشکریہ: دی نیوز۔ تحریر: عارف آزاد۔ ترجمہ: اَبواَلحسن اِمام)