بریکنگ نیوز
Home / کالم / سجاد حیدر / فوڈ سیفٹی اتھارٹی کی درپیش چیلنجز

فوڈ سیفٹی اتھارٹی کی درپیش چیلنجز


شنید ہے کہ خیبر پختونخوا فوڈ سیفٹی اتھارٹی کو پورے زوروشور سے میدان میں اتارنے اور صوبائی حکومت کی جانب سے اسے مکمل سپورٹ دینے کی تیاریاں کرلی گئی ہیں یوں یہ اتھارٹی عنقریب پوری آب و تاب سے جلوہ گر نظر آئے گی ،کے پی فوڈ سیفٹی اتھارٹی کا قیام ویسے تو مارچ 2014ء میں صوبائی اسمبلی سے ایک ایکٹ کی منظوری کے نتیجے میں عمل میں آیا اور اسکے قیام کا بنیادی مقصد پورے صوبے میں اشیائے صرف کے معیار اور قیمتوں پر نظر رکھنا ، غیر معیاری، کم وزن اور حفظان صحت کے اصولوں سے متصادم اشیائے خوردونوش فروخت کرنے والوں کیخلاف کاروائی عمل میں لانا اور خیبر پختونخوا کے عوام کوصاف ستھری ، غذائیت سے بھرپوراشیائے خوردونوش کی فراہمی یقینی بنانا تھا لیکن پچھلے تین سال کے دوران ہمارے صوبے میں فوڈ سیفٹی اتھارٹی اس قابل نہیں ہوپائی کہ وہ ،وہ کچھ کر پاتی جو کچھ ممکن بنانے کیلئے مذکورہ قانون سازی کی گئی تھی ادھر اس عرصے کے دوران پنجاب فوڈ اتھارٹی نے ایسے ایسے معرے سر کئے ہیں جن کی مثال ماضی میں نہیں ملتی پنجاب فوڈ اتھارٹی نے لاہور سمیت پنجاب کے کئی شہروں اس قدر زور و شور سے ا پنا کام کیا کہ شیر فروش ہوں یا قصاب ،کھوکھے والے ہوں یا ریسٹورنٹس والے۔چھوٹے پیمانے پر فوڈ آئٹمز کا کاروبار کرنے والے ہوں یا بڑے بڑے ہوٹلوں کے مالکان سب کو اپنا قبلہ درست کر لینے میں ہی عافیت نظر آئی۔ وجہ یہ تھی کہ ایک طرف تو پنجاب کے وزیر اعلیٰ نے کھانے پینے کی غیر معیاری اشیاء کی فروخت کے حوالے سے’زیرو ٹالرینس‘ پالیسی اپنائی اور اشیاء خوردونوش کا بہتر معیار یقینی بنانے کیلئے پنجاب فوڈ اتھارٹی کو فری ہینڈ دیا جبکہ دوسری طرف پنجاب فوڈ اتھارٹی کے افسروں اور اہلکاروں نے بھی بڑی جانفشانی اور لگن سے فرائض کی ادائیگی کو اپنا شعار بنایا اس عمل کے دوران کسی بھی دباؤیا اثر و رسوخ کو خاطر میں نہ لاتے ہوئے غیر معیاری اشیاء خوردونوش فراہم کرنے والی ہتھ ریڑھیوں سے لیکر نامی گرامی ہوٹلوں تک کیخلاف کاروائیاں ہوئیں اور ہو رہی ہیں۔

جبکہ ساتھ ساتھ تمام طعام گاہوں کی مجموعی صفائی اور ان میں لائی جانیوالی اشیاء کا معیار جانچنے کیلئے باقاعدہ نظام بھی متعارف کرایا گیا ہے یوں پنجاب کے مذکورہ اضلاع میں کھانے پینے کی اشیاء فروخت کرنے والوں پر مستقل بنیادوں پر نظر رکھی جارہی ہے اور متعلقہ قوانین کی خلاف ورزی کرنے والوں سے آہنی ہاتھوں سے نمٹا جا رہا ہے اگر خیبر پختونخوا کی بات کی جائے تو فی الوقت مارکیٹ میں عمومی طور پر فروخت ہونے والے فوڈ آئٹمز میں سے شاید ہی کوئی ایسا ہو جسے شہری پورے وثوق سے’’معیار ی اور حفظان صحت کے اصولوں کے عین مطابق ‘‘کا سر ٹیفکیٹ دے سکیں پرچون دکانوں سے لیکر ہول سیل مراکز تک میں فروخت ہونے والی اشیاء خوردونوش ہوں یا ہتھ ریڑھیوں، سٹالز،کھوکھوں‘موبائل یونٹس اور ریسٹورنٹس پر دستیاب پکوان۔معیار کے معاملے میں صارفین میں اطمینان کم کم ہی پا یا جاتا ہے پشاور کی ضلعی انتظامیہ اگرچہ اس حوالے سے گاہے بگاہے ایکشن لیتی نظر آتی ہے اور ضلعی انتظامیہ کے افسران صوبائی دارالحکومت میں ناقص اشیاء خوردونوش کی فروخت اور صفائی کی ابتر صورتحال کی پاداش میں ریسٹورنٹس ، ہوٹلز، کیفیز اور فوڈ پارلرز وغیرہ کے خلاف وقتاً فوقتاً کاروائیاں کرتے ہیں تاہم یہ مسئلہ ضلعی انتظامیہ کی عارضی کاروائیوں کے ذریعے قابو میں نہیں لایا جا سکا اور مسئلے کے مستقل و دیرپا حل کیلئے کل وقتی نظام کی ضرورت تسلسل کیساتھ محسوس کی جا رہی ہے۔

اب جبکہ فوڈ سیفٹی اتھارٹی سے متعلق قانون کو مزید بہتر بناتے ہوئے اتھارٹی کو وسیع اختیارات کیساتھ ایک فعال و متحرک خود مختار ادارے کی حیثیت دینے کیلئے صوبائی حکومت کی کاوشیں جاری ہیں عوام شدت سے اس ادارے کو ایکشن میں دیکھنے کے متمنی ہیںیہاں یہ ذکر ضروری ہے غیر معیاری اشیائے خور دو نوش کی فروخت کا سلسلہ اس قدر مضبوطی سے اپنے پنجے گاڑھ چکا ہے اور اس سلسلے سے جڑے دکاندار و تاجر حضرات اپنے فرائض و ذمہ داریوں سے اس حد تک غافل ہو چکے ہیں کہ اصلاح احوال فوڈ سیفٹی اتھارٹی کیلئے بہت بڑا چیلنج ہو گا ۔