بریکنگ نیوز
Home / کالم / عالمگیر آفریدی / پاک افغان اعتماد سازی کی ضرورت

پاک افغان اعتماد سازی کی ضرورت


پاکستان اور افغانستان کے درمیان ماضی کی طرح اس وقت بھی سب سے بڑا مسئلہ ایک دوسرے پر بہت سارے معاملات میں اعتماد نہ کرنا ہے۔ وزیر اعظم نواز شریف کی ہدایت پر پاک افغان بارڈر کھولنے کے احکامات سے پتا چلتا ہے کہ وہ افغانستان سے تعلقات کو کتنی اہمیت دیتے ہیں اور اس ضمن میں وہ کس حد تک جانے کیلئے تیار ہیں پاکستان نے ہر کڑے وقت میں افغان عوام کی دلجوئی اور ساتھ دینے کے علاوہ ان پر جب بھی سخت وقت آیا ہے تو سب سے پہلے آگے بڑھ کر انکو سہارا دینے کی کوشش کی ہے سوویت جارحیت اور اندرونی خانہ جنگیوں سے لیکر امریکی جارحیت کے سترہ سالہ عرصے میں افغانوں کا جنگ وجدل اوربدامنی سے بچنے کا اگر کوئی ٹھکانہ رہا ہے تو وہ پاکستان کی سرزمین ہے جہاں آج بھی لاکھوں افغان مہاجرین موجود ہیں حیرت ہے کہ جب سے پاکستان نے پاک افغان بارڈر پر حفاظتی باڑ تعمیر کرنے اور دو طرفہ آمد ورفت کو ریگولیٹ کرنیکا فیصلہ کیا ہے تب سے افغان حکام اس فیصلے پر مسلسل نہ صرف تنقید کر رہے ہیں بلکہ بعض حکام کی جانب سے ڈیورنڈ لائن کی حقانیت کے بارے میں بھی ابہامات پیدا کرنے کی مذموم کوششیں کی جا رہی ہیں جنکا مقصد بھارتی خوشنودی کے علاوہ اور کچھ نہیں ہے در اصل یہ وہی عناصر ہیں جنہیں نہ تو پاکستان کی ترقی اور استحکام ہضم ہو رہا ہے اور نہ ہی یہ عناصر بھارت کی ناراضگی کی قیمت پر پاکستان کیساتھ افغانستان کے دو طرفہ تعلقات کی بہتری چاہتے ہیں حقیقت یہ ہے کہ پاکستان کی جانب سے 32روز تک پاک افغان بارڈر کی بندش کے نتیجے میں عام افغانوں کو ان 32دنوں میں جس ذہنی۔

جسمانی،معاشی اور نفسیاتی کرب سے دوچار ہونا پڑا ہے اسکااحساس ان عام افغانوں کو ہی ہو سکتا ہے جو خود یا جن کے عزیز واقارب اس صورتحال سے گزرے ہیں اس درد وکرب اور اقتصادی نقصانات کا افغان حکمران اسلئے اندازہ لگانے سے قاصر ہیں کیوں کہ ان کا نہ تو اپنے روزگار اورمعاشی ضروریات کیلئے پاکستان پر کوئی انحصار ہے اور نہ ہی وہ اپنے سستے علاج معالجے اور اپنے بچوں کی بہتر تعلیم کیلئے پاکستان کے محتاج ہیں انہیں یہ سہولیات چونکہ یورپ اور امریکہ سمیت بھارت میں باآسانی دستیاب ہیں اور خاص کر بھارت کی جانب سے افغان حکمرانوں اور وہاں کی ایلیٹ کلاس کو علاج ، تعلیم ‘ کاروبار اور سیر وسیاحت کیلئے چونکہ خصوصی مراعات حاصل ہیں اسلئے پاک افغان بارڈر کی بندش یا پھر پاکستان اور افغانستان کے تعلقات میں تلخی اور تناؤ کبھی بھی افغان حکمرانوں کا مسئلہ نہیں رہا ہے بلکہ اس کا نزلہ بالعموم افغان عوام پر ہی گرتا رہا ہے۔اس پس منظر کو مدنظر رکھتے ہوئے پچھلے دنوں جب برطانیہ کی میزبانی میں پاکستان اور افغانستان کے درمیان لندن میں دو طرفہ غلط فہمیوں کے خاتمے اور باہمی اعتماد سازی کی بحالی کے لیئے وزیر اعظم پاکستان کے خارجہ امور کے مشیر سرتاج عزیز اور افغان صدر کے سلامتی کے مشیر حنیف اتمر کے درمیان بات چیت ہوئی تو اس سے یہ امیدپید اہوچلی تھی۔

کہ پچھلے کچھ عرصے سے پاکستان اور افغانستان کے درمیان رابطوں کی جو برف جمی ہوئی ہے شایدوہ کسی حد تک پگھلنا شروع ہوجائے گی لیکن اس ملاقات کے بعدسے اب تک کوئی مزید پیش رفت نظر نہیں آئی ہے جسے پاک افغان تعلقات کی بحالی کیلئے نیک شگون ہرگز قرار نہیں دیا جا سکتا ہے عام تاثر یہ تھاکہ افغان حکومت32دن سے بند پاک افغان بارڈر کھولے جانے کا نہ صرف پرجوش خیر مقدم کرے گی بلکہ پاکستان کے اس مثبت طرز عمل کے جواب میں معطل رابطوں اور سرد مہری کے خاتمے کیلئے بھی کوئی عملی قدم اٹھائے گی لیکن ہنوز دلی دور است کے مصداق افغان حکمران تاحال بھارتی سحر اور دباؤ سے نکلنے کیلئے تیار نہیں ہیں افغانستان نے گزشتہ دنوں اپنی روایتی سردمہری اور بھارت کے زیر اثر ہونے کا ثبوت گورنر اقبال ظفر جھگڑا کے دورے کے موقع پر بھی کیا افغانستان کے موجودہ سیٹ اپ میں بالا دست طبقے کا پاکستان مخالف مائنڈ سیٹ ہی در اصل دونوں برادر پڑوسی ممالک کے تعلقات میں بڑی رکاوٹ ہے جب تک یہ مائنڈ سیٹ تبدیل نہیں ہوگا یا پھر اس مائنڈ سیٹ کا حامل یہ مخصوص طبقہ اقتدار سے محروم نہیں ہوگاتب تک پاک افغان تعلقات کے بارے میں کسی بڑی تبدیلی کی آس لگانا خود کو دھوکہ دینے کے مترادف ہوگا۔