بریکنگ نیوز
Home / کالم / بینکنگ اور معیشت

بینکنگ اور معیشت


کسی بھی موجودہ معاشی نظام میں بینکوں کی جو اہمیت ہے اس سے انکار ممکن نہیں ہماری پیاری مسلم لیگ ن سے قبل بینکوں کی صورتحال کچھ بہتر تھی اور بینکوں کے قومیانے سے قبل تو بینکوں کے ذریعے ہی ساری معیشت چلتی تھی بینک لوگوں سے رقمیں لیتے ان کو منافع دیتے اور اس منافع میں ہر قسم کی لالچ کو سامنے رکھتے چونکہ مسابقت کا دور تھا اس لئے ہر بینک لوگوں کو بچت کی ترغیب دیتے اور لوگ اپنی پس انداز ارقوم کو بجائے گھڑوں میں بند کرکے مٹی میں دبانے کے اسے بینک میں جا کر رکھ دیتے جس پر بینک کاروبار کرتے ہر بینک منافع کی رقم میں زیادہ سے زیادہ دلچسپی پیدا کرتا یوں ان بینکوں کے اوپر جو ٹیکس بنتے وہ حکومت کی معاشی ضروریات کو پورا کرتے ۔ بینکوں نے چھوٹی چھوٹی بچتوں پر بھی لوگوں کو اکسایا جیسے حبیب بینک کی ایک اشتہاری مہم میں بزرگ کہتے کہ میرا بینک ہے، عورت کہتی میرا بینک ہے اور بچہ کہتا میلا بھی تو ہے۔یہاں تک کہ آپ دس روپے سے بھی اپنا اکاؤنٹ کھلو اسکتے تھے اور سو روپے پرباقاعدگی سے بینک منافع دیتے تھے اس بات نے لوگوں میں بچت کا شعور اجاگر کیا اور بینکوں کو زیادہ سے زیادہ ڈیپازٹ ملنے لگے پھر ایک دور آیا کہ ہر معاشی یونٹ کو قومی دھارے میں ڈال دیا گیا یہ جانتے ہوئے کہ ہمارے سیاست دان کس قدر ایماندار ہیں۔

( سیاست دانوں نے اپنی ایمانداری کی وجہ سے اپنے سارے ان پڑھ ووٹربینکوں اور قومیائے گئے اداروں میں گھسیڑ دیئے) نتیجہ یہ ہوا کہ سیاست دانوں نے بینکوں سے قرض لینا شروع کر دےئے اور ان قرضوں کو خرچ کرنے کے بعد بینکوں کو ٹھینگا دکھا دیا اس میں اشرافیہ کا کوئی بھی طبقہ مستثنیٰ نہیں تھا جس کے جو ہاتھ لگا اس نے بینکوں سے اڑایااگر کوئی تجارت پیشہ تھا تو اس نے اپنی تجارت کے اضافے کیلئے قرض لیا اور نقصان دکھا کر بینک کو رقم کی واپسی سے انکار کر دیاحکومت کیونکہ ان تاجروں اور وڈیروں کی تھی اور بھینس بھینس کی بہن ہوتی ہے اس لئے قرضوں کی معافی کا پلک جھپکتے ہی انتظام ہو جاتا اگر کوئی بڑا زمیندار ہے تو اس نے اپنی جائیداد کے بدلے میں زرعی قرضہ لیا اور اسکی فصل کو سیلاب بہا کر لے گیا یا خشک سالی نے اسکی فصلوں کو تباہ کر دیا اس لئے اس کو بھی قرض معاف کر دیا گیایوں بینکوں کی لٹیاڈبو دی گئی اس کے بعد ایک معاشی دور ایسا آیا کہ بینکوں کو نجی شعبے کے حوالے کرنے کے پروگرام بنے ان میں بھی عوام سے زیادہ حکومتی اہلکاروں کے فائدے کو مد نظر رکھا گیا جس کے نتیجے میں کوئی بینک اتنی سی بولی پر سرمایہ دار کے حوالے کیا گیا کہ جس سے دس گنازیادہ بینک کی اپنی جائیداد تھی یا بینک کے ڈیپازٹ سے آدھی سے بھی کم رقم سے بینک کو نجی کمپنیوں یا افراد کے حوالے کر دیا گیا ادھر جو بینک سرکار کے اختیار میں تھے یا جو مختلف صوبوں کی حکومتوں نے اپنی خاطر بنائے۔

ان میں بھی لوٹ سیل لگی رہی ادھر بچتوں کو بینک میں رکھنے کا عمل اتنا پیچیدہ کر دیا گیا کہ چھوٹی بچت والا کوئی شخص اپنی رقم کو بینک کے پاس لے جانے کا سوچ بھی نہیں سکتاآپ کو اپنا کھاتہ کھلوانے کیلئے ایک ضامن کی ضرورت ہے جس کا کھاتہ اس بینک میں پہلے سے ہو پھر آپ ایک بڑی رقم کے علاوہ کسی رقم سے اپنا کھاتہ کھلوا بھی نہیں سکتے اس کا نقصان یہ ہوا کہ لوگوں کا بچتوں کو بینکوں میں جمع کروانے کارحجان ہی ختم ہو گیا اب بینکوں کے پاس رقوم اکٹھا کرنے کا کوئی ذریعہ نہ رہا تو حکومت نے اپنے اداروں پر پابندی لگائی کہ وہ اپنے بجٹ کی رقوم کو حکومتی بینکوں میں ہی رکھ سکتے ہیں یوں نجی بینکوں میں رقوم جمع ہونے کا سلسلہ بھی ختم ہو گیا ادھر سرکاری اہلکاروں کو حکم ہوا کہ آپ کی تنخواہیں بینک میں ہی جائیں گی اب سرکاری بینک میں صورتحال یہ ہے کہ میری اپنی بچت سے وہ کاروبار کر رہا ہے اور منافع کمارہا ہے اور میں اپنے چیک پر حکومت کو اپنی تنخواہ یا پنشن لینے کے لئے چیک پر سات روپے ٹیکس دے رہا ہوں اسکے علاوہ بینک جو میرے پیسے پر کاروبار کر کے منافع کمارہا ہے وہ مجھ سے 2016-17 میں اب تک 1940.03 روپے وصول کر چکا ہے اس میں ود ہولڈنگ ٹیکس اورچیک کیش کروانے کا ٹیکس شامل ہے جسکی حد ہمارے معیشت دان وزیر خزانہ نے پچاس ہزار روپے رکھی تھی مگر اب بغیر بتائے اسے واپس لے لیا گیا ہے میں حیران ہوں کہ ایک سرکاری پنشنر ہونے کے ناطے مجھے پنشن بینک سے ہی سے وصول کرنی ہے اور اپنی جمع شدہ پونجی پربینک کو جرمانہ بھی دینا ہے ن لیگ کے پہلے دور میں ہم سرچارج عزیز کو دعائیں دیا کرتے تھے اور اب ہماری دعاؤ ں کا رخ اسحاق ڈار کی طرف موڑ دیا گیا ہے اسلئے کہ وزیر اعظم اور ڈار صاحب قریبی رشتہ دار ہیں ۔