بریکنگ نیوز
Home / اداریہ / اہم فیصلے عملدرآمد سے محروم نہ رہیں

اہم فیصلے عملدرآمد سے محروم نہ رہیں


خیبرپختونخوا حکومت سائنوہائیڈرو کمپنی کیساتھ آج 610میگاواٹ پن بجلی کے منصوبوں کا معاہدہ کر رہی ہے وزیر اعلیٰ کا کہنا ہے کہ وہ چارہزار میگاواٹ بجلی کے منصوبوں پر کام اپنے دور ہی میں شروع کرینگے اس سب کے ساتھ صوبے کی حکومت نے مکمل چھوٹے ہائیڈل منصوبے مقامی کمیونٹی کے حوالے کرنے کی ہدایت بھی کی ہے اس کے ساتھ ہی صوبائی حکومت نے صوبے کے تمام ایم ٹی آئی ہسپتالوں میں شام کی او پی ڈی شروع کرنے کے احکامات بھی جاری کئے ہیں ان احکامات کی روشنی میں شام کے اوقات میں ڈاکٹروں کی ادارہ جاتی پریکٹس کے ساتھ20روپے کی چٹ پر مریضوں کا معائنہ کیاجائیگا صوبائی حکومت نے یونیورسٹی ٹاؤن کی رہائشی جائیداد کے کمرشل استعمال کی اجازت بھی دی ہے صوبائی دارالحکومت میں سبزی پھلوں کے بڑھتے نرخوں کا نوٹس بھی لیا گیا ہے تادم تحریر مرغی اور ٹماٹر کے نرخوں میں معمولی کمی ریکارڈ بھی کی گئی ہے پن بجلی کی پیداوار ہو یا عوامی مفاد کا کوئی بھی منصوبہ اس سے متعلق حکومت کا احساس اور ادراک قابل اطمینان ہی ہے تاہم وزیر اعلیٰ خود ترقیاتی عمل میں تاخیر کے بعض محرکات کی وضاحت بھی کر رہے ہیں۔

وہ وقت کے ضیاع‘ لاگت میں زیادتی‘شفافیت کے فقدان‘کرپشن اور وسائل کے ضیاع کے باعث ترقیاتی منصوبوں کا بروقت فائدہ نہ پہنچنے کا احساس بھی کرتے ہیں تاہم اس ساری صورتحال کے تناظر میں نگرانی کے موثر مکینزم کی تیاری پر توجہ نہیں دی جارہی جس طرح کسی بیماری کی محض تشخیص کافی نہیں ہوتی اسی طرح صرف مسئلے کا ادراک کسی صورت کافی قرار نہیں دیا جا سکتا صوبے میں ترقیاتی منصوبوں اور حکومت کے تمام احکامات پربروقت عملدرآمد کیلئے ذمہ دار باڈیز کی تشکیل ضروری ہے اس میں ہرعلاقے کی سطح پر عوامی نمائندے بھی ہوں اور سرکاری حکام بھی یہ باڈیز ہر حکومتی فیصلے پر عملدرآمد سے متعلق باقاعدگی کے ساتھ رپورٹ کی پابند ہوں اور کسی تاخیر پر کاروائی منصوبے کی تکمیل پر نہیں بلکہ ماہانہ بنیادوں پر ہونی چاہئے۔

موسم بدلنے کیساتھ لوڈشیڈنگ

وطن عزیز میں موسم بدلتے ہی بجلی کی لوڈشیڈنگ کا دورانیہ بڑھنے کی شکایات عام ہوگئی ہیں ہمارے رپورٹر کے مطابق بعض علاقوں میں بجلی بندش کا سلسلہ پندرہ پندرہ گھنٹوں پر محیط ہے خیبرپختونخوا میں بجلی کے تقسیم کار ادارے پیسکو کے ترجمان کا کہناہے کہ بجلی کی بندش گرمی سے قبل تاروں کی تبدیلی اور گرڈ سٹیشنوں کی مرمت کا نتیجہ ہے گرمی کے آغاز پر ہی بجلی سے متعلق شکایات وقت کے ساتھ شدت کی نشاندہی کرتی ہیں۔ دوسری جانب حکومت مسلسل اس بات کی یقین دہانی کراتی ہے کہ لوڈشیڈنگ2018ء میں ختم ہو جائیگی اب جبکہ موسم گرما شروع ہونے جارہاہے ذمہ دار دفاتر کو بجلی کی طلب اور رسد کے تناظر میں ٹھوس اور جامع حکمت عملی تیار کرنا ہوگی تاکہ بھاری یوٹیلٹی بل اداکرنے والے صارفین نہ تو نادہندگان کی غلطی پر سزا پائیں نہ ہی سڑکوں پر کوئی احتجاج دیکھنے کو ملے شدت کی گرمی میں غلط ریڈنگ کے ساتھ بھجوائے جانیوالے بلوں پر بھی صارفین کو دفاتر کے چکر کاٹنے سے بچانا ضروری ہے پشاور کی حد تک کمیونٹی کو خود بھی پیسکو کے اہلکاروں کیساتھ تعاون کرنا ہوگا تاکہ مسائل کی شدت کم سے کم ہوسکے۔