بریکنگ نیوز
Home / انٹرنیشنل / روس ایک ترمیم پسند طاقت ہے جویورپ سمیت دنیا کیلئے خطرے کا باعث ہوگی،امریکی سینیٹر

روس ایک ترمیم پسند طاقت ہے جویورپ سمیت دنیا کیلئے خطرے کا باعث ہوگی،امریکی سینیٹر


واشنگٹن۔ امریکی سینیٹر نے روس کو ترمیم پسند پاور قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ روس ایک ترمیم پسند طاقت ہے جو پورے یورپ سمیت دنیا کے لیے خطرے کا باعث ہوگی، پیوٹن کی سرحدوں کا جواب کیسے دیاجائے ہمارے دور کے چیلنجز میں سے یہ ایک بنیادی چیلنج ہے، غیر ملکی میڈیا کے مطابق امریکی سینیٹ کی خارجہ تعلقات کمیٹی کے رکن سینیٹر بین کارڈن نے کہا کہ میرے نقطہ نطر کے مطابق روس ایک ترمیم پسند طاقت ہے جو پورے یورپ کے لیے مزید اور دنیا کے لیے عام طور پر خطرے کا باعث ہوگی’۔بین کارڈن نے کہا کہ ‘روس نے ہمارے انتخابات کو کمزور اور مداخلت کیا اور پیوٹن کی سرحدوں کا جواب کیسے دیاجائے یہ ہمارے دور کے چیلنجز میں سے یہ ایک بنیادی چیلنج ہے’۔دوسری جانب امریکی سینٹرل کمانڈ کے سربراہ جنرل جوزیل ویٹل نے دی ہاس آرمڈ سروسز کمیٹی کو بتایا کہ روس، افغانستان میں اپنے اثر رسوخ کو بڑھانے کی کوشش کررہا ہے۔جنرل ویٹل نے تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ ٹرمپ انتظامیہ، افغانستان کے حوالے سے امریکی پالیسی پر نظرثانی کر رہی تھی۔

جو اس بات کا مظہر ہے کہ کیونکہ رواں ماہ کانگریس کے درجنوں اجلاس اور تھینک ٹینکس افغانستان اور پاکستان کی صورت حال پر بحث میں مصروف رہے۔سینیٹ میں بحث کے دوران سینیٹر کارڈن نے کہا کہ امریکی مفادات، اقدار اور امریکی عوام کے لیے کھلا راستہ ہے اور کہا کہ سرد جنگ روس کے اثر رسوخ کا خاتمہ نہیں تھا جس نے امریکی عوام کو 2016 کے انتخابات میں مداخلت کے ذریعے یاددلایا۔انھوں نے خبردار کیا کہ ‘روس نے ہماری جمہوریت پر حملہ کیا، غیرقانونی جرائم اوریوکرین پر چڑھائی کردی، پیوٹن کا روس اب مغرب کے ساتھ اپنی موجودگی کی کوشش پر بھی غور و فکر رہا ہے۔کانگریس کے رکن روڈنی ڈیوس نے بحث میں حصہ لیتے ہوئے جنرل ویٹل سے پوچھا کہ روس کس طرح کی امداد طالبان کو بھیج رہا ہے؟ اور وہ براہ راست کیسے ملوث ہے؟ اور وہاں پر ہمارے موجودہ تنازعہ کا کیا مطلب ہے؟جنرل نے جواب دیا کہ ‘یہ اندازہ لگانا آسان ہے کہ وہ ہتھیار کی صورت میں امداد پہنچارہے ہیں یا دیگر چیزیں بھی ہوسکتی ہیں۔ میں پھر یہی سمجھتا ہوں کہ یہ ممکن ہے۔

میرا ماننا ہے کہ روس اس دنیا میں ایک بااثر حصہ دار بننے کی کوشش کررہا ہے’۔جنرل ویٹل نے اعتراف کیا کہ روس کو افغانستان کے حوالے سے کچھ تشویش بھی ہے کیونکہ وہ روس کی سابق ریاستوں کے قریب ہے جس کو وہ ان کے زیراثر لانے کے لیے غور کرر ہے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ ‘لیکن ہم افغانستان میں جس چیز کی تکمیل کے لیے کچھ عرصے سے کوشش کررہے ہیں اس کے لیے عام طور پر میں ان کی پہنچ اور طالبان کے ساتھ ان کے تعلق کے مددگارہونے پراتفاق نہیں کرتا۔اوہایوسے ری پبلکن پارٹی کے کانگریسی رکن براڈ وینسٹر نے روس کے اثر ورسوخ کی وجہ سے امریکا کی افغانستان کے حوالے سے پالیسی پر پڑنے والے اثرات پر سوال کیا۔