بریکنگ نیوز
Home / کالم / کہیں ہوگی جگہ مل بیٹھنے کی

کہیں ہوگی جگہ مل بیٹھنے کی


گذشتہ کل کے مقابلے میں آج کا شاعر ایک مختلف زمانے میں سانس لے رہا ہے کل کے شعری منظر نامے میں آج کے حسّی تجربات نے کچھ نئے رنگ بھردئیے ہیں اور شعر کا اظہار اب ابلاغ اور ترسیل کے ان راستوں پر چل پڑا ہے جسے کبھی چوتھی کھونٹ کا سفر کہا جاتا تھا ویسے بھی انسانی رشتوں اور تعلقات کے پیچ در پیچ عمل کی کوکھ سے جنم لینے والی کل کی پر ا سرار کہانی اب چینلز پر بریکنگ نیوز کے ذیل میں رکھی جانے لگی ہے وہ کل تھا جب بازار کا بازارشاعر کے ایک نثری فقرے کی کاٹ سے بھی ڈر جا تا تھا ’’ غنچہ ذرا میرا قلمدان تو لانا‘‘ اور آج کا سہما ہوا شاعرسر بازار پکار رہا ہے
بھوک تیرے رخِ رنگیں کے فسانوں کے عوض
چند اشیائے ضرورت کی تمنائی ہے
تہذیبوں کی شکست و ریخت اور اقدار کا تلپٹ ہونا سماج کیساتھ ساتھ شعر کے فکری نظام کیساتھ بھی کھلواڑکرتا ہے یہ میر کا زمانہ تھا جب میر کی تہذیب نے میر سے یہ کہلوا کر اس کو چپ کرایا تھا کہ
جو اس شور سے میر روتا رہے گا
تو ہمسایہ کاہے کو سوتا رہے گا
مگر پھر زمانہ بدلا اور زمانے کے اطوار یوں بدلے کہ اب کے شور ہمسائے سے اٹھااور ایسا ۔۔کہ اس شور، شراور آزار نے ’’روئے زمیں تمام لیا‘‘تب غالب جیسا اذّیت پسند بھی گھبرا کر کہہ اٹھا کہ
بے در و دیوار سا اک گھر بنایا چاہئے
کوئی ہمسایہ نہ ہو اور پاسباں کوئی نہ ہو
تاہم یہ ایک لمحاتی کیفیت اور شاعرانہ خیال تھا ورنہ اسے تو چپ سے وحشت تھی وہ تو آواز کا رسیا تھا
مرتا ہوں اس آواز پہ ہر چند سر اڑ جائے
جلّاد سے لیکن وہ کہے جائیں کہ ہاں اور

اس سیدھی سادی کہانی میں بگاڑ اس وقت پیدا ہوا جب اچانک ایک دن ہمسائے کے آنگن میں سفّاک چپ نے ڈیرے ڈال لئے اور یہ سانحہ ایک دن میں تو نہیں ہوا مگر اتنے غیر محسوس طریقے سے ہوا کہ سرطان کی طرح اس کی خبر تب ملی جب بہت دیر ہو چکی تھی چپ کی ، خاموشی کی اپنی ایک دنیا ہے ایک سائیکی ہے کبھی کوئی بڑی اور بری خبر بھی چپ کرا دیتی ہے کبھی کسی حسین چہرے کو دیکھنے کی سرشاری میں چپ لگ جاتی ہے مگر سب سے خوفناک چپ لاتعلقی،عدم توجہی اور بیگانگی کی گود میں پرورش پاتی ہے مانو یہ اپنی ذات کے اندر سمٹنے کا شاخسانہ ہے چپ کے اسی اذیت ناک موسم میں مکالمہ کا راستہ بند ہو جاتا ہے اور خود کلامی کا چلن عام ہو جاتا ہے اپنے گلے میں بانہیں ڈال کر خود سے باتیں کرنے والے جانتے ہیں کہ خودکلامی کے اپنے سو دکھ ہوتے ہیں ایسے میں کوئی بھی سچا شاعر اصحاب کہف کے یملیخا کی طرح اپنے کیسے میں پرانے سکے ڈال کر بازارجانے کی بجائے اجتہاد کی راہ اپناتے ہوئے کچھ نئے افق تلاشتا اور تراشتا ہے۔اب یہ ماضی قریب کا عہدتھا جب روایتی غزل کو اردو شعر کی آبرو،وحشی صنف اور اسی قبیل کے خطابات کے شور اور روایتی غزل کے ان گنت طرفداروں کی موجودگی میں غزل کے معانی کو یکسربھول کرایک طرحدار شاعرفراز نے ایک نعرہ مستانہ بلند کر دیا
اب تیرا ذکر بھی شاید ہی غزل میں آئے
اور سے اور ہوئے درد کے عنواں جاناں

پھرسب نے دیکھاکہ غزل کے گنگا جمنی سنگم پر جس نئی سرسوتی نے اپنے ہونے کا احساس دلایا اس کے خدوخال فراز کے زمانے نے ہی ۱بھارے سنوارے گویا کل جو میرنے ایک تہذیبی رکھ رکھاؤ کیساتھ کہا تھا
حال بد‘ گفتنی نہیں لیکن
تم نے پوچھا تو مہربانی کی
اور غالب نے اپنے مزاج کی شوخی کے ساتھ کہا تھا
سمجھ کے کرتے ہیں بازار میں وہ پرسشِ حال
کہ یہ…کہے… کہ سرِ رہگذر ہے کیا کہئے
تو فراز نے سکہ رائج الوقت کو کھنکھناتے ہوئے دو ٹوک لہجہ اپنایا
یہ کیا؟؟ کہ تم بھی۔۔۔سرِ راہ حال پوچھتے ہو
کبھی ملو ہمیں ! بازار کے علاوہ بھی
اب بازار کے علاوہ ملنے پر فراز نے اپنا حال دل اسے کس کس طرح سے سنایا ہو گا نہ صرف اسے بلکہ کس کس کو کس کس طرح سے سنایا ہوگا اس کا راز داں صرف وہ شخص ہوسکتا ہے جو اس کے ان گنت رت جگوں میں شریک رہ کر فراز کی غالب شناسی کے مزے لوٹتا رہا
یاد کر وہ دن کہ ہر اک حلقہ تیرے دام کا
انتظارِ صید میں اک دیدہ بے خواب تھا
اور فراز کے اس دکھ سے بھی آگاہ تھا
دل بَہلتا ہے کہاں انجم و مہتاب سے بھی
اب تو ہم لوگ گئے دیدۂ بے خواب سے بھی

اسلئے جب وہ ایک اناری شام شاعری کی معبد میں داخل ہوا تو اسے اپنے لئے ایک نیا ڈکشن یوں تراشنا پڑا کہ دیدۂ بے خواب کو ایک جزو کی بجائے کل بنا دیا
دل تمہارے چاہنے کو اس قدر بے تاب ہے
زندگی جس کے سبب اک دیدۂ بے خواب ہے
یہ آواز شفیق کی ہے جو بڑی سہولت سے کہتا ہے ’’ مرا لہجہ زمانے کی زباں ہے‘‘ مجھے تجسس ہوا کہ آخر شفیق کس زمانے کی بات کر رہا ہے؟ دید�ۂ بے خواب سے معلوم ہوا کہ وہ ایک محبت بھرے دل کیساتھ کٹھور اور احساسِ بیگانگی سے اٹے ہوئے زمانے میں جی رہا ہے جی کیا رہا ہے خود سے بر سرپیکار ہے اپنے آپ سے جنگ کی یہ تصویر یں اس نے دیدۂ بے خواب کی گیلری میں سجائی ہوئی ہیں جنہیں دیکھ کر چیخیں نکل جاتی ہیں اور زندگی بے معنی سی لگنے لگتی ہے
میں زندہ ہوں تو سہی…پر مرا وجود نہیں
سو کا روبارِ شب و روز میں خسارہ ہو
اب کہانی کے خدوخال کچھ کچھ واضح ہونے لگے ڈاکٹر محمد شفیق ایک کھلنڈرا،خوش طبیعت،بات بے بات قہقہے لگانا والا ہر محفل کی جان اور پہلی ملاقات ہی میں اجنبیوں کو اپنی دوستی کے حصار میں قید کرنے والا ایک البیلا اور من موہنا پریتم سہی مگر دیدۂ بے خواب کی دہلیز پر قدم دھرنے سے پہلے یہ سب کوسوں پرے چھوڑ آتا ہے۔کل سلیم چشتی کے دربار میں حاضری دینے والا بھی اپنی ساری آن بان اور طنطنہ جوتوں کے پاس گٹھری میں باندھ کر ننگے پاؤں آگے بڑھتا تھااب معلوم ہوا کہ ڈاکٹر محمد شفیق اور شاعر شفیق دو مختلف شخصیتیں ہیں اسکی روزمرہ زندگی کا لابالی پن اسکی تخلیقی وارداتوں کے پاگل پن سے خاصے فاصلہ پر ہے اس خیال کے آتے ہی ایک اور البیلے شاعرمنور رانانے میرے کان میں سرگوشی کی’’ بہت روتے ہیں،وہ، جن کو لطیفے یاد ہوتے ہیں ‘‘ میں نے جوابِ آن غزل میں اپنا شعر پڑھ دیا
دوست دن بھر تو میں ہوتا ہوں سبھی کا لیکن
آپ بن جاتا ہوں میں اپنا عدو رات گئے
اب شاعر شفیق کے شعر کے فکری منظر نامہ کو نئے سرے سے سمجھنے کیلئے دیدۂ بے خواب کی خود کلامی سے مکالمہ کرنے لگتا ہوں۔تو کئی پرتیں کھلتی چلی جاتی ہیں میں نے دید�ۂ بے خواب کی ہمسفری میں اپنی تنہائی کو خوب مہکایا بھی ہے اور گرمایا بھی ہے اس لئے پورے اعتماد سے میں یہ کہہ سکتا ہوں کہ اس شعری نگار خانے کی ساری تصویریں شفیق کے اپنے خوابوں نے ترتیب دی ہیں خواب جو جاگتی آنکھوں کے ہیں جو روتی اورکرلاتی آنکھوں کے ہیں،۔ جن میں ۔۔تیرے کوچے کو چلے خواب میں ہم۔۔۔۔کوئی سویا ہو تو ایسا جاگے ۔۔۔۔جہاں ہمسایہ کی چپ سے لا تعلقی کی راہ نہیں اپنائی بلکہ اس کے قریب جاکر اسے دھیمے لہجے میں سمجھایا ہے کہ دیکھواس دورِ پر آشوب میں ہمارے دکھ سانجھے ہیں
احساس کے سفر میں اکیلے ہیں آپ بھی
دیکھو مجھے کہ میں بھی کسی کا نہ ہو سکا
اس کا حل دوری اور بیگانگی نہیں ایک دوسرے کے قریب آنا ہے مل بیٹھنا ہے تاکہ روٹھے ہوئے مہرباں موسموں کو مل کر منا سکیں۔ اگر اس زمیں سے تمہیں شکایتیں ہیں تو میرے ساتھ آؤ ہم مل کر تلاش کرتے ہیں کیونکہ میرے دوست مجھے یقیں ہے ۔
کہیں ہوگی جگہ مل بیٹھنے کے
فلک اتنا زمینوں سے بھرا ہے