بریکنگ نیوز
Home / کالم / حبیب ا لرحمان / سی پیک کے اصل خالق۔ ماؤ اور سٹالن

سی پیک کے اصل خالق۔ ماؤ اور سٹالن

پاک چین اقتصادی راہداری (سی پیک) کا ایک سب سے اہم مثبت پہلو یہ ہے کہ اسے محض تجارتی معاشی شاہراہ نہیں بلکہ خطے کے ممالک کے درمیان پائیدار امن کی شاہراہ بھی کہا جا سکتا ہے اور رکن ممالک کے درمیان تنازعات کے حل کی راہ ہموار کی جا سکتی ہے۔حقیقت یہ ہے کہ یہ صرف سرمایہ کاری کا منصوبہ نہیں ہے بلکہ اسے کہیں زیادہ نمایاں اہمیت حاصل ہے جو علاقہ کے ممالک کے درمیان اقتصادی فوائد میں شراکت داری سے ملکوں کا ایک دوسرے پر انحصار بڑھانے کا ذریعہ بنے گا، اس کے تزویراتی اثرات بھی برآمد ہوں گے، چین سی پیک کے تحت پاکستان میں سرمایہ کاری کا حجم پہلے ہی 46 ارب سے بڑھا کر 57 ارب ڈالر کرچکا ہے۔ 57 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کا یہ منصوبہ خطے کے ملکوں کو باہمی اقتصادی فوائد کے حامل وسیع تر معاشی و تجارتی اتحاد میں جوڑنے کے علاوہ دفاعی اور تزویراتی اشتراک میں منسلک کرنے کی صلاحیت بھی رکھتا ہے۔ سی پیک کی تزویراتی اہمیت اس حقیقت میں پوشیدہ ہے کہ قدیم شاہراہ ریشم کی بحالی اور توسیع سے نہ صرف پاکستان بلکہ خطے کے دیگر ممالک کیلئے بھی ترقی و خوشحالی کے نئے راستے کھلیں گے،تاریخ شاہد ہے کہ قدیم شاہراہ ریشم کو پشاور،افریقہ حتیٰ کہ یورپ تک خشکی کے راستے تجارت کے اہم ذریعہ کی حیثیت حاصل رہی ہے، حتیٰ کہ دو سو سال قبل سلطنت برطانیہ عظمیٰ نے اپنے مفادات کیلئے سمندری تجارت کے راستے تعمیر کئے۔ دوسری جنگ عظیم میں ایٹمی ہتھیاروں کے استعمال کے ذریعہ برطانیہ عظمیٰ کی جگہ لینے کے بعد ان سمندری راستوں کا کنٹڑول امریکہ نے سنبھال لیا۔

امریکہ کے مفادات تقاضا کرتے ہیں کہ اس کی زیادہ سے زیادہ تجارت سمندری راستوں سے ہو جو اس کے اپنے کنٹرول میں ہیں سمندری تجارت میں امریکہ کی محتاجی سے تجارت کے لئے چین نے سڑکوں ٗ شاہراہوں اور ریلوے کے نیٹ ورک کا جال بچھانے کا فیصلہ کیا اس فیصلے کے تحت پاک چین اقتصادی راہداری (سی پیک) کے ذریعے پاکستان کے راستے 32سو کلو میٹر کی شاہراہیں تعمیر کرنے کا منصوبہ بنایا گیا اس شاہراہ کے ذریعے چین نے خشکی کے راستے عالمی تجارت کا ایک نیا راستہ کھولا ہے اس نئے راستے کو قدیم شاہراہ ریشم کی متبادل سڑک کہا جاسکتا ہے اس سے علاقائی اور بین الاقوامی تجارت کی نئی راہیں کھلنے کے وسیع مواقع سامنے آئیں گے یہ بھی ہوگا کہ نئی شاہراہ ریشم (سی پیک) کے ذریعے تجارت سے بین الاقوامی تجارت کے ایسے نئے راستوں سے ہوجو امریکہ کے زیر کنٹرول ہیں کھولنے کی امریکی صلاحیت میں کمی آئے گی سی پیک چاروں طرف خشکی سے گرے چینی صوبہ سنکیانگ کے دارالحکومت ارومچی اور کاشغر کو پاکستان کی بندرگاہ گوادر سے ملائے گی سی پیک صرف پاکستان تک محدود نہیں ہے بلکہ پاکستان سمیت 64ملکوں کو مربوط کرے گی‘گوادر میں پاکستان اور چین نے دفاعی اہمیت کی حامل بحری سہولتوں کا ایک مشترکہ نیٹ ورک قائم کیا ہے دوسری طرف چینی صوبہ سنکیانگ یوریشیا کاگیٹ وے ہے جس کی سرحدیں منگولیا ٗکرغزستان ٗروس ٗ بھارت ٗ قازقستان ٗ پاکستان ٗ افغانستان اور تاجکستان سے ملتی ہیں سنکیانگ کا دارالحکومت ارومچی چین سے یورپ جانے والی مال بردار ٹرینوں کے جنکشن کے طور پر سامنے آیا ہے‘ گزشتہ دو سال کے دوران 328مال بردار ٹرینیں ارومچی سے یورپ اور وسطی ایشیا کے لئے روانہ ہوئی ہیں خشکی کے راستے تجارت کا یہ ربط آج کا تخلیق نہیں ہے بلکہ 1950ء میں چیئرمین ماؤزے تنگ اور روس کے مرد آہن مارش سٹالن کے درمیان اس کے تصور پر اتفاق ہوا تھا۔

ٗ ان دونوں رہنماؤں کے درمیان سنکیانگ اور وسطی ایشیا کے درمیان ریلوے اور سڑک کے پل تعمیر کرنے پر اتفاق ہوا تھا لیکن سٹالن کی موت کے بعد یہ منصوبہ بھی موت کی نیند سلادیا گیا چین نے ’’ون بیلٹ ون روڈ‘‘ پالیسی کے تحت منصوبے پر کام تیز کیا اور وسط ایشیا کے ساتھ ریل رابطہ مکمل تصور کیا ’’ ون بیلٹ ون روڈ‘‘ پلان میں پاکستان کو شامل کرنے کے لئے چین نے سی پیک کے تمام منصوبوں پر نظر ثانی کی ہے ابتداء میں 33ملکوں نے سی پیک میں شمولیت کی خواہش ظاہر کی تھی لیکن اب وزیر اعظم نوازشریف کے بقول ان ملکوں کی تعداد 55ہوگئی ہے ایران کے چابہاراور گوادر کے درمیان قریبی تجارتی روابط قائم کئے جاسکیں چابہار کی بندرگاہ کو سڑک کے راستے افغانستان کے چار بڑے شہروں برات ٗقندھار کابل اور مزار شریف سے ملایا جائیگا ترکمانستان اوروسط ایشیا کے دیگر ممالک نے بھی سی پیک میں شمولیت کی خواہش ظاہر کی ہے گوادر کو پاکستان کے راستے وسط ایشیا کے ساتھ چین کی تجارت کے مرکز کی حیثیت حاصل ہوگی سی پیک دراصل قدیم شاہراہ ریشم کی بحالی اور توسیع ہے جسے غیر منقسم ہندوستان کے انگریز حکمرانوں نے ناقابل استعمال بنادیا تھا روایتی طور پر بھارت سے سنکیانگ کیلئے دو راستے کھلتے تھے ایک 600 میل لمبا لداخ روٹ تھا جو کاشغر سے یارقند اور وہاں سے درہ قراقرم کے راستے لداخ کے دارالحکومت لیہہ تک جانا تھا دوسرا روٹ کاشغر سے گلگت تک460میل لمبا روٹ تھا۔ تقسیم ہند کے بعد گلگت آزاد کشمیر کا حصہ بن گیا جس سے وسط ایشیا کے ساتھ لداخ کا رابطہ منقطع ہو گیا چنانچہ وسط ایشیا کیساتھ تجارت کے لئے بھارت کے پاس صرف سمندری راستہ رہ گیا اگر بھارت سی پیک میں شامل ہو جاتا ہے جس کی تجویزہے تو یہ خود بھارت کے مفاد میں ہے۔