بریکنگ نیوز
Home / اداریہ / شفاف اور دو ٹوک مؤقف

شفاف اور دو ٹوک مؤقف


پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے سربراہ میجر جنرل آصف غفور کا کہنا ہے کہ پاکستان پر اکسی وار پر یقین رکھتا ہے‘ نہ ہی خطے میں کشیدگی چاہتا ہے، پاکستان سعودی عرب اور ایران کیساتھ اچھے تعلقات چاہتا ہے، مسئلہ کشمیر اور جوہری پروگرام پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوسکتالندن کے پاکستانی ہائی کمیشن میں میڈیا کو بریفنگ میں انکا یہ بھی کہنا ہے کہ جنرل راحیل شریف کی تقرری پاکستانی ریاست کا فیصلہ ہے، ڈی جی آئی ایس پی آر یہ بھی کلیئر کرتے ہیں کہ پانامہ کیس کا جو بھی فیصلہ آیا، فوج سمیت سب کو قبول ہوگا اس سے اگلے روز وزیراعظم نواز شریف کا کہنا ہے کہ پاکستان اور چین مضبوط سٹریٹجک شراکت دار ہیں اور سی پیک سے خطے کے عوام ایک دوسرے کے قریب آئینگے‘ ادھر دفتر خارجہ کے ترجمان نفیس ذکریا اپنے خصوصی انٹرویو میں کہتے ہیں کہ پاکستان مسئلہ کشمیر پر مذاکرات کی بحالی کیلئے امریکی ثالثی کی پیشکش کا خیر مقدم کرتا ہے انکا یہ بھی کہنا ہے کہ بھارت دوسرے ممالک کے مصالحتی کردار کی پیشکش کو اسلئے رد کرتا ہے کیونکہ وہ خطے میں امن نہیں ۔

بلکہ اپنی بالادستی رکھنے کا خواہشمند ہے‘ پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کا بیان ،دفتر خارجہ کے ترجمان کا انٹرویواور خود وزیراعظم کی بات چیت اس سب میں پاکستان کاموقف بالکل واضح ہے پاکستان ایک آزاد اور خودمختار ریاست ہے، اسکی پالیسیاں وسیع تر قومی مفاد میں ہی تشکیل پاتی ہیں جہاں تک کشمیر پر پاکستان کے موقف کا تعلق ہے تو اس پر خود اقوام متحدہ کی قرار دادیں ریکارڈ پر موجود ہیں یہ بات بھی ریکارڈ کاحصہ ہے کہ بھارت ان قراردادوں کی روشنی میں کشمیری عوام کے حق خود ارادیت کو تسلیم کرنے کی بجائے نہتے شہریوں پر ظلم وستم کے پہاڑ توڑ رہا ہے اس ظلم وجبر میں انسانی حقوق کے احترام سے متعلق عالمی اداروں کے قوانین کی دھجیاں بھی بکھیری جارہی ہیں ایسے میں وقت اور حالات کا تقاضا ہے کہ پاکستان کے موقف کو سمجھتے ہوئے عالمی برادری بھرپور سپورٹ فراہم کرے تاکہ خطے میں امن کے ساتھ معاشی استحکام ممکن ہوسکے۔

افسروں کیلئے نیا کیڈر

خیبرپختونخوا حکومت نے صوبے میں افسروں کیلئے نیا کیڈر متعارف کرانے کی منظوری دی ہے، پراونشل پلاننگ سروس کے نام سے قائم ہونیوالے کیڈر کے افسروں کا انتظامی دفتر پی اینڈ ڈی ہی ہوگا اس نئے کیڈر میں گریڈ 17سے 20تک کے 70سے زائد افسر کام کریں گے کسی بھی ریاست میں پائیدار ترقی ساؤنڈ منصوبہ بندی سے جڑی ہوتی ہے، برسرزمین صورتحال اس بات کی شاہد ہے کہ ہماری منصوبہ بندی میں اکثر پراجیکٹس تکنیکی مہارت اور دیرپا ثمرات کیلئے سٹڈی سے عاری ہی ہوتے ہیں، صوبائی حکومت کی جانب سے پلاننگ سروس کیڈر قابل اطمینان ضرور ہے تاہم اس کا فائدہ مند ہونا اس کیلئے ذمہ داریوں اور اختیارات کے درست تعین سے مشروط ہے، پلاننگ صرف اس صورت فائدہ مند ثابت ہوسکتی ہے جب یہ موجودہ اور آنیوالے وقت کی ضروریات کے مطابق ہو اس میں انفرادی طورپر کسی کو نفع پہنچانا مقصود نہ ہو، یہ اسی صورت ممکن ہے جب منصوبہ ساز ہر قسم کے پریشر سے آزاد اور خودتکنیکی مہارت سے لیس بھی ہوں، وہ منصوبے فریم کرنے کے ساتھ ان کی تشکیل کے تمام مراحل کی نگرانی بھی کریں تاکہ منصوبہ فائل سے نکل کر بروقت عملی صورت اختیار کرسکے۔