بریکنگ نیوز
Home / کالم / آصف نثار / محفل سب رنگ

محفل سب رنگ

ہمارے ہاں محافل کاجمنا کوئی نئی یا انوکھی بات ہرگز نہیںیہ ہمارے معاشرے کاحسن ہے اب تو محافل بھی کمزورپڑتی جارہی ہیں کیونکہ نئی نسل بیچاری ا سکی لذت سے آشناہی نہیں ‘جہاں کہیں دو چار دوست اکٹھے ہوتے ہیں تو ایک دوسرے کیساتھ بات کرنے کی بھی فرصت نہیں ہوتی سب ہی اپنے اپنے موبائل پر جھکے ہوتے ہیں اور سوشل میڈیا کے دانشور اور فلاسفر بنے رہتے ہیں یوں محافل کارنگ پھیکا پڑتا جارہاہے جو سنجیدہ محفلیں منعقدبھی ہوتی ہیں یہ بھی ہمارے ہاں یک رنگی ہی ہوتی ہیں کہیں علمائے دین بیٹھ کر دین ودنیا کے مسائل زیر بحث لارہے ہوتے ہیں تو کہیں دانشور حضرات کی موشگافیاں بکھر رہی ہوتی ہیں ،شعراء حضرات محافل مشاعرہ سے خود کو گرماتے ہیں تو سیاسی کارکنان باہمی مکالمہ کے ذریعے دلوں کابوجھ ہلکا کرتے ہیں گویا ایک وقت میں آپ صرف ایک ہی قسم کی محفل سے لطف اندوز اور فیض یاب ہوسکتے ہیں لیکن کبھی اگر ایک ایسی محفل میں جائیں جہاں دیر تک بیٹھ کر علم و آگہی کی تشنگی دور کرنے کاموقع ملے تو کیاہی کہنے ،کچھ اسی قسم کی محفل سب رنگ اس روز ہمارے ممدوح میجر عامر کے خوبصورت گوشہ سکون نیساپور میں سجی ہوئی تھی جس کے روح رواں طویل علالت کے بعد صحت یاب ہونیوالے میجرعامر تو تھے ہی انکے ساتھ ہمارے ہمیشہ مسکراتے رہنے والے برادر کبیرناصر علی سید بھی تھے دونوں کیلئے اس محفل کے سجانے کاسہرا برادرم گل شرف خان کے سر جاتاہے جو ہیں تو ایک کاروباری شخصیت مگر ہمیشہ علمی محفلوں کی تلاش میں رہتے ہیں۔

اور اسکے لئے کوہ ہمالیہ سرکرنے سے بھی دریغ نہیں کرتے پشاور میں انکی چوپال اب رفتہ رفتہ صحافیوں ‘دانشوروں اور ادباء وشعراء کا مرکزبنتی جارہی ہے ایسا لگتاہے کہ اس سلسلے میں وہ میجر عامر سے بہت زیادہ متاثر ہیں خیر انہوں نے میجر عامر کی صحت یابی اور ناصر علی سید کو صدارتی ایوارڈ ملنے کی خوشی میں ایک محفل سجانے کاارادہ کرکے میجر عامرکو اپنے ہی گوشہ سکون میں مہمان بنانے کی خواہش کااظہار کرکے پھر انکو آمادہ کرنے کی ذمہ دار ی ہم پر ڈال دی جب یہ تجویز میجر صاحب کے گوش گزار کی گئی تو انہوں نے کہاکہ یہ تو ایسے ہوگا کہ جیسے میں آپکا مہمان بن کر آپکے گھرآؤ ں اور اپنے ساتھ کھانا بھی لیتا آؤں مگر ہم نے انکو یہ کہہ کرقائل کرہی لیا کہ نیساپور آپکی نہیں ہم سب کی اپنی جگہ ہے خیر اس محفل میں شرکت کیلئے جب پہنچے تو پتہ چلاکہ حسب معمول میجر صاحب نے سب رنگوں کو اکٹھا کرکے منفردمحفل سجانے کی روایت برقرار رکھی ہے اوریہ انہی کا خاصا ہے ایک طرف علمائے کرام کی نمائندگی کیلئے مولانامحمد طیب موجودتھے تو ساتھ ہی کالم نگاروں کی نمائندگی کیلئے جمیل مرغز بھی آئے ہوئے تھے صحافت و تجزیہ کاری کی حاضر ی کے لئے قیصر بٹ اور عقیل یوسفزئی کو بھی موجودپایا عقیل کے متعلق تو کیا خوب کہا گیاکہ لوگ تو شب بیداری کرتے ہیں یہ صاحب دن بیدار کرتے ہیں کاروباری اور تجارتی برادری کی نمائندگی کے لئے گل شرف خان کافی تھے ماہرین تعلیم کی نمائندگی میجرصاحب کے قریبی عزیز نے کی جبکہ سیاسی ،عسکری،انٹیلی جنس امورکے لئے میجرعامر ہی کافی تھے۔

یو ں ایک متنوع محفل سجی ہوئی تھی اس تقریب کی دو خاص باتیں تھیں پہلی یہ تھی کہ اس کاانعقادمیجر صاحب کی لاڈلی پوتی کے نام پر تعمیر ہونے والے ہنہ باغ میں ہوا یو ں اس باغ کاافتتاح بھی ہوگیا دوسر ی یہ کہ میجر صاحب پہلی مرتبہ اپنے ہی گوشہ سکون میں مہمان بنے ہوئے تھے مگر وہ بھلا کہاں پیچھے رہنے والے تھے ا س لئے خاصا اہتما م انہوں نے بھی کررکھا تھااس دوران جو بحث ہوئی جس طریقے سے بزرگوں نے ایک دوسرے کے دوستانہ لتے لئے ‘میجر عامر نے محر م راز درون میخانہ بن کر جو حقائق بیا ن کئے ،مولانا محمد طیب نے اسلام اور پاکستان کے دفاع کے حوالے سے چلائی جانے والی مہم کا ذکرکیا ،دیگر شرکائے محفل نے جس دلچسپ پیرائے میں اپنے اپنے تجربا ت و مشاہدات بیان کئے اس نے محفل کو چارچاند لگاتے ہوئے ا سے حقیقی معنوں میں محفل سب رنگ بناکررکھ دیا پورا دن کیسے گذرا ،کچھ پتہ ہی نہ چلا ہم نے اپنی چھٹی خوب منائی میجرعامر کاطویل غیر حاضر ی کے بعداب دوبارہ متحر ک ہونا آنے والے دنوں میں کئی قسم کے نئے امور زیر بحث لانے کاسبب بنے گا کیونکہ سیماب صفت یہ شخص آرا م سے بیٹھنے والا ہرگز نہیں اب کے بار اس کاارادہ پاکستانیت جگانے کی مہم کیساتھ ساتھ ملک میں مفاہمانہ مہم چلانے کا بھی ہے تاکہ رواں سال وطن عزیز کے لئے سعدثابت ہوسکے دعاہے کہ و ہ اپنی دونوں مہمات میں ہمیشہ کی طرح کامیاب رہیں۔