بریکنگ نیوز
Home / اداریہ / ہڑتالی ملازمین کیخلاف کاروائی

ہڑتالی ملازمین کیخلاف کاروائی


محکمہ صحت نے سرکاری ہسپتالوں میں ہڑتال کرنے والے ملازمین کے احتجاج کو غیر قانونی قرارد یتے ہوئے ہڑتالی ملازمین کے خلاف کاروائی کا حکم دیا ہے میڈیا رپورٹس کے مطابق ملازمین کو برخاست کرنے کیلئے فہرستوں کی تیاری شروع کردی گئی ہے جبکہ درجنوں ایمپلائز کی تنخواہیں کاٹ دی گئی ہیں، ملازمین کے مطالبات سے متعلق صوبائی حکومت کا کہنا ہے کہ گزشتہ دو سال میں محکمہ صحت کے گریڈ 1سے 15تک کے ملازمین کے سکیل 2مرتبہ اپ گریڈ کئے گئے جبکہ کلاس فور ایمپلائز کو 3ارب روپے تک کی مراعات دی گئیں ‘ محکمہ یہ بھی کہتا ہے کہ کلاس فور ملازمین ہیلتھ پروفیشنلز کی کیٹگری میں نہیں آتے، ہیلتھ ڈیپارٹمنٹ کے مراسلے میں یہ بھی کہاگیا ہے کہ غریب اور نادار مریضوں کی پرواہ نہ کرنیوالے ملازمین کیخلاف سخت کاروائی کی جائے، دریں اثنا گزشتہ روز پشاور کے لیڈی ریڈنگ ہسپتال میں ہڑتال کے دوران ملازمین نے میڈیکل ڈائریکٹر پر حملہ کرتے ہوئے انہیں زخمی کردیا۔

محکمہ صحت میں کسی بھی کیڈر کے ملازمین کی ہڑتال سے براہ راست مریض متاثر ہوتے ہیں، ہڑتالوں کے دوران بروقت طبی امداد نہ ملنے پرا ستطاعت رکھنے والے مریض تو نجی ہسپتال یا کلینک جاسکتے ہیں اصل مسئلہ ان غریبوں کا ہے جو ہسپتالوں کے برآمدوں میں ننگے فرش پر کراہتے رہتے ہیں، دوسری جانب ضروری یہ بھی ہے کہ ملازمین کی جانب سے پیش ہونیوالے مطالبات پر چاہے وہ محکمہ صحت ہو یا کوئی بھی اور ڈیپارٹمنٹ بروقت کاروائی اور بات چیت کے ذریعے معاملات نمٹاتے ہوئے احتجاج کی نوبت ہی نہ آنے دی جائے، اسی طرح کسی بھی شہر میں احتجاج کے دوران اہم سٹرکیں بلاک ہونے پر شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے، احتجاج سے قبل ہی اگر اس بابت کوئی مستقل ضابطہ طے کرلیاجائے تو عام شہری بڑی مشکل سے بچ سکتے ہیں، ایک جانب ملازمین اور عوام جبکہ دوسری طرف ذمہ دار حکام اور عوامی نمائندوں کو اس ساری صورتحال میں اپنی ذمہ داریوں کا احساس کرنا ہوگا۔

عملی اقدامات کی ضرورت

صوبائی دارالحکومت پشاور میں ہر بارش کے بعد سوریج سسٹم کے بلاک ہونے کی شکایت ریکارڈ کی جاتی ہے معمولی آندھی اور بارش کے ساتھ بجلی کی ترسیل کا نظام متاثر ہونے سے شہریوں کی مشکلات کا ذکر ہوتا ہے بجلی کی بندش کے ساتھ پانی کی سپلائی رک جانے سے صورتحال مزید اذیت ناک ہونے کا تذکرہ بھی کیا جاتا ہے ان سب کے باوجود اصلاح احوال کے لئے عملی اقدامات پر نا تو کوئی توجہ دی جاتی ہے نہ ہی اس ضمن میں ہونے والے خوش کن اعلانات پر عمل درآمد کا کوئی شیڈول دیا جاتا ہے کیا لوڈشیڈنگ کے ہاتھوں اذیت سے گزرنے والے شہریوں کو موسم گرما میں بارشوں اور آندھی طوفان کے دوران خدمات کی فراہمی کے لئے اقدامات کاوقت ابھی نہیں آیا مرکز اور صوبے کے ذمہ دار اداروں کو اصلاح احوال کے لئے سرجوڑنا ہونگے ورنہ لوگوں کے منتخب قیادت سے گلے شکوے مزید بڑھ جائیں گے اس بات کا احساس خود منتخب قیادت کو بھی کرنا چاہئے۔