بریکنگ نیوز
Home / کالم / سجاد حیدر / حکمت عملی کے تعین اور عمل درآمد کی ضرورت

حکمت عملی کے تعین اور عمل درآمد کی ضرورت


وہ چوبیس ، پچیس سال کا جوان تھا، بہت سے دیگر ہم عمروں کی طرح اس نے بھی گزر اوقات کیلئے کسی صاحب کی ملکیت مہران گاڑی کو دیہاڑی پر بطور ٹیکسی کار چلانے کا فیصلہ کیا ہو گا جبھی وہ پشاور کے مصروف بورڈ بازار کے قریب سروس روڈ کے کنارے حیات آباد فیز چھ کیلئے سواریوں کی تلاش میں تھا یہاں یہ بتاتا چلوں کہ فیز چھ سے بورڈ اور بورڈ سے فیز چھ تک درجنوں کی تعداد میں ٹیکسی کاریں چلائی جارہی ہیں ایک گاڑی میں چار مسافربٹھائے جاتے ہیں اور ان سے 30روپے فی کس کرایہ وصول کیا جاتا ہے یہ سروس مقامی آبادی کیلئے مفید ثابت ہوئی ہے اور روزگار کا اچھا ذریعہ ہونے کی وجہ سے کثیر تعداد میں ٹیکسی ڈرائیورز اس سے استفادہ کر نے لگے ہیں مسئلہ یہ ہوا ہے کہ وقت کیساتھ ساتھ اس روٹ پر مسافر ٹیکسی کاروں کی تعداد میں اضافہ ہوتاجا رہا ہے اور ان پیلی ٹیکسی کارز کیساتھ ساتھ جنکے ڈرائیورز کے پاس باقاعدہ پر مٹ موجود ہیں بہت سی ایسی چھوٹی گاڑیاں بھی جو قانوناً ٹیکسی کار کی تعریف پر پوار نہیں اترتیں اس روٹ پر مسافر ڈھونے لگی ہیں اس سلسلے نے ٹریفک کے مسائل کو جنم دیا ہے اور خصوصاً بورڈ بازار کے آس پاس جہاں مزدا بسیں اور ویگنیں بھی مسافروں کو لیتی اور اتارتی ہیں مذکورہ ٹیکسی گاڑیوں کی موجودگی ٹریفک پولیس اہلکاروں کیلئے درد سر بن گئی ہے لہٰذا ٹریفک پولیس اہلکار اس مقام پر مذکورہ قانونی و غیر قانونی ٹیکسی گاڑیوں کے ڈرائیورز کے ساتھ سختی سے پیش آنے لگے ہیں تو بات ہو رہی تھی اس جوان کی جو بورڈ بازار کے قریب سواریوں کی تلاش میں تھا جلد ہی اسے مسافروں کی مطلوبہ تعداد میسر آگئی( جن میں راقم بھی شامل تھا)اوروہ گاڑی سٹارٹ کر کے منزل مقصود کی جانب بڑھا ابھی وہ چند میٹر ہی آگے گیا ہو گا کہ اسے ایک ٹریفک پولیس وارڈن نے گاڑی سائیڈ پر لگا نے اور باہر آنے کا اشارہ دیا۔

اس نے بادل نخواستہ گاڑی سائیڈ پر لگائی اور باہر نکل کر ٹریفک وارڈن کی منت سماجت کرنے لگا ’’ گاڑی کا مالک کوئی اور ہے میں دو وقت کی روٹی کمانے کیلئے اسے دیہاڑی پر چلاتا ہوں مجھے جانے دو ، پرچہ نہ کرو،‘‘ ٹریفک وارڈن اسے مسلسل کہ رہا تھا کہ وہ منت سماجت کرنے کے بجائے اپنا لائسنس ، گاڑی کے کاغذات اور گاڑی کو بطور ٹیکسی چلانے کا پرمٹ دکھائے لیکن وہ اس مطالبے کی تعمیل کے بجائے اپنی غریبی کا رونا رو رو کررعایت مانگ رہا تھا اس دوران میں اور گاڑی میں سوار دیگر افراد بھی باہر نکل آئے تاکہ درمیان کا کوئی راستہ نکالا جا سکے،صورتحال یہ تھی کہ نہ تو اس شخص کے پاس ڈرائیونگ لائسنس تھا نہ گاڑی کے کاغذات اور نہ ہی پرمٹ،وہ بس منت سماجت کے زور پر گلو خلاصی چاہتا تھا۔ ٹریفک وارڈن نے ہمیں مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ جس ڈرائیورکے پاس نہ لائسنس ہو نہ پرمٹ اور نہ گاڑی کے کاغذات قانونی طور پر تو میں اسے کم ازکم پانچ ہزار روپے چالان کرنے کا پابند ہوں‘‘ ہم نے ٹریفک وارڈن سے رعایت برتنے کی سفارش کرڈالی ، ٹریفک وارڈن نے اس سفارش اور ڈرائیور کی منت سماجت دیکھتے ہوئے کہا کہ’’ اصولاً تو تمہارا بھاری چالان کر کے اُس وقت تک تمہاری گاڑی کو تھانے میں بند کرنا چاہئے جب تک تم اس کے کاغذات لے کر نہیں آتے لیکن تمہارے ساتھ گزارا کرتے ہوئے میں تمہیں صرف 300روپے کا پرچہ دیتا ہوں ،امید ہے تم اس سزا کو یاد رکھتے ہوئے اس گاڑی کو ٹیکسی کے طور پر چلانے کے حوالے سے قانونی تقاضے بشمول لائسنس و پرمٹ کا حصول یقینی بناؤ گے اور آئندہ گاڑی کے کاغذات بھی گاڑی میں ساتھ رکھو گے ‘‘ یہ کہہ کر ٹریفک وارڈن نے چالان فارم بھرنا شروع کر دیا۔

اس ٹیکسی ڈرائیور نے جب یہ دیکھا کہ چالان یقینی ہو گیا ہے تو اس کالہجہ یک لخت بدل گیا ،اس کے الفاظ لاوا اگلنے لگے’’ تم لوگ غریبوں کو سکون سے مزدوری کرکے اپناپیٹ پالنے نہیں دیتے، تم میری جائز روزی کے راستے میں رکا وٹیں ڈال رہے ہو، تم چاہتے ہو کہ میں بھی بندوق اٹھاؤں اور لوگوں کو لوٹنا شرع کر دوں، ٹھیک ہے اگرتم میرے راستے میں روڑے اٹکاؤ گے تو میں یہی راستہ اختیار کرلوں گا‘‘ ، آس پاس موجود لوگ اسے لعنت ملامت کرتے ہوئے سمجھانے لگے لیکن وہ کوئی دلیل ماننے کو تیار نہ تھا بہر حال اس نے 300روپے جرمانہ بھرا اور ہم وہاں سے روانہ ہوگئے ، منزل مقصود پر پہنچتے تک وہ ہمارے کان کھاتا رہا ’’ ہم اسے یہ سمجھانے کی بھر پور کوشش کرتے رہے کہ’’ ٹریفک وارڈن کی تمہارے ساتھ کوئی ذاتی دشمنی نہیں ہے ،تم بے شک اس گاڑی کو ٹیکسی کے طور پر چلاو لیکن اس سے پہلے تمام قانونی لوازمات کی تکمیل کرلو لیکن وہ اپنا قصور ماننے اور اپنے موقف سے پیچھے ہٹنے کیلئے تیار ہی نہ تھا۔اس ڈرائیور کی سوچ جس مائنڈ سیٹ کی عکاسی کر رہی تھی وہ کن وجوہات کا شاخسانہ ہے؟ ان وجوہات کے خاتمے اور اس انتہائی منفی مائنڈ سیٹ کو مثبت راہ پر ڈالنے کیلئے کیا کچھ کرنا ضروری ہے؟ یہ اہم ترین سوال فوری توجہ جوابی حکمت عملی کے تعین اور اس پر تیز تر عمل درآمدکا تقاضا کر رہاہے۔