بریکنگ نیوز
Home / اداریہ / شام پر امریکی حملہ

شام پر امریکی حملہ

ڈونلڈ ٹرمپ کے صدر بننے کے بعد امریکہ نے پہلی مرتبہ یک طرفہ کاروائی کرتے ہوئے 60 ٹام ہاک کروز میزائلوں سے شامی ائیر بیس پر حملہ کیا ہے میڈیا رپورٹس کے مطابق حملے میں فوجی اڈے کیساتھ کئی طیارے تباہ ہوئے جبکہ 4شامی فوجیوں سمیت 9 افراد کے ہلاک ہونے کی اطلاعات بھی ہیں امریکی حملے کے ساتھ جہاں روس اور امریکہ آنے سامنے آگئے ہیں وہیں دنیا کے دیگر ممالک بھی اپنی اپنی پالیسیوں کیساتھ دو واضح گروپوں میں تقسیم ہوگئے ہیں میڈیا رپورٹس کے مطابق روس نے امریکہ کیساتھ فوجی معاہدہ معطل کرتے ہوئے اپنا بحری بیڑا بھی روانہ کردیا ہے روس کی جانب سے امریکہ کو خطرناک نتائج کی دھمکی بھی دی گئی ہے امریکہ کا کہنا ہے کہ اسے روسی ردعمل سے حیرانی نہیں بلکہ مایوسی ہوئی ہے اس سارے منظرنامے میں پاکستان نے تمام فریقوں کو شام کے مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنے کا کہا ہے دفتر خارجہ کے ترجمان نفیس ذکریا کا کہنا ہے کہ پاکستان کیمیائی ہتھیاروں کے کنونشن کا رکن اور ان کے استعمال کا مخالف ہے شام کی بدلتی صورتحال پر جاری بیان میں دفتر خارجہ کا کہنا ہے کہ شام کے عوام نے بے پناہ مصائب کا سامنا کیا ہے لہٰذا ان کے مسائل کا حل تلاش کیا جانا چاہیے اس میں کوئی دوسری رائے نہیں کہ شام کے شہریوں کو ہر صورت ریلیف ملنی چاہیے اور امن کے ساتھ بحالی کے لئے عالمی ادارے کو اپنا بھرپور کردار ادا کرنا چاہیے ۔

دنیا کو یہ بات بھی مدنظر رکھنا ہوگی کہ شام کی نئی صورتحال معیشت کے حوالے سے بھی اثر انداز ہوگی شام پر امریکی حملے کے ساتھ ایشیائی سٹاک مارکیٹیں مندی کا شکار ہوگئی ہیں تیل کی قیمتوں میں کمی اور ڈالر کی قدر میں اضافہ بھی نوٹ ہوا ہے اس ساری صورتحال کا تقاضا ہے کہ عالمی برادری شام میں مزید تباہی اور اس کے دنیا کی معیشت پر مرتب ہونے والے منفی اثرات کو روکنے میں فوری نوعیت کے فیصلوں پرآئے یہی پاکستان کا بھی اصولی موقف ہے جو دفتر خارجہ کی جانب سے بدلتے منظرنامے میں بیان کی صورت سامنے آیا ہے عالمی برادری کو یہ بات سامنے رکھنا ہوگی کہ اسکی خاموشی صورتحال کو مزید بگاڑ کی جانب لے جائے گی۔

ریپڈبس کے لئے تعمیراتی کام؟

پشاور ریپڈ بس پراجیکٹ کے لئے درکار ضروری عملے کی بھرتی قابل اطمینان ہے جو معاملات کو تیزی سے آگے بڑھانے میں معاون ثابت ہوگی صوبائی حکومت نے پراجیکٹ کے تعمیری پلان میں معمولی ترامیم کی منظوری بھی دی ہے اس کوریڈور کا پہلا پیکج چمکنی سے بالاحصار دوسرا امن چوک جبکہ تیسرا حیات آباد ہوگا وزیراعلیٰ ڈیزائن میں تبدیلی کو پراجیکٹ کی تکمیل میں تاخیر کا سبب نہ بنائے جانے کی ہدایت بھی کرچکے ہیں ریپڈ منصوبے کے تعمیراتی کام کے حوالے سے یہ بات قابل توجہ ہے کہ گنجان آباد اور مصروف ترین راستوں پر ہونے والا تعمیراتی کام کس طرح کیا جائے کہ شہر کی پہلے سے انتہائی درجہ متاثر ٹریفک مزید سست روی کا شکار نہ ہو تعمیراتی ملبہ راستوں کوبلاک نہ کر پائے نہ ہی سیوریج کے پہلے سے انتہائی متاثر نظام کو مزید خراب کرسکے تعمیراتی مشینری کا آپریشن کسی رکاوٹ کاسبب نہ بنے اس مقصد کے لئے ذمہ دار اداروں کو موثر پلاننگ کرنا ہوگی جس میں کنسٹرکشن کا کام رات کو بھی جاری رکھا جائے اور تعمیراتی کام کے دوران ٹریفک کے لئے روٹس اس طرح سیٹ کئے جائیں کہ لوگوں کو تکلیف نہ ہو اگر آج اس سب کے لئے منصوبہ بندی نہ ہوئی تو ماضی کی طرح بہتری کا یہ پراجیکٹ عوام کیلئے مشکلات کا سبب بن جائے گا۔