بریکنگ نیوز
Home / اداریہ / تیسرے عالمی ٹکراؤ کا خطرہ؟

تیسرے عالمی ٹکراؤ کا خطرہ؟


شام پر امریکی حملے کیساتھ تیزی سے بدلتی صورتحال میں ذرائع ابلاغ تیسری عالمی جنگ کاخطرہ ظاہر کرنے لگے ہیں، کشیدگی میں اضافے کیساتھ روسی بیڑہ بحیرہ اسود روانہ ہوگیا ہے جبکہ خود امریکہ کے کئی شہروں میں مظاہرے بھی ہوئے ہیں روس نے امریکہ کیساتھ فضائی معاہدہ منسوخ کرتے ہوئے دھمکی دی ہے کہ شام پر دوبارہ حملہ ہونے کی صورت میں امریکہ کو پہلے روس کا سامنا کرنا پڑے گا دریں اثناء امریکہ نے شام کیخلاف نئی اقتصادی پابندیاں بھی عائد کردی ہیں جبکہ برطانوی وزیرخارجہ نے ماسکو کا دورہ بھی منسوخ کردیا ہے، فلوریڈا میں نیوز کانفرنس کے دوران وزیر خزانہ نے بتایاکہ اقتصادی پابندیوں سے متعلق تیار ہونیوالی نئی فہرست انتہائی موثر ہوگی، بدلتی صورتحال پر جمعیت علماء اسلام کے صد سالہ اجتماع میں بھی بات ہوئی، قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف سید خورشید شاہ اور چیئرمین سینٹ رضا ربانی کا کہنا ہے کہ مسئلے کی نوعیت کے پیش نظر پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس بلانے کیساتھ او آئی سی کی میٹنگ بھی طلب کی جائے، اس حقیقت سے صرف نظر ممکن نہیں کہ شام کی صورتحال عالمی سطح پر تناؤ کیساتھ معیشت کے حوالے سے بھی اثرات کی حامل ہے۔

جس کا اثر بالآخر ہر متاثرہ ریاست کے شہریوں کیلئے بوجھ کی صورت اختیار کرے گا، وقت کا تقاضا ہے کہ او آئی سی کیساتھ اقوام متحدہ اور عالمی برادری کے رکن ممالک اپنے طورپر بھی معاملات کو منوانے میں کردار ادا کریں،پاکستان میں بھی حکومت کو واضح موقف اپنانے کیلئے مشاورت کا راستہ اختیار کرنا ہوگا تاکہ ایک بہتر حکمت عملی کے تحت کام ہوسکے وقت آگیا ہے کہ پوری اسلامی دنیا اپنی آواز کو موثر انداز میں اٹھائے اگر آج صورتحال کا پوری طرح احساس وادراک نہ کیاگیا تو آنیوالے کل کو اتنا بڑا بگاڑ پیدا ہوسکتا ہے جس کو برسوں میں بھی نہیں سنواراجاسکتا۔

لوڈشیڈنگ اور بجلی چوری

توانائی بحران کے خاتمے اور بجلی کی پیداوار بڑھانے کے تمام منصوبوں کے باوجود لوڈشیڈنگ حکومت کے اقدامات پر سوالیہ نشان ثبت کررہی ہے، یہ درست ہے کہ توانائی کے منصوبوں پر ماضی میں توجہ دی گئی نہ ہی مستقبل کی ضرورت کا کوئی احساس کیاگیا تاہم غلط یہ بھی نہیں کہ حکومت کے ذمہ دار ادارے اپنے انتظامی امور درست کرنے میں بھی کامیاب نہیں ہوئے، میڈیا رپورٹس کے مطابق پنجاب میں گزشتہ 6ماہ کے دوران 20ارب روپے کی بجلی چوری ہوئی یہی حال دوسرے صوبوں کا بھی ہے، بجلی چوری کی سزالوڈشیڈنگ کی صورت انتہائی مشکل میں بچوں کا پیٹ کاٹ کر بل جمع کرانے والے صارفین کو بھی دی جاتی ہے، اسی طرح ریکوری کی شرح کم ہونے کی ذمہ داری بھی شہریوں پر نہیں ڈالی جاسکتی خراب ٹپکتے ٹرانسفارمر اورلوگوں کے گلے کو چھونے والی لٹکتی بوسیدہ بجلی کی تاریں اور ان کے باعث بجلی کی ترسیل کے نظام میں رکاوٹ بھی صارفین کا مقدر نہیں غلط بل بھی صارفین نہیں بناتے، نہ ہی غلط بل کی اقساط پر ان سے جرمانے وصول کرنا قرین انصاف ہے، بجلی کی پیداوار بڑھانے اور لوڈشیڈنگ ختم ہونے کے خوش کن اعلان پر عمل درآمد کا انتظار کرنے سے پہلے ضرورت انتظامی امور پر توجہ دینے کی ہے تاکہ لوگوں کو ریلیف مل سکے۔