بریکنگ نیوز
Home / کالم / محبت کی کونپلیں اور اُداسی کے کانٹے

محبت کی کونپلیں اور اُداسی کے کانٹے


ہم فراموش کر دیتے ہیں‘ یکسر بھول جاتے ہیں‘ وہ جو بچھڑ جاتے ہیں ہماری یادداشت سے زائل ہوتے جاتے ہیں کہ یہ انسانی خصلت ہے‘ اگر ایسا نہ ہو تو ہم دن رات ماتم کرتے رہیں‘ آہیں بھرتے‘ اپنے ہونٹ چباتے مرنے والوں کے ساتھ زندگی بھرمرتے جائیں‘ ایک طویل فہرست ہے ان کی جو چلے گئے جو کبھی میری زندگی میں رنگ بھرتے تھے‘ مجھے دل و جان سے عزیز تھے اور میں اب اکثر انہیں بھولا رہتا ہوں اور ان میں ایک احمد فراز بھی ہے…کچھ حرج نہیں کہ وہ جو شاعر تو اچھا تھا پر بدنام بہت تھا اسے یاد کرلیا جائے‘ فراز کو اس کے بیشتر ہم عصر ناپسند کرتے تھے‘ اگرچہ ان میں سے بیشتر کی دلی خواہش تھی کہ وہ ایک چھوٹے سے فراز بن جائیں…ان دنوں میں آس پاس نگاہ کیجئے تو شاعروں میں فراز کے کیری کیچر نظر آجائیں گے‘ آپ اس میں وجیہہ اور دل کش شخص کہاں سے لائیں گے‘ وہ شاعری کہاں سے لائیں گے‘ جس کے ہر شعر میں سے محبت کی کونپلیں اور اداسی کے کانٹے پھوٹتے ہیں اور پھر فارسی اور عربی تراکیب پر بھی کمال کا عبور رکھتا ہو‘ ایک زائد المیعاد نقاد ہمیشہ فراز میں کیڑے نکالتے ہیں کہ وہ تو فیض کے کلام اور انداز سے متاثر تھا یہاں تک کہ سگریٹ کی راکھ بھی انہی کی مانند جھاڑتا تھا…نہ کشور ناہید کو کچھ لوگوں نے قبول کیا اور نہ فراز کو…اور مجھ سے ہمیشہ کچھ بہت عزیز دوستوں نے شکایت کی کہ تم ان دونوں کی بہت توصیف کرتے ہو…وہ ایک بُری عورت ہے اور وہ ایک بُرا آدمی…اور میں بہانے نہیں کرتا ہمیشہ کہتاہوں کہ وہ بے شک دنیا کے لئے بُرے ہونگے لیکن میرے لئے بہت اچھے تھے‘ بُرے وقتوں میں کام آنے والے‘ میرا دھیان رکھنے والے…میں کیسے انہیں مطعون کروں! طوطا چشم ہو جاؤں…فراز مجھے فون کرتا ہے کہ تارڑ اکیڈمی ادبیات کے ڈائریکٹر جنرل کیلئے تمہارا نام بھی زیر غور ہے…تم فوراً اسلام آباد پہنچ جاؤ…تو میں کہتا ہوں کہ فراز مجھے تو نوکری سے ہول آتا ہے‘ میں نے آج تک کوئی ملازمت نہیں کی‘ میں بالکل نااہل ہوں تو وہ کہتا ہے…تم میں آگے بڑھنے کی کوئی خواہش نہیں…دیکھ میں بھی تو لوک ورثہ اورنیشنل بک فاؤنڈیشن کی نوکری کرتا رہا ہوں… تم اپنے آپ کو کیا سمجھتے ہو…وہ بہت دن مجھ سے ناراض رہا…خفا رہا…

چالیس زائد برس ہو چکے جب پنڈی کلب میں مجھے شفیق الرحمن اور کرنل محمد خان نے کچھ کھانے پینے کیلئے مدعو کیا تھا…ایسے دو لکھنے والے جن کے نقش پا پر قدم رکھنے سے میں بھی صاحب توقیر ہوا…اور وہاں سے مجھے وقار النساء گرلز کالج کی نائب پرنسپل اٹھا کر لے گئیں کہ ہمارے ہاں مشاعرہ ہے آپ نے شمولیت کرنی ہے اور میں دبے لفظوں میں احتجاج کرتا رہا کہ میں تو شاعر نہیں ہوں لیکن وہ میری ٹیلی ویژن شہرت کی گرفت میں تھیں‘ مجھے لے گئیں….
تب میں پہلی بار احمد فراز سے ملا…وہ میرے برابر کی نشست پر اپنی شہرت کے تکبر میں گم مجھ سے غافل بیٹھا تھا…چونکہ فراز راولپنڈی کے کالجوں کے مشاعروں میں آتاجاتا رہتا تھا اور بیشتر لڑکیوں نے اس کے آٹو گراف حاصل کررکھے تھے اور میں ایک لاہوری پرندہ اتفاقاً ادھر آنکلا تھا اور ان زمانوں میں اس پرندے کی شہرت بھی بہت تھی تو قابل فہم طورپر میرے گرد طالبات کا ہجوم بہت تھا اور تب فراز نے کہا تھا’’ تارڑ یہ میرا جنگل ہے…یہاں شکار مت کرو… اپنے جنگل میں واپس چلے جاؤ…
صبح کی نشریات کے دوران فراز میری خبر رکھتا‘ کبھی حسن عباس رضا کے گھر میں اور کبھی بیگم سرفراز کے ہاں اس سے ملاقات ہوتی رہتی۔
مجھے نثر کے حوالے سے جب تقریباً پندرہ برس پیشتر دوحہ قطر کا لائف ٹائم اچیومنٹ ایوارڈ عطا ہوا جسے ادب کا نوبل پرائز بھی کہا گیا تو وہاں احمد فراز بھی تھا‘ وہ ایک بڑے بھائی کی مانند میرے خوردونوش کے سب معاملات پر نظر رکھتا تھا‘ ہمارے کمرے برابر میں تھے…تب میمونہ میری بیگم بھی اس کی گرویدہ ہوگئی…کہ فراز آپ کا کتنا خیال رکھتا ہے‘ لوگ جانے کیا کیا کہتے ہیں لیکن میں نے اس کی نظروں میں ہمیشہ احترام دیکھا…

جن دنوں اس کی غزل…اگر یہ بات ہے تو بات کرکے دیکھتے ہیں…بہت مقبول ہوئی تو ایک مشاعرے کے اختتام پر اور وہ تب سرخ رو چہرہ فروزاں کئے ہوئے تھا مجھے کہنے لگا مشاعرے کے سامعین میں شاید تم واحد شخص تھے جس نے کور ذوقی کا مظاہرہ کیا…منہ بنائے چپ بیٹھے رہے…تم جیسے سیکنڈ ریٹ نثرنگار کو کیا پتہ کہ بڑی شاعری کیا ہوتی ہے…
’’ فراز…یہ غزل دراصل ایک اندھے کے ہاتھ آجانے والا بٹیرہ ہے اس میں تمہارا کچھ کمال نہیں‘‘

فراز خفا نہیں ہوا‘ کہنے لگا…یہ شاعری کے درمیان بٹیرے کہاں سے آگئے…میں نے کہا فراز خان تقریباً ہر اچھے بُرے شاعر کے ہاتھ میں کبھی نہ کبھی کسی انوکھے اور منفرد قافیہ ردیف کا بٹیرہ آجاتا ہے… کچھ کو تو اندازہ ہی نہیں ہوتا کہ ان کے ہاتھ میں ایک عدد بٹیرہ آگیاہے اور ہ اسے پامال کر کے آگے بڑھ جاتے ہیں اور کچھ یہ جان جاتے ہیں کہ اس میں جان ہے اور وہ اس بٹیرے کی قدر کرتے‘ اسے تھپک کر اس کے پروں کو پیار سے سنوار کر اس کی زمین میں شعر کہتے چلے جاتے ہیں تو تمہارے ہاتھ میں‘ اگر یہ بات ہے تو بات کرکے دیکھتے ہیں کا بٹیرہ آگیا جس کا تم نے خوب فائدہ اٹھایا‘ میں نے جب جیو پر’’ شادی آن لائن‘‘ شروع کیا تو فراز نے مجھے خوب لتاڑا‘ محفلوں میں بیٹھ کر مجھے بُرا بھلا کہا کہ تمہارے مرتبے کا ادیب ایسا گھٹیا پروگرام کرے…نائنوں کی مانند لوگوں کے رشتے کرائے…لعنت ہے تم پر..ایک بار میں نے توجیہہ پیش کی کہ مجھے بھی ذاتی طورپر یہ پسند نہیں لیکن کچھ معاشی مجبوریاں بھی ہوتی ہیں…آج تک کسی میزبان کو اتنا معاوضہ نہیں دیا گیا…میں نے اپنے ٹپکتے پورچ کی مرمت کرالی ہے…

نئی کارخرید لی ہے اور دو چکر امریکہ کے لگا آیا ہوں تو فراز نے باقاعدہ جیب میں سے اپنی چیک بک نکال کر میرے آگے رکھ دی’’جتنا معاوضہ وہ دے رہے ہیں اتنے کا چیک بھرلو اور پروگرام چھوڑ دو‘‘ یہاں تک کہ دلی میں ادیبوں کی سارک کانفرنس کے ایک اجلاس کی صدارتی تقریر کے دوران وہ سامنے والی نشست پر بیٹھا بلندآواز سے کہہ رہا تھا‘‘ تارڑ کی تقریر مت سنو یہ تو’’ شادی آن لائن‘‘ جیسا بے ہودہ پروگرام صرف پیسے کی خاطر کرتا ہے‘‘ اور جب میں اس کی نعرہ بازی سے تنگ آگیا تو میں نے کہا’’ خواتین و حضرات…بے شک میں ایک بے ہودہ پروگرام کرتا ہوں لیکن کم از کم میں اب کے بچھڑے تو شاید کبھی خوابوں میں ملیں‘ جیسے سوکھے ہوئے پھول کتابوں میں ملیں ایسے بچگانہ اوربے ہودہ شعر تو نہیں کہتا‘‘
فراز کا کیا ردعمل تھا‘ یہ ایک اور کہانی ہے…وہ میرا راز داں بھی تھا اور اس نے میرے راز نبھائے… اگرچہ وہ مجھے ایک بزدل شخص سمجھتا تھا…یہ بھی ایک اور کہانی ہے…