Home / کالم / امجد حسین / پشاور شہر کی پہاڑیاں

پشاور شہر کی پہاڑیاں

یہ بات بہت کم لوگوں کو معلوم ہے کہ پشاور شہر پہاڑیوں پر آباد ہے اس بات کو سمجھنے اور ذہن میں اتارنے کے لئے ضروری ہے کہ ہم اپنے تحیل میں پشاور شہر کی موجودہ آبادی ‘مکانات‘عمارات وغیرہ کو نظر انداز کرکے سوچیں کہ اس علاقے کی اونچ نیچ کی نوعیت کی ہے ۔پشاور کی ایک پہاڑی گورگٹھڑی کی پہاڑی ہے یہ پہاڑی شمال کی طرف نشیب میں ہشت نگری کی طرف چلی جاتی ہے اور جنوب میں تھوڑی بہت اونچ نیچ کے ساتھ گنج‘یکہ توت اور سرکی ‘آسیہ کی طرف چلی جاتی ہے مغرب کی طرف یہ زیادہ نشیب میں جاکر قصہ خوانی ‘بازار بزازاں پیپل منڈی اور چوک یادگار کے پاس ختم ہوجاتی ہے۔

دوسری طرف ڈھکی کی پہاڑی ہے جو اندر شہر بازار چوک یادگار ‘قصہ خوانی بازار کے درمیان کھڑی ہے مغرب کی طرف یہ پہاڑی لیڈی ریڈنگ ہسپتال کو اپنی آغوش میں لے لیتی ہے ‘اس وادی میں ڈیرھ سو سال پہلے دریائے باڑہ بہتا تھا دریا کا بہاؤ کم وبیش اسی رخ پر تھا جو آج کل شاہی کٹھہ کا ہے اس دریا کی کئی شاخیں تھیں موجودہ محلہ خداداد کے پاس ایک دوسرے کے ساتھ مل کر شمال کی جانب موجودہ موچی لڑا اور ریتی محلہ میں سے گزر کر کچہری گیٹ کے پاس ہوکر شہر سے باہر جاکر بڈنی دریا میں مل جاتا تھا اس دریا پر ایک پختہ پل تعمیر کیاگیا تھا اب یہ جگہ پل پختہ کہلاتی ہے۔انگریزوں نے اپنے دور حکومت کے دوران دریا کا رخ شہر سے کچھ میل جنوب میں بدل کر موجودہ دریائے باڑہ کے رخ پر ڈال دیاتھا اس کی وجہ تھی کہ سال میں چند بار شدید بارشوں کی وجہ سے دریا میں سیلاب آجاتا تھا اور چوک یادگار اور قصہ خوانی کا علاقہ ایک بڑی جھیل بن جاتا تھا میں نے یہ بات مرحوم سمندر خان سمندر سے سنی تھی کہ ان کے بزرگ کہتے تھے کہ جب باڑہ میں سیلاب آتا تھا تو ڈھکی پر رہنے والے لوگوں کو گورگٹھڑی وغیرہ جانے کیلئے کشتیوں سے یہ جھیل عبور کرنی پڑتی تھی انگریزوں نے دریا کا رخ موڑ دینے کے بعد دریا کے bedکو پختہ کرکے اسے شہر میں سے گندے پانی کے نکاس کا ذریعہ بنا دیا۔جنوری 2017میں پشاور میں قیام کے دوران میں نے ڈھکی کی پہاڑی کی گلیوں میں کچھ وقت گزارا اور ان لوگوں کو یاد کیا جو ڈھکی کے مختلف محلوں میں رہتے تھے ۔بازار بٹیربازاں سے ڈھکی دالگراں کی طرف جائیں تو دائیں ہاتھ پہلی گلی میں انگریزی اخبار خیبر میل کے مالک شیخ ثناء اللہ کا مکان تھا اور بازو کے ایک مکان میں اردو اور فارسی کے جانے پہچانے شاعر پروفیسر نذیر مرزا برلاس رہتے تھے ڈاکٹر صاحب اسلامیہ کالج میں فارسی کے استاد تھے اور مجلّہ خیبر کے اردو سیکشن کے سٹاف ایڈوائزر‘ میں نے برلاس صاحب سے بہت کچھ سیکھا جب میں خیبر کے اردو حصے کا ایڈیٹر تھا۔

دالگر ں کی چڑھائی کے بعد بائیں ہاتھ مڑیں تو وہیں لالہ بششن ناتھ کی حویلی تھی جو اب بھی ہے بششن ناتھ پولیس میں انسپکٹر تھے انہیں بمبئی میں سپرنٹنڈنٹ پولیس کا عہدہ ملا تو وہ اپنے خاندان کے ساتھ بمبئی چلے گئے جانے والوں میں ان کا بیٹا پرتھوی راج بھی تھا جو ہندوستانی فلموں کے ایک انتہائی کامیاب ایکٹر کے طور پر مشہور ہوا راج کپور‘ششی کپور وغیرہ انہیں کے بیٹے تھے یہ سنا گیا ہے کہ کپور خاندان نے جب بھی کوئی نیا مکان بنایا اسکی بنیادوں میں پشاور کی مٹی ضرور ڈالی ۔۔۔جب پاکستان اور ہندوستان کے تعلقات خراب تھے تو وہ لوگ پشاور کی مٹی کابل کے راستے ہندوستان منگواتے تھے جنم بھومی کی کی مٹی بہت کشش رکھتی ہے احمد فراز کے کہنے کے مطابق اس نے راج کپور کو پشاور کی یاد میں آنسو بہاتے دیکھا تھا۔

کپور خاندان کی حویلی سے آگے جائیں تو راستہ بائیں ہاتھ مڑ کر نیچے قصہ خوانی کی طرف اتر جاتا ہے اگر آپ دائیں ہاتھ جائیں وہ وہاں ایک بڑے مکان میں ہمارے پشاور کے مشہور ای این ٹی سرجن اقبال رہتے تھے وہ ایک خوبرو ‘خوش لباس اور خوش اخلاق انسان تھے زندگی نے مہلت نہ دی اور وہ جوانی میں ہی ‘جب وہ خیبر میڈیکل کالج میں پروفیسر تھے ‘راہ عدم کو سدھارے۔

آپ اب یادگاران شہداء کی طرف چلیں تو قصہ خوانی بازار سے کوئی دو سو قدم پہلے دائیں ہاتھ پر ایک گلی ڈھکی حمید خان کی طرف جاتی ہے اس گلی میں بھی پشاور کے چند نامور لوگ رہتے تھے کمیٹی کے نلکے کے پاس ڈاکٹر سراج احمد کا مکان تھا‘ڈاکٹر سراج آج کل کینیڈا میں رہائش پذیر ہیں اور سردیوں کا موسم پشاور میں گزارتے ہیں آپ اسلامیہ کالج میں میرے ہم جماعت تھے ہماری دوستی نصف صدی سے زیادہ عرصے کی ہے اور ابھی تک سرسبز وشاداب ہے۔
کمیٹی کے نلکے کے پیچھے ایک چھوٹے سے مکان میں پشاور کے مشہورعزیزشکاری اپنی والدہ کے ساتھ رہتے تھے وہ مجرد تھے اور عمر بھرشادی بیاہ کے بکھیڑوں میں نہیں پڑے شکار ہی ان کا اوڑھنا بچھونا تھا خدانے ان کو خوش گفتاری کی نعمت سے نوازہ تھا بات کرتے تھے تو ایسے مہذب اور دلآویز لہجے میں کہ لگتا تھا منہ سے پھول جھڑ رہے ہیں وہ اکثر اعلیٰ افسران کے ساتھ شکار کے لئے جاتے ہے کبھی کبھی وہ اکیلے ہی ہفتے دو ہفتہ کے لئے مچھلی کے شکار کیلئے نکل جاتے تھے جب وہ مچھلیاں لے کر لوٹتے تھے تو ڈاکٹر سراج کے کہنے کے مطابق وہ یہ مچھلیاں ہمسائے میں تقسیم کردیتے تھے اسی طرح ایک مرتبہ وہ دریائے سندھ پر نظام پور کے قریب شکار کررہے تھے کہ راہ عدم سے بلاوہ آگیا ان دنوں جنرل فضل حق ہمارے صوبے کے گورنر تھے انہوں نے وہیں ایک اونچے ٹیلے پر عزیز شکاری کا مزار بنوا دیا اب بھی آپ اگر دریائے سندھ پر کشتی رانی کرتے ہوئے نظام پور کے علاقے میں سے گزریں تو عزیز شکاری کا چھوٹا سا سفید مزار دور سے نظر آتا ہے۔

ڈھکی حمید خان میں ہی ذرا آگے ہمارے پشاور کے ایک نامی جرنلسٹ کا مکان تھا سید محمود شاہ رضوی ‘شہباز اخبار کے ریزیڈنٹ ایڈیٹر تھے ان دنوں اخبار کا دفتر کابلی دروازے کے اندر ہوا کرتا تھا میری اردو صحافت کی ابتداء اسی اخبار سے ہوئی میں بین الاقوامی فٹ بال کے بارے میں ایک مضمون رضوی صاحب کے پاس لے گیا انہوں نے پسند کیا اور اخبار میں چھاپ دیا یہ میرے لئے بہت ہی فخر کی بات تھی ۔آئندہ کبھی پشاور کے اور محلوں اور ان کے باسیوں کا ذکر کروں گا۔